ڈیریلش عثمان یا ڈیریلش اردگان - قاضی نصیر عالم

دس سال قبل سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اوّل کے آخری جانشین ارتغرل عثمان استنبول میں وفات پا گئے ۔۔جس نے جلاوطنی کی زندگی کے چونسٹھ برس امریکہ میں دو کمروں کے فلیٹ میں گزار دئیے۔اس کے دادا پردادا مشرق وسطی،افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے کے حکمران تھے۔

کسی نے انٹرویو کے دوران پوچھا : کبھی لگتا ہے کہ سلطنت بحال ہو جائے گی۔۔؟؟ “نہی”جواب صاف اور دو ٹوک ہوتا تھا۔۔گزشتہ صدی عثمانیوں کے صدمے کی صدی تھی۔۔اور گزشتہ سے پیوستہ صدی؟؟؟ بہادر شاہ ظفر کی کسمپرسی اور بے چار گی یاد آ جاتی ہے۔۔ بلاشبہ رنگون کے قید خانے میں بے نور آنکھوں سے جنت گم گشتہ کو تلاشنے والا بہادر شاہ ظفر زیادہ بد قسمت تھا۔۔ترک اپنا اصل بچا گئے اور ہم ایک ریاست بھی بچا نہ پائے؟؟؟جس سلطنت کی بنیاد بابر نے رکھی اٹھارہ سو ستاون میں وہ سلطنت نہ صرف ختم ہو گئ بلکہ اٹھارہ سو اڑسٹھ میں بابر کا آبائ وطن فرعانہ بھی روسیوں کے زیر تسلط آچکا تھا۔ لیکن المیہ یہ تھا کہ ترک عظمت رفتہ کو بھول نہ پائے اور ہم غلامی کے پیراہن کو خلعت فاخرہ سمجھ بیٹھے۔۔شاید اسی لیے بابر نے “تزک بابری”کے لیے ترکی زبان کا انتخاب کیا تھا۔۔خیر ۔۔۔نئی صدی ہے اور صدائے کن فیکون ہے۔۔نئ صف بندیاں ہو رہی ہیں ۔۔جغرافیے تبدیل ہورہے ہیں۔۔ عراق اور شام عملا تقسیم ہو چکے ۔۔لیبیا قربانی کے گوشت کی طرح بانٹا جا چکا۔۔سوڈان کاٹ دیا گیا۔۔یہ خونی کھیل کی ابھی شروعات ہیں اور بہرحال نہ ہم مریخ کے باسی ہیں اور نہ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں۔۔

وار رومز میں موجود دنیا کے نقشے پر وہ خطہ بھی موجود ہے جس کے ہم باسی ہیں اور بہر حال استشنا ہمیں حاصل نہی۔اس سارے منظر نامے سے ہٹ کر عجیب اتفاق یہ ہے کہ”ارطغرل “کے پانچوں سیزن کئ ماہ پہلے ختم ہو چکے۔چرواہوں کا بیٹا سوگت پر قبضہ مستحکم کر چکا تھا۔۔کل “ڈیرلیز عثمان”کا ٹریلر آیا ہے۔۔جسے کے نام پر سلطنت عثمانیہ وجود میں آئ تھی۔۔اور کل ہی ترکی کی فوجیں شام میں داخل ہوئ ہیں۔۔اور خبر یہ ہے کہ فوج کشی سے قبل ترکی نے شام میں سیرین نیشنل آرمی اور نیشنل لبریشن فرنٹ کے جنگجووں کو نیشنل آرمی کے نام سے متحد کر دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق ان عرب جنگجووں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔۔فی الوقت چودہ ہزار جنگجو اس محاذ پر حصہ لیں گے۔۔یہ انہی عربوں کی اولادیں ہیں جو قومیت کے نام پر عثمانیوں کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔۔اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا باعث بنے تھے۔۔اور آج وہ پھر ترکی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔۔محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔۔ اب آپ کی مرضی ہے “ڈیریلیز عثمان “ دیکھ لیں یا “ڈیریلیز اردگان” دیکھ لیں۔۔ (قومی ریاستوں کی مرغیوں سےاگر ہم سونے کے انڈے کی توقع رکھیں تو یہ ہماری فہم کا مسلۂ ہے۔۔یہ اپنے باسیوں کا تحفظ ہی کر پائیں تو غنیمت ہے۔۔)