نبی ﷺ سے محبت کے تقاضے - محمودفیاضؔ

مجبوری آن پڑی ہے ورنہ اتنا بھاری موضوع میں اٹھانے لائق ہی نہیں ہوں۔ حضورؐ کی محبت کا موضوع ۔ حضورؐ کی محبت جو کہ ایمان کا حصہ ہے۔ ایمان کی جو آخری شرط ہے، ہمارے یہاں اس کو پہلے درجے میں لا کربچوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ایک پرائمری کا استاد جو آپ کو الف بے کا سبق پڑھاتا ہے، اس کے ادب و احترام کے تقاضے اگر پورے کرنے لگ جائیں تو شائد ہم سے نہ ہو سکے۔ کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔
تو ایک ایسا استاد، جو آپ کو سدریٰ المنتہیٰ کا پتہ بتاتا ہے۔ جو آپ کو کائنات کے ان رازوں سے آشنا کرتا ہے جو ابھی نسل انسانی نے صدیوں بعد آشکار کرنے ہیں۔ جو آپ کو انسانی شرف کے اس مقام پر فائز کرتا ہے کہ آپ ستاروں کی اس گذرگاہ میں اپنا رستہ دور تک دیکھ سکیں۔ اس کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا؟ استاد کا مرتبہ و محنت دیکھ کر محبت کا پیدا ہونا فطری ہے۔ اسکا آپ کی زندگی پر احسان جتنا واضح ہوتا جاتا ہے یہ محبت اتنی ہی فزوں ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے ہم اسکول کے تیس سال بعد اپنے اساتذہ کی یاد میں قصیدے لکھتے نہیں تھکتے۔ تو جو استادؐ اپنی زندگی آپ کی آخرت کے لیے گذار دے اور اس عارضی زندگی سے وقت رخصت بھی اسکو آپ ہی کا خیال ہو، اس سے محبت کا ہوجانا تو انتہا درجے پر لازم ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے محبت کے اس عمل کو الٹا کر دیا ہے۔ ہم ان بچوں کو جو ابھی استاد کی تعلیمات کا الف بھی نہیں جانتے، محبت کا سبق پڑھانے لگ جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کریں کہ نرسری میں داخل ہونے والے بچے سے کہہ دیا جائے کہ استاد سے محبت کرو کہ یہ نصاب کا حصہ ہے۔

تو اس جذبے کو پوری طرح نہ سمجھنے والے "معصوم بچے" کیسی کیسی "غلطیاں اور گستاخیاں" کر بیٹھیں گے۔بالکل ایسے ہی نبیؐ سے محبت کے دعویدار یہ پرجوش نوجوان کرتے پھر رہے ہیں جو اپنے تئیں (یا کسی عاقبت نا اندیش کے مشورے پر) نبیؐ کی محبت کے ایسے مظاہروں کو ہی پورا اسلام سمجھے بیٹھے ہیں، جس کی تعلیم کبھی نبی آخرﷺ نے خود بھی نہیں دی۔ استاد سے محبت ، اور پھر کائنات کے شناور اور برگذیدہ نبی سے محبت کے تقاضے، ادب اور طریقے اس محبت سے کہیں مختلف ہوتے ہیں جو ہم آپ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ نبوت کے ادب نا شناس اور جہلاء ، افسوسناک حد تک جا کر نبیؐ کی محبت کو عامیانہ طریقوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اور دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں۔ پھر ہم اپنے استاد نبی آخرﷺ کی شان میں وہ گستاخیاں دیکھتے ہیں کہ دل شرم سے سی پارہ ہوجاتا ہے۔ یاد رکھیے! کسی کے لب و رخسار کی تعریف ، استاد کی محبت نہیں ہوتی۔ کسی کے بغیر مرجانے والی محبت استاد سے نہیں ہوتی۔ صبح و شام اظہار والی محبت، استاد سے نہیں ہوتی۔ سوقیانہ گانوں کی طرز پر اشعار گنگنانے والی محبت استاد سے نہیں ہوتی۔ جیب میں تصویر یا خط رکھنے والی محبت استاد سے نہیں ہوتی۔

دوسروں کے سامنے محبوب کے زکر پر دیوانہ ہوجانے والی محبت استاد سے نہیں ہوتی۔ یہ سب انداز اس دنیاوی محبت کے ہیں جو انسانی و جسمانی جذبوں سے مشروط ہیں۔ انکا استاد کے روحانی رتبے اور اسے رتبے کی وجہ سے پیدا ہونی والی محبت سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ بہت سی حالتوں میں ایسا اظہار محبت گستاخی و جنون کے زمرے میں آتا ہے۔ دین میں جو محبت ہے وہ ایمان کی آخری شرط ہے۔ آخری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ کم ہے یا اسکے بغیر گذارا ہو سکتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی شرط ہے جو ایمان کے باقی سارے درجے حاصل ہونے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے آپ مصنوعی کیفیت پیدا کرنے کی جو بھی کوشش کریں گے وہ نیتوں والے رب کے ہاں بے قدروقیمت رہے گی۔ نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کیجیے۔ انکی سیرت کو پڑھتے جائیے۔ محبت پیدا ہونا اسکا فطری جزوہے۔ اور جب اسی ترتیب کے بعد محبت رسولؐ حاصل ہوگی تو اظہار و اقرار کا وہ سلیقہ آئے گا کہ دل و دنیا و آخرت سب سنور جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس آخری شرط تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.