سرخ تربوز اور شہلا کی نازک انگلیاں _ افشاں نوید

بیس برس سے کچھ زائد عمر لگتی ہے اس کے ہاتھ انتہائی سخت اور کھردرے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو بولی باجی تربوز بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کو اتارنا آسان نہیں ہوتا۔ کبھی تو میرے ہاتھ زخمی بھی ہوجاتے ہیں میں نے کہا بیٹا تربوز تو سال میں ایک بار ہی اتارتی ہوگی ناں۔بولی اس کی بوائی اس سے بھی مشکل کام ہے۔ میں، ساس نند سب ملکر کرتے ہیں۔ ہمارا تو دن کھیتوں میں ہی گزرتا ہے۔

اس کی بینائی کو بھی شدید خطرہ ہے ڈاکٹر دھوپ اور مٹی سے بچنے کو کہتے ہیں۔ بولی : آپ ٹھیک کہتی ہیں تربوز تو چند ہفتے ہی لیتے ہیں مگر مجھے گائے کے چارے کے لیے ہر دوسرے دن نکلنا پڑتا ہے۔چارہ کی قیمت بہت بڑھ گئ ہے۔جو فصلیں کٹ چکی ہوتی ہیں انکے بقایاجات ڈھونڈنے کے لئے کبھی کبھی دور کھیتوں میں جانا پڑتا ہے۔کبھی تو کسی کھیت کا مالک بے عزتی کردیتا ہے تو اس دن میری اپنے میاں سے بہت لڑائی ہوتی ہے۔ صرف چارہ کاٹنا ہی تھوڑی ہوتا ہے اسکا گٹھا بنا کر پیٹھ پر اٹھانا بھی ہوتا ہے۔اب میری کمر مسلسل درد کرتی ہے۔میاں کہتا ہے مضبوط بنو اب تم کراچی میں نہیں یہ گاؤں کی زندگی ہے۔ یہ ماسی کی بچی شہلا ہے۔تین برس قبل شادی ہوکر پنجاب گئ ہے۔والدین کام کی تلاش میں دو عشرے قبل کراچی آئے تو یہیں کے ہو گئے۔اب میکہ آئی ہوئی ہے تو ماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے گھروں میں جھاڑو برتنوں میں مدد دیتی ہے۔سارا دن گھر سے باہر کی مشقت، میکہ کی بھی گھٹی میں پڑی ہے۔ کوئی ہمدردی دکھائے تو پتھر دل بھی پانی ہوجاتے ہیں۔دوپٹہ کمر کے گرد لپیٹے اپنی ان کہی شئیر کرتی ہے اس تاکید کے ساتھ کہ اماں کو نہ بتانا باجی، میری نند میری بھاوج بھی ہے، ہمارے ہاں تو وٹہ سٹہ ہوتا ہے ناں۔ماں میری دکھ بیتی سنے گی تو بھاوج کے ساتھ روئیے میں فرق آئے گا۔

اسکی سزا مجھے ساس کی بدسلوکی کی صورت میں بھگتنا ہوگی۔اس لیے میں اماں کو نہیں بتاتی۔ ایک بات مجھے اچھی نہیں لگتی جب ساس گھاس کا گٹھا ہمیشہ میری ہی پیٹھ پر لادتی ہے۔کہتی ہے نند تو کنواری لڑکی ہے،تم عورت ہو۔بس پھر میں چپ کرجاتی ہوں! باجی میرا ایک کام کروگی؟ہاں ہاں بتاؤ۔۔میں نے دل مضبوط کرتے ہوئے اثبات میں جواب دیا تو بولی۔اماں سے کہنا لیلیٰ(بھاوج)سے اچھا سلوک رکھا کرے۔اس کو کچھ بھی نہ کہا کرے۔میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ خوشی اس کے چہرے سے چھلکنے لگی یہ بتاتے ہوئے کہ اس بار تربوز کی فصل کٹی تو میں اپنا کمرہ بنا کر آئی ہوں۔۔کیا مطلب تمہارا کمرہ نہیں تھا۔؟نہیں ایک بڑا سا صحن ہے سب ادہر ہی سوتے ہیں۔مجھے اچھا نہیں لگتا تھا تو میں ساتھ والے گائے کے کمرے میں سوتی تھی۔ایک تو بدبو بہت پھر گائے تو کسی بھی وقت ڈکرانے لگتی ہے نیند ہی حرام تھی میری۔ گائے کا کمرہ۔۔۔بیٹی کا سسرال!!!!ذھن میں جھکڑ سے چلنے لگے۔اچھا تو کمرہ کس نے بنایا؟میں نے پوچھا۔اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا جیسے یہ سوال مجھے زیبا نہ تھا۔۔کون بناتا باجی؟اس کے جواب میں بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔"تمہارا میاں"ہنس کر بولی وہ ہوتا کب ہے گھر پر۔شہر میں چنگچی رکشہ چلاتا ہے ہفتہ میں ایک دودن ہی گھر آتا ہے۔

ارے تو کمرہ عورتیں کیسے بنا سکتی ہیں؟میرے سوال پر ایک ادا سے بولی۔ایک دن کاکام تھا۔ایک مزدور بلا لیا۔گارا اس نے بنایا اینٹیں ہم اٹھا کر دیتے جاتے تھے۔ ردے پر ردا رکھا جاتا تھا باجی اور میرے دل کی خوشی بڑھتی جاتی تھی کہ۔۔میرا کمرہ بن رہا ہے۔۔دو چار ترائیوں کے بعد میں نے اور ساس نے ملکر اس پر ڈنڈے رکھ کر گھاس پھوس سے چھپر ڈال لیا۔ میں سمجھ رہی تھی میاں بہت خوش ہوگا مگر وہ زیادہ خوش نہ ہوا۔اصل میں گائے کے کمرے میں سونا تو مجھے پڑتا تھا ناں۔وہ تو گھر کم ہی آتا ہے۔ باجی گاؤں اور کھیتوں میں مٹی بہت ہوتی ہے آنکھوں کی تکلیف بڑھ رہی ہے ڈرتی ہوں نابینا ہوگئ تو کیا ہوگا؟دعا کرنا باجی۔اس نے کمر سے دوپٹہ کھول کر سلیقہ سے سر پر جمایا،لپک کر میز سے اپنے شاپر اٹھائے جن میں باسی کھانا تھا باجیوں کی بخشش۔ہوا کے جھونکے کی طرح یہ جا وہ جا۔ مجھے دروازہ بند کرتے ہوئے آٹھ مارچ یوم خواتین کے فائیو اسٹار ہوٹلوں کے پروگرام یاد آگئے جن کے لئے ہم کبھی سیڈا کی دستاویزات کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں،کبھی بیجنگ پلس کی کانفرنسوں کی شقوں پر غور کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی قانون سازیوں کے بخئے ادھیڑتے ہیں۔اسلام میں عورتوں کے حقوقِ کی کتنی کتابیں ہماری لائبریریوں کی زینت ہیں۔
...تربوز کے سخت چھلکے پر شہلا کی نازک انگلیوں کے نشان کسے نظر آتے ہیں؟؟