بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کا ذمہ دار کون؟ - راحیلہ چوہدری

ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشرے میں اچھائیوں کا تناسب کم اور برائیوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔معاشرے کی بنیادی اکائی گھر اور خاندان ہوتا ہے۔آج معاشرے میں اخلاقی گراوٹ،اعلیٰ اقدار کی کمی اور عملیت کا فقدان اسی لیے دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ گھر ،خاندان اور نسب کی حفاظت نہیں ہو رہی۔

مرد اور عورت معاشرے کے دو اہم ستون ہیں ۔یہ دونوں مل کر گھر اور خاندان کوپروان چڑھاتے ہیں۔گھر اور خاندانوں کی اقدار اور روایات سے ہی معاشرے پروان چڑھتے ہیں۔ مرد اور عورت دونوں عصرِ حاضر کے بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کے ذمہ دار ہیں۔معاشرے میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے ذہنی اور نفسیاتی مسا ئل ،طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور دیر سے شادیوں کا بڑھتا ہوا رحجان جیسے بے شمار مسائل ہمارےگھروں،خاندانوں اور معاشرے کا المیہ بن چکے ہیں۔آج کی ماں اخلاصِ عمل اورجذبہ ایمانی کے اس معیار پہ پورا نہیں اترتی جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے۔آج کی ماں مسلسل اپنے فرائض سے کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہے جس معیار پہ تعلیمات نبوی ؐ کے مطابق ایک مسلمان ماں کو ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نےعورت کو انسان سازی کی جو اہم ذمہ داری سونپی ہے اسی وجہ سے اس کے حقوق مرد کے مقابلے میں زیادہ رکھے لیکن وہ انسان سازی کے اس فرض کو ادا نہیں کر رہی بلکہ اپنے حقوق کا استعمال مادی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔عورت کی اس کوتاہی کی وجہ سے معاشرے میں ایسے افراد اور رویے پیدا ہو رہے ہیں جومعاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ پہلے دور کی خواتین کی زندگیوں پر نظر ڈالی جائے تو سب نے اپنی زندگیوں میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مقصد ضرور بنایا ہوا تھا ۔

پہلے دور کی عورت صرف اپنے بچوں کی ماں نہیں تھی ۔بلکہ اس نے اپنے گھروں کے دروازے یتیم اور غریب بچے اور بچیوں کے لیے بھی کھول رکھے تھے اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کا بیڑا بھی خوشی خوشی اٹھاتی تھی۔ان کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز کا بھی اہتمام کرتی تھیں کہ ایسے بچے اور بچیوں کو کوئی ہنر سکھا کر انہیں اس قابل کر دیں کہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں۔ان عورتوں کے ایسے عمل کی وجہ سے پہلے دور کے لوگوں میں زندگی کو بامقصد بنانے کی جستجو تھی اور معاشرہ اتنی بے راہ روی کا شکار نہیں تھا۔آج کی ماں کو اس حوالے سے اپنے آپ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔کہ وہ خاندان کے ساتھ ساتھ ہمسائیوں اور معاشرے کے بے سہارا لوگوں کو بھی جوڑنے کا اہتمام کرے۔آجکل اچھے اور پوش علاقوں میں جہاں زندگی آسان ہے زیادہ تر خواتین کے ایسے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں جنہیں اپنے ہمسائیوں تک کی خبر نہیں ہوتی۔ دوسری طرف آج کا مرد یہ دیکھنے سے بالکل عاری ہے کہ اس کا گھر اور خاندان کلچر کے رنگ میں کس بری طرح رنگتے چلے جا رہے ہیں اور یہ کلچر گھر اورخاندانوں کو کس طرح تباہ و برباد کر رہا ہے۔اوپر والے طبقے کا مرد صرف اپنا پیسہ بے حیائی پہ لٹا رہا ہے یا ناجائز تعلقات پر اور درمیانے طبقے کا مرد معاشی مسائل کی دوڑ میں پھسا ہوا ہے ۔

اس طبقے کا مرد راتوں رات امیر ہونے کے چکر میں ہےیا پھر کسی دولت مند لڑکی سے شادی کرنے کے چکر میں ہے ۔ آجکل ہر طرف چار شادیوں کے حوالے سے خوب آگاہی دی جا رہی ہے اس آگاہی مہم میں ہمارے علماء دین پیش پیش ہیں لیکن افسوس کے ساتھ علماء ِ دین اس حوالے سے خاموش ہیں کہ دین چار شادیوں کے ساتھ ساتھ بیوہ اور طلاق یافتہ کے حقوق کے بارے میں بھی بات کرتا ہے ۔ہمارے معاشرے میں اگر مرد طلاق یافتہ ہے تو عورت تو اس کے بچے قبول کر لیتی ہے ۔لیکن مرد طلاق یافتہ اور بیوہ کے بچے قبول نہیں کرتا۔ افسوس کے ساتھ شادی کے لیے طلاق یافتہ مرد کو بھی ایک غیر شادی شدہ ،اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی ہی چاہیے ۔آج معاشرتی مسائل کے بڑھنے کی بہت بڑی وجہ مرد کا گھر اور خاندان کے لیے سنجیدہ رویہ نہ ہونا اور مذہب کی جگہ کلچر کو گھر میں رواج دینا ہے۔گھروں میں بڑھتی ہوئی بے حیائی آج کے مرد کے لیے کوئی معیوب بات نہیں رہی۔جبکہ نبیؐ کا فرمان ہے:’’تین افراد ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کو حرام قرار دیا ہے ۔ شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا ، والدین کا نا فرمان اور وہ دیوث جو اپنے گھر کے اندر برائی کو برقرار رکھتا ہے‘‘ (مسندِاحمد: ۹۹۷۵)۔ آجکل اچھے خاصے شریف گھروں میں بھی شادی بیاہ کے موقعوں پر مردوں اور عورتوں کا اکٹھے بیٹھنا ،ناچ گانے کا خاص طور پر اہتمام کرنا،

نامناسب لباس پہننا ،غیر محرم فوٹو گرافرز سے گھر کی خواتین کا تصویریں اتروانا کھانوں اور سجاوٹ پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنااور پھر ان محافل کی سوشل میڈیا پر خوب نمائش کرنا کسی برائی میں شمار نہیں کیا جاتا۔ نبیؐ نے جب صحابہ کرام کے سامنے سورۃ التحریم کی آیت نمبر چھ تلاوت فرمائی: اے ایمان والو!’’ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان ہیں‘‘تو صحابہ کرام نے عرض کیا ،یا رسول اللہ ہم اپنے آپ کو تو جہنم کی آگ سے بچا سکتے ہیں ، لیکن اپنے اہل و عیال کو جہنم سے کیسے بچا سکتے ہیں ؟ آپ ؐ نے فرمایا :’’ تم انہیں ایسے کام کرنے کا حکم دیتے رہو جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ان کاموں سے روکتے رہو جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔‘‘ معاشرتی مسائل کو کم کرنے کا یہی بنیادی عمل ہے کہ ہر فرد اچھائی کو پھیلانے اور برائی کو روکنے کا کام اپنے گھر سے شروع کرے ۔ ان فضول رسم و رواج کی وجہ سے نکاح مشکل اور زنا کرنا آسان ہو رہا ہے۔ کلچر اور مادیت کی اس دوڑ میں معاشرے کا بہت بڑا طبقہ بے راہ روی کا شکار ہے ۔ کلچر کے ان رنگوں میں معاشرے نے مذہب کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اوراس بات کو سرئے سے ہی بھلا دیا ہے کہ یہ دنیا ایک گزر گاہ ہےاورکھیل تماشے کے علاوہ کچھ نہیں اصل دنیا مرنے کے بعد ملے گی جہاں کبھی موت نہیں آنی

۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو ضابطے اور قانون بنائیں ہیں اسی میں انسان اور معاشرے کی بھلائی رکھی ہے ۔ آج کے مرد اور عورت کو دین کا بھولا ہوا سبق دوبارہ دہرانے کی اشدضرورت ہے ۔ عصرِ حاضر کے ماں باپ کو اس حدیث کو عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے ۔جس میں نبیؐ نے فرمایا :’’ ہر آدمی اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔(صحیح بخاری: ۲۵۵۴)۔
اولاد کی تربیت ایک ایسا معاملہ ہے جس کا سوال قیامت کے دن انسان سے ضرور کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے خاندانی نظام اس لیے بنایا کہ اس میں پرورش پانے والا انسان ایک بہترین مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بنے ۔جس کے اندر اچھائی اور برائی کرنے کی تمیز پیدا ہو ۔لیکن افسوس کے ساتھ آجکل کے ماں باپ نے اولاد کی ہر جائز اور ناجائز خواہش کے آگے اپنے سر جھکا دیے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے بچے سوشل میڈیا اور دوستی کے نام پر کیا کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں مگر انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔کہ ان کے بچوں کے ان اعمال کی وجہ سے معاشرے میں کیسے کیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اپنی اولاد کے ایسے اعمال میں والدین برابر کے شریک ہیں۔کوئی اپنے بچوں کی تربیت اس انداز سے نہیں کر رہا کہ انسان کے بہترین دوست اس کے اعمال ہیں جو قبر اور آخرت میں اس کے ساتھ جائیں گے۔

rahila ch