مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

ہمارا ذہن خیالات بنانے کی مشین ہے۔ جس میں ہر وقت کوئی نا کوئی خیال بنتا اور ٹوٹتا رہتا ہے اور ہم کچھ نا کچھ سوچتے ہی رہتے ہے، کبھی اچھا کبھی برا، کبھی مثبت اور کبھی منفی۔ مثبت سوچ کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے۔ کامیاب زندگی،مثبت سوچوں اور رویوں جب کہ ناکام زندگی منفی سوچوں کا رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ زندگی کاہر منظرسوچ سے جنم لیتا ہے اور سوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ایک منفی سوچ کاحامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے۔یعنی اگر آپ یہ سوچیں کے آپ کوئی کام کرسکتے ہے تو آپ کرسکیں گے اور اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ نہیں کرسکتے تو آپ کچھ بھی کر لیں آپ وہ کام نہیں کر سکیں گے۔ کسی شاعر نے کہا تھا


دنیا اچھی لگتی ہے رب اچھا لگتا ہے

اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہے


ہماری زندگی پر ہماری سوچ اور خیالات مستقل طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔شیکسپیئر نے کہا تھا”مثبت اور منفی خیالات انسان کے ذہن میں ہر وقت آتے رہتے ہیں“ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ انسانی ذہن پر ہر لمحہ سوچوں کا غلبہ رہتا ہے اور انسان کی زندگی کے بیشتر زاویئے اس کی ذہنی سوچ سے جنم لیتے ہیں۔اسی سوچ وفکر سے انسانی جذبات کی آبیاری ہوتی ہے اور ان جذبات کی بنیاد پر انسان کا ہر عمل ہمارے سامنے آتا ہے۔سوچ سے خیال،خیال سے نظریہ،نظریہ سے مقصد،مقصد سے تحریک،تحریک سے جستجواور جستجوسے کامیابی جنم لیتی ہے۔ہمارے ذہن کے سوچنے کا انداز دو طرح کا ہوتا ہے، مثبت اور منفی۔ امریکہ کے سب سے بڑے ماہرے نفسیات پروفیسرولیم جیمز نے کہا تھا: ”ہمارے خیالات ہماری زندگی کی تشکیل کرتے ہیں۔ آپ کا کسی بات پر یقین ہی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی بن جاتا ہیں۔ صرف آپ اپنے خیالات ہی تبدیل کرکے اپنی زندگی میں انقلاب لا سکتے ہے“۔ ایمرسن کہتا ہے ”ایک انسان سارا دن جو سوچتا ہے وہی بن جاتا ہے۔“

ہمارے خیالات ہی حقیقت کو جنم دیتے ہیں۔ آپ کی زندگی میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا جب تک کہ آپ خود اپنے سوچنے کاانداز نہیں بدلتے۔آپ کے خیالات پر صرف آپ کا کنٹرول ہے اور اس کا انحصار آپ پر ہے کہ آپ منفی سوچتے ہیں یا مثبت؟اگر آپ میں منفی جذبات پائے جاتے ہیں اور آپ کے خیالات محدودہیں تو آپ اسی تناسب سے کام یابی حاصل کریں گے۔اگر آپ کی سوچ مثبت ہے اور آپ محبت،خوشی،صحت اور خوشحالی کے متعلق سوچ سکتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں تو آپ کی زندگی میں ہر طرف خوشیاں اور کامیابیاں ہوگی۔ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ انسان پر اس کے ماحول،حالات اور سوچ کے بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ انسانی سوچ نا صرف جسمانی اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات دوسرے لوگوں پر بھی ہوتے ہیں۔اچھی اور مثبت سوچ کے حامل افراد کے جسم میں مثبت لہریں نکلتی ہیں جو آس پاس کے ماحول، افراد اور چیزوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جبکہ منفی سوچ، خبیث، اضطراب، حسد، بغض، کینہ اور اس قسم کے دیگر خیالات انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کے لیے بھی نہایت نقصان دہ ہیں۔اچھی سوچ حیران کن نتائج کی حامل ہو تی ہیں۔ حضرت اقبالؒ نے کہا تھا:


مثبت سوچ کے اثرات کی بہترین مثال سٹیفن ہاکنگ ہیں جنہوں نے انتہائی پیچیدہ جسمانی واعصابی بیماریوں کے باوجود اپنی مثبت سوچ کو مرنے نہیں دیا اور بلیک ہول اور کائنات کی تخلیق جیسی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھادیا۔ ایک انسان جو چلنے پھرنے اور حتیٰ کہ کسی بھی قسم کی حرکت اور بولنے تک سے معذور ہے نے سائنس کی تاریخ کی حیران کن ترین ایجاد ات ودریافتیں کر کے یہ ثابت کر دیاکہ مثبت سوچ ہی ہر کام کا محرک ہوتی ہے اور اگر آپ کی سوچ مثبت تو دینا کی کوئی رکاوٹ آپ کو منزل کے حصول سے دور نہیں رکھ سکتی۔ سوچ کا مطلب یہ ہرگزنہیں ہے کہ آپ مستقبل میں اپنی کامیابی کے لیے جو سوچ رہے ہیں نتیجہ اسی کے مطابق ملے گا کیوں کہ انسان ہمیشہ کامیابی ہی چاہتا ہے یہ تو آپ کی خوہش ہے لیکن اگر جدوجہد کے بعد ناکامی سامنے آئے تو منفی سوچ حاوی ہونی لگتی ہے۔ لوگ ڈپریشن (ذہنی دباو)کا شکار بھی ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ لوگ خودکشی بھی کرلیتے ہیں۔یہ ہی وہ وقت ہے جب مثبت سو چ کا خیر مقدم کرنا ہی بہتر ہوتاہے۔ زندگی میں ناکامیاں بھی سامنے آتی ہیں،پریشانیا ں بھی اٹھانی پڑتی ہیں اوردکھ بھی ملتے ہیں۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کو کبھی کوئی دکھ نا ملاہو لیکن انہی ناکامیوں، پریشانیوں اور اپنی غلطیوں سے ہی سبق سیکھنا ہے۔ ایک نیا راستہ نکالنا ہے، نئے سرے سے دوبارہ جدوجہد کرنی ہے اور اپنی کمزوریوں کواپنی طاقت میں بدلنا ہے۔ اپنے کیے گئے کام پر سوچ وبچار کریں۔مذکورہ کام کے اچھے پہلو ؤں پر غور کریں ہوسکتا ہے کہ اچھے پہلوذیادہ ہو اور ہم اپنی ناکامی کو ہی رو رہے ہو ں کہ وہاں ہمارا دھیان ہی نا گیا ہو اور یہ سب کچھ مثبت سوچ سے ہی حاصل ہو گا ہمارے خیالات کا زاویہ سوچ اور عمل کی شکل کو بدل دیتا ہے۔اکثر اوقات ہم اک بند دروازے کے سامنے کھڑے یاس وحسرت میں غلطاں زندگی کے قیمتی لمحات گزار رہے ہوں اور آپ کے لیے اللہ رب العزت نے کء دوسرے دروازے وا کر دیے ہوں لیکن آپ اپنی محدود سوچ اور منفی خیالات کی وجہ سے ادھر جانا تک ذہن میں نہ لاپاتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   سرسوں کا تیل زندگی میں کیسے تبدیلی لاسکتا ہے؟

صرف مثبت سوچ سے ہی زندگی کی تلخیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہمیں چاہئے کہ ہم پریشانیوں کی بجائے نعمتوں کا بھی سوچیں۔ اپنی ناکامیوں سے سیکھیں۔لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم چاہتے ہو ں کہ لوگ ہمارے ساتھ کریں۔ لوگو ں کو بھی اپنی ذات میں منفی اثر نہ ڈالنے دیں۔بات چیت میں مثبت الفاظ استعمال کریں۔ ذہن میں جو کچھ بار بار آتا ہے وہی کچھ کرنے لگتا ہے۔ کامیابی اور فتح کی باتیں ہمت اور حوصلہ اور جرات پیداکرتی ہیں تب ہمارے اندر خودبخود مثبت سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔


ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو

تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے


پس ثابت ہوا کہ مثبت سوچ زندگی کا رخ موڑ سکتی ہے اور غم و اندوہ کے پہاڑ تلے دبے ہونے کے باوجود نیا جوش اور ولولہ دیں۔ ہمت و جذبہ، بلند خیالی اورمستقل مزاجی سے ناممکنات کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے پوری امانت داری سے محنت کریں اور پھر نتائج اس ذات باری تعالیٰ پرچھوڑ دیں جو پتھر کے اندر رہنے والے کیڑے کو بھی رزق پہنچاتا ہے۔