بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ - گہرام اسلم بلوچ

بلوچستان یونیورسٹی میں ملوث بدعنوان موجودہ انتظامیہ اور انکی سرپرستی کرنے والے موجودہ وائس چانسلر کی غفلتوں اور کردار کو آشکار کرنے میں بلوچستا ن کے طلبا تنظیمیں مسلسل برسر پیکار ہیں مگر حکومت وقت کو باور کرانے میں وائس چانسلر اپنی ایلے بہانوں سے اپنی کرپٹ نظام کو چُھپانے میں کامیاب رہے مگر اس سماج اور حکام کو بس اسی دن کا انتظار تھا کہ کے تعلیمی اداروں میں مست GSOکے چیئرمین ہماری بچیوں کو بلیک میل کرنے میں یونیورسٹی کے اپنے انتظامیہ خود چشمدید گواہ ہوں۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق گزشتہ دنوں بلوچستان یونیورسٹی میں انتظامی منصف پہ فائز (جی ایس او) کے چیئرمین نے ایک ایم فل کے اسٹوڈنٹس کو ٹیچرز ہاسٹل میں اپنے کمرے میں بدسلوکی کرنے کی کوشش اور عین موقعے پر رجسٹرار اور باقی عملے نے تمام صورت حال کے خود گواہ بن گئے۔ اس شرمناک فعل کے مرتکب سخت سے سخت سزا دینا چایئے اور پوری طور پر کمیشن بٹایا جائے جس میں کمیشن مین انکو شامل کیا جائے جو یونیورسٹی سے باہر ہیں اور اس دوران کمیشن پہ کوئی اثر انداز نہ ہو۔اس ننگ و ناموس اور عزت و ابروں اور چادر و چاردیواری کی خاطر سروں کا نزرانہ پیش کرتے ہیں مگر جہاں تہذیب و شعور کی درسگاہ میں ہماری طالبات کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں، حال ہی ہی میں اس حوالے سے ایک اسپیشل قانون مودہ ہے کہ تمام سرکاری و تعلیمی اداروں میں (ہراسمنٹ) اور زبر جنسی)کی تدارک کے لیے کمیٹیاں بنائی جائے مگر اسوقت ایک فیصد اداروں میں اسکی عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں تعلیمی اداروں میں اسطرح کے واقع پیش آرہے ہیں۔ اس حوالے سے کام کرنے والے تمام ادارے اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان (HRCP) کو پوری طور پر نوٹس لینا چاہیے اگر کسی تعلیمی ادارے میں میں کسی کی عزت محفوظ نہیں ہوتی تو اس سماج میں جان و مال کی تحفظ دینے کے لیے چیکنا بھی بے معنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک دن پسنی کے دیہات میں - ظریف بلوچ

جس دن سے اس وائس چانسلر منصف کو سھمبالا ہے اسی دن سے بلوچستان یونیورسٹی میں بدعنوانی اور اکیڈمک ماحول کی تبائی شروع ہوگئی اور بلوچستان میں بلوچ و پشتوں کے طلبا تنظیوں نے انکے پالیسیوں کے خلاف آواز اُٹھا نا شروع کیا تو طلبا رہنماوں کے خلاف جھوٹ و من گھٹت مقدمات بنا کر انہیں گرافتار کریا اور ان پہ طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ جب اس وقت بی ایس او پجار کا چیئرمیں تھا تو میرے ہی دور میں تنظیمی ساتھیوں نے ریلیاں نکالی اسمبلی میں گئے کئی بار اسملی فلور پر بھی اس وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کے رویوں پہ احتجاج ریکارڈ کریا مگر ان مسلسل انکی پشت پنائی کی جارہی ہے۔ کئی بار انکے خلاف متعدد ریلیاں اور مہینوں تک تمام طلبا تنظیمیں کوئٹہ پرئس کلب کے سمانے بھوک ہڑتال پہ بھٹے مگر پر بھی انکی دوران کی پیریڈ پورا ہونے کے باوجود انکو مزید extension دیکر بھوک ہڑتال پہ بھٹے طلبا کے پیٹ پہ چوری مارنے کی مترادف ہے۔ آخر اسکی کیا کرامات ہیں کہ پوری سیاسی جماعتیں اور طلبا تنظیموں کی انکے خلاف ایک طرف انکی غلط بیانی کو زیادہ وزن سے سُنا جاتا ہے۔ ابھی موجوددہ (وی،سی) کا پیرڈ بھی پورا مگر سُننے میں یہی آرہا ہے کہ انکو پھر extent in متوقع ہے .

اگر اس بار ایسا ہوا تو یہ تعلیمی ادارہ اب بلوچستان کے عزت مند عوام کی نہیں رہے گی۔ افسوس ان درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے روشن خیال اساتذہ کرام پہ ہوتا ہے کہ بجائے اسطرح کے واقعات میں آواز اُٹھانا انکی ہر عمل کو انکا ساتھ دینا محض اس لیے کہ ہمیں کسی فارن یہ ملکی وزٹ کرئے گی یا فروموشن میں یا اضافی مراعات کی خاطر جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں انکے احسانات کا بھی ذرا خیال کرنا چایئے۔ جامعہ بلوچستان جس تیزی کیساتھ اپنی اکیڈمک اور تاریخی مقام کھوتا جارہا ہے اسکو بچانے کے تمام طلبا تنظیمیں سیاسی جماعتیں اور روشن خیال لوگوں کو ایک کردار ادا کرنا ہوگا۔ وی سی ہر جگہ یہی دعوی کرتا ہے کہ ہم نے بلوچستان یونیورسٹی کو پہچان دی ہے کیا یہی ہوتا ہے ایک اکیڈمک ادارے کی پہچان جس پہ آپ اور آپکے ارد گرد درباری فخر کرتے ہیں۔ا کیڈمک ماحول کو بہتر بنانے اور کیمپس کی پر امن تعلیم ماحول کی قیام میں کیمپس میں موجود طلبا یونیز اور تنظیموں کا ایک کلیدی کردار رہا ہے ، اپنی مفادات کی تحفظ اور اپنی گندھ کو پردہ ڈالنے کے تنظیموں کو جس طریقے سے دیورا سے لگا جا رہا شاید انکی نقصانات آٓج ہم محسوس نہیں کر پا رہے ہیں مگر بہت جلد ہماری آنے والی نسل انکو سخت بُگھے گی جن کے لیے ہمیں کل کا انتظار نہیں کرنا چایئے۔