اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

میں ایک عام سی زندگی گزارنے والا سنی بریلوی سادہ سا انسان ہوں۔ صحافت سے لگاؤ ہے لیکن صرف سیاست کی حد تک، یا صرف ٹائم پاس کے لیے۔ مسئلہ کشمیر کا نام تو بہت دیر سے سنتے آئے ہیں، لیکن افسانوی انداز میں۔ اس کا حل یا اصل ایشو کیا ہے؟ کبھی اس بارے میں نہیں سوچا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے کشمیر کا نام بڑے زوردار انداز میں میڈیا کی زینت بنا، تو کچھ کشمیر کے بارے میں دلچسپی بڑھی تو دیکھتے ہی دیکھتے اس میں پلوامہ اٹیک کی گونج بھی سنائی دینے لگی۔ کشمیر سے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے پلوامہ اٹیک اور اس سے جڑے دوسرے مسائل نے مجھے بہت تجسس میں ڈالا۔ اسی تجسس نے مجھے ان مسائل کی کھوج لگانے پے مجبور کر دیا۔ ان سب کی جانچ کے لیے گوگل سرچ اور میڈیا کو کھنگالنا شروع کیا تو انڈین چینل کے کچھ کلپس نے میرے تجسس میں مزید اضافہ کیا اور معلومات کے انبار تک بھی رسائی آسان کر دی..! مزید تجسس یہ کہ انڈین میڈیا نے اس سارے معاملے میں جیش محمد اور مولانا مسعود اظہر کا نام اتنی باریک بینی سے ہائی لائٹ کیا کہ مجھے پاکستان کا شہری ہونے کے باوجود اتنا معلوم نہیں کہ ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جن سے انڈیا اتنا خوف زدہ ہے..!

پلوامہ اٹیک سے متعلقہ ایک کلپ دیکھنے کو ملا جس میں ایک نوجوان انڈیا کو جیش محمد کا نام لے کر للکار رہا ہے، جس کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا..! کم از کم میرے لیے تو بہت مشکل ہے۔ اس کا نام عادل ڈار ہے اس کا لب و لہجہ اتنا شاندار ہے کہ بار بار سننے کو دل چاہتا ہے...!

میری اسی تحقیق اور تجسس کے بیچ کشمیر کا لاک ڈاؤن ہو گیا۔ انڈیا کے اس خونی جبر کے بعد، میرے پاک وطن کے حکمرانوں کا غیر سنجیدہ ردعمل اور عسکری قیادت کا دبے اور سہمے ہوئے لہجے میں انڈیا کو وارننگ دینادیکھ کے دل پسیج کے رہ گیا۔ کشمیر کو شہ رگ کہنے والے اور دنیا کی نمبر ون فوج رکھنے کا راگ الاپنے والے ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے عملی اقدامات اور بہادری کے جوہر دکھانے کے بجائے دنیا کے سامنے التجائیں شروع کر دیں، اور کشمیر کے مظلوموں کے خون پر اپنی سیاست چمکانے اور دنیا کو تماشہ دکھانے کے لیے احتجاج پر نکل آئے..! ہماری بہادر فوج بھی سیاست دانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، بعض جگہ احتجاج میں بھی شریک ہیں۔ اب یہ بہادر حکمران نکلے ہیں کہ کشمیر ہمارا ہے وہاں ظلم بند کروایا جائے، .اور میں نکلا ہوں اپنی کشمیری ماؤں بہنوں کی پکار لیکر... ٹوٹے دل اور نم آنکھوں کے ساتھ، اس دور کے محمد بن قسم کو ڈھونڈھنے۔ یقینا ان کی پکار پر ضرور کوئی محمود غزنوی آئے گا