ترکوں کی تقدیر - علی عمران

آپ یقین مانئیے! اردگان اپنا کام کرچکاہے. یہ بہادر مرد ترک قوم کو ذلت، خواری، لاچاری، اقوام عالم کے مسابقے میں نہ چل سکنے، بیروزگاری اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے کی حدود سے بہت آگے لاچکا یے. ترک اب بیس سال پہلے والے ترک نہ رہے. ان کی کرنسی بھی اب وہ پہلے والی کرنسی نہ رہی.

یہ اب بدل چکے ہیں. اپنا مستقبل اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں. انہوں نے برے دن بھی دیکھے ہیں . بھوک، غربت اور تنگ دستی سے یہ گزر چکے ہیں . سیکولرازم اور لبرل ازم کا لگ بھگ سو سالہ شدید ترین دور بھی گذار چکے ہیں. یہ مہاتیر کی قوم کی طرح سست اور نکمے بھی نہیں. ان کی آب وہوا بھی عمدہ ہے. ان کے موسم بھی خدائی عطیہ ہیں . یہ خوبصورت، باوقار، دوست مزاج اور مہربان واقع ہوئے ہیں.یہ اقوام عالم کی قیادت بھی کرچکے ہیں. آدھی سے زیادہ دنیا کی سیادت کرچکے ہیں . ان کی جہانگیری اور جہانداری کا ایک عالم گواہ ہے. یہ وہ قوم ہے جس نے لگ بھگ دو تہائی دنیا کا اکیلے مقابلہ کیا. تب یہ یہ والا ترکی بھی نہیں تھا. عرب، مصر، شام سے لے کر جزیرہء روڈس تک پر یہ چھایا ہوا تھا. اسے اپنی حفاظت بھی کرنی تھی، اپنے ممالک محروسہ بھی بچانے تھے. بظاہر تب یہ اپنا وجود ہی بمشکل بچا سکے، ممالک محروسہ ان کے ہاتھ سے نکل گئے. پھر سیکولرازم کی ایک لمبی لہر چلی اور اس لہر کے اختتام پر اربکان اور اردگان جیسے راہنما ترک قوم کو میسر آگئے. مؤخر الذکر نے بہت اچھی طرح اپنا کردار ادا کرلیا ہے. عین ممکن ہے کہ اردگان ترکی کا صدر نہ رہ سکے. اس کی پارٹی الیشن ہار جائے، وہ آئندہ ہمیشہ کے لئے حکومت کی دوڑ سے باہر ہوجائے، اردگان مگر اپنا کام کرچکاہے. لاریب کہ اس نے ترک قوم کو معاشی، معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی، غرض ہر میدان میں ترقی کے رستے پر ڈال دیا یے.

وہ ترکی جہاں اَسی کی دھائی میں ایک ایک روٹی نصف ملین تک ملتی تھی، آج ایک باعزت اور باوقار قوم کی طرح سر اٹھا کر چلنا سیکھ گئے ہیں. میرے نزدیک اردگان کا اصل کام ترکوں کو ان کا مقام اور عالم میں ان کی اہمیت کا بجا اور درست احساس جگانا ہے. آج یہ چیز اردگان کے حامیوں میں کیا، اس کے مخالفین میں بھی صاف نظر آتی یے. ترک قوم، ترک عَلم اور ترکی روایات ان کے لئے اتنی ہی اہمیت اختیار کرگئی ہے جتنی کہ اردگان کے لئے تھیں.. اردگان اس وقت ترکی کے ہر فرد کی زبدگی میں ہے. اس وقت ترکی کا ہر فرد اردگان ہے. ترک سمجھ چکے ہیں کہ دوستوں سے بھی پہلے دشمنوں کو جاننے کی ضرورت ہے. ترک سمجھ چکے ہیں کہ ان کے اباء واجداد نے ایک دنیا کو تھپڑ مارے تھے، اب دنیا بلا تفریق ان سے اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کرے گی، لہذا اس وقت ترک ایک ہوچکےہیں. ان کا پیج ایک ہے. ان کی فکر ایک ہے اور وہ ہے کبھی حوصلہ نہیں ہارنا. ان کا ایمان ہے کہ ترک اپنے لوگوں کو پیچھے نہیں چھوڑتے. مشرق وسطیٰ کبھی ترکوں کے گھوڑوں کی تگ وتاز کا مرکز رہا یے. انگریزوں اور امریکیوں نے زور زبردستی ترکوں سے علاقے چھین کر یہ ناخن برابر ممالک کھڑے کردئے ہیں.اصالتاً عرب پہلے بھی ترکوں کے ماتحت رہے ہیں اور اگر عرب آج بھی امریکہ اور یورپ کے مقابلےمیں سروائیو کرنا اور اپنی قومی روایات کو بچانا چاہتے ہیں تو آج بھی عالم اسلام میں ایک ہی قوت ہے، جس کیطرف دیکھا جاسکتاہے. اور وہ ہیں ترک.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.