ہر دور کے ڈکٹیٹر نے طلبہ قوت کو کچلنا چاہا: سید منور حسن کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: مبشر علی زیدی

پاکستان کی سیاست اور میڈیا کے کئی بڑے نام ماضی میں طالب علم رہنما رہ چکے ہیں۔ طلبہ سیاست سے پاکستان کو کیا ملا؟ پابندی سے فائدہ ہوا یا نقصان؟ اور ضیا الحق کے بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس پابندی کو ختم کیوں نہیں کیا؟ سید منور حسن طلبہ سیاست میں سرگرم رہے، اسی تناظر میں ان کے ساتھ خصوصی گفتگو ہوئی، جو نذر قارئین ہے۔

سوال: بہت سے لوگوں کے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر کسی زمانے میں اشتراکی نظریات سے متاثر اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم این ایس ایف کے عہددار تھے۔ آپ نے اس کا انتخاب کیوں کیا؟
سید منور حسن: اصل میں حالات اس وقت نظریاتی تھے۔ روس اور چین کا معاملہ تھا۔ امریکا کی کشمکش تھی۔ سوشلزم کے نعرے تھے۔ اشتراکی فلسفہ اور نظریات مقبول تھے۔ کوئی طالب علم یا نوجوان ان نعروں سے اور معاشرے میں جاری جدوجہد سے لاتعلق نہیں رہ سکتا تھا۔ میں نے بھی این ایس ایف جوائن کی۔ یہ 1959ء کی بات ہے۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں اندازہ ہوگیا کہ مقاصد کے لیے کم اور اپنی تشہیر کے لیے زیادہ جدوجہد ہورہی ہے۔ میرا دل کھٹا ہوگیا اور میں این ایس ایف چھوڑ کر اسلامی جمعیت طلبا میں آگیا۔ پھر آخر تک اسی کے ساتھ رہا۔

سوال: کیا کسی نے آپ کا ذہن بدلا یا خود ہی نظریات میں تبدیلی آگئی؟
سید منور حسن: ہمارا دوستوں کا ایک گروپ تھا۔ ان میں سے کچھ لوگ این ایس ایف میں آگئے، کچھ جمعیت میں چلے گئے۔ ان دنوں لوگ متحرک رہنا چاہتے تھے۔ کسی مقصد کے لیے جینا اور مرنا چاہتے تھے۔ اچھے کردار کا مظاہرہ کرنے چاہتے تھے۔ اچھے لوگ، اچھے کارکن مشکل سے ملتے ہیں۔ جمعیت میں بے غرض، مخلص اور ایماندار لوگ ملے۔ اس لیے این ایس ایف کے مقابلے میں جمعیت بہت بڑی تنظیم کی حیثیت سے ابھری۔ مجھے یاد ہے کہ 1965ء میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کی طلبہ یونینز میں جمعیت نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔

سوال: کیا آپ کے پاس جمعیت کا کوئی عہدہ رہا؟
سید منور حسن: میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا ناظم اعلیٰ رہا۔ جب این ایس ایف میں تھا تو اس میں بھی ذمے داریاں ملی تھیں۔

سوال: تب مخالف تنظیموں سے کیسے تعلقات ہوتے تھے؟ کشیدگی رہتی تھی یا مخالف رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوتی تھیں؟
سید منور حسن: میں نے ہمیشہ یہی کوشش کی اور اس میں کامیاب رہا کہ دوستی سب سے رکھی جائے۔ تبادلہ خیال سب سے کیا جائے۔ گفتگو کسی سے بند نہ کی جائے۔ اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ غلط فہمیاں نہیں ہوتیں اور اصلاح کا موقع ملتا ہے۔

سوال: اس دور میں دوسرے طالب علم رہنما کون تھے؟
سید منور حسن: علی مختار رضوی، فتح یاب علی خان، حسین نقی زیدی، نواز بٹ، امیر حیدر کاظمی، یہ سب ہمارے زمانے کے لوگ ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو پیپلزپارٹی نے خراب کیا۔ انھیں سیاست میں لائی اور وزیر بنادیا۔ پھر ان کی زبان بند ہوگئی۔ اس سے ان کی نظریاتی تحریک کو نقصان پہنچا۔ چھوٹے فائدوں کے لیے ان لوگوں نے بڑے مقاصد کو قربان کردیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نقصان تنظیم اور نظریات کو پہنچتا ہے۔

سوال: طلبہ تنظیموں پر الزامات لگائے جاتے ہیں کہ وہ لڑائی جھگڑے کرتی تھیں۔ ایک دوسرے کے لڑکوں کی پٹائی کرتی تھیں۔ کیا آپ کے زمانے میں بھی ایسے واقعات ہوتے تھے؟
سید منور حسن: میرا خیال ہے کہ جزوی طور پر تو ہر دور میں ایسا ہوا ہے۔ لیکن ہمارے دور میں لڑائی ہاتھ پیر کی ہوا کرتی تھی۔ پستول اور کلاشنکوف جیسی چیزیں استعمال نہیں کی جاتی تھیں۔ چونکہ سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے اور آنکھوں کی شرم و حیا موجود تھی، دوستیاں اور تعلقات تھے، اس لیے اگر لڑائی جھگڑے ہوئے تو مل جل کر کام کرنے کے وعدے بھی کیے گئے۔

سوال: طلبہ تنظیموں میں متحرک ہونے والے لڑکوں کی تعلیم کا خاصا ہرج ہوتا ہوگا؟
سید منور حسن: دراصل اسلامی جمعیت طلبہ سو فیصد نظریاتی تحریک تھی۔ ہم اپنے دور میں کچھ لوگوں کو چن لیتے تھے جو اپنے اپنے شعبوں میں ٹاپ پوزیشن لے کر آتے تھے تاکہ یہ بھرم قائم رہے کہ ہم نوجوانوں کو تعلیم کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ لڑکے متوجہ ہوتے بھی تھے۔ یہ کوششیں رنگ لائیں۔ مختلف اوقات میں ہمارے جو رہنما رہے ہیں، انھوں نے اپنے کردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔ ان کے رویے میں یہ بات نظر آتی تھی کہ وہ طلبہ کی خیر خواہی اور بھلائی کے لیے کام کرتے تھے اور انھیں غلط کاموں کی طرف جانے سے روکتے تھے۔

سوال: کیا آپ کبھی طلبہ تنظیم کی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے؟
سید منور حسن: بہت بار گرفتار ہوئے۔ ایوب خاں کا زمانہ تو اسی طرح گزرا۔ گرفتاری رہائی گرفتاری ہوتی رہی۔ مشرقی پاکستان میں بھی اور مغربی پاکستان میں بھی۔

سوال: تعلیم مکمل کرنے کے بعد سیاست میں آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
سید منور حسن: جن انسانوں کے نظریات ہوتے ہیں، وہ کبھی بھی ان سے پناہ نہیں مانگتے۔ وہ ان سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ جو لوگ نظریاتی ہوتے ہیں، وہ تنہا کام نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو ساتھ ملاکر کام کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں اصلاح کا موقع ملتا ہے۔ جو شخص غلط موڑ مڑ رہا ہو، اسے جانے سے روکا جائے اور سمجھایا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس میں بہت کامیابی ملی۔ لوگوں کو یقین آگیا کہ یہ لوگ ہمارے خیرخواہ ہیں۔ ہماری بدخواہی نہیں چاہتے۔ ہم نے لوگوں کی خدمت کرکے اپنی ساکھ بنائی۔

سوال: آخری لیکن بنیادی سوال، طلبہ تنظیموں پر پابندی سے قومی سیاست کو فائدہ ہوا یا نقصان؟
سید منور حسن: دنیا میں پابندی سے کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آپ دفعہ 144 لگادیں، مارشل لا لگادیں، سارے اختیارات دو آدمیوں کے ہاتھ میں دے دیں۔ یہ جبر کے ہتھکنڈے ہیں۔ یہ ظلم کی سیاہ راتیں ہیں۔ انھیں سحر کرنے کا طریقہ ہی یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھا جائے۔ ان کے معاملات میں دلچسپی لی جائے۔ یہ بات کہنے میں آسان ہے لیکن کرنے میں کافی مشکل کام ہے۔ دیکھیںٕ، مشکل کام کیے بغیر مشکلیں دور نہیں ہوتیں۔

ضیاء الحق کے زمانے میں سب سے زیادہ یہ کام ہوا۔ انھوں نے طلبہ تنظیموں پر پابندیاں لگائیں۔ لڑکوں نےبھی اپنے طریقے سے اس کا مقابلہ کیا۔ ایسے کام بھی کیے جن سے عام لوگوں کو تکلیف ہوئی۔ مثلاً بسوں کے ٹائر پنکچر کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مسافروں کو تکلیف ہوتی تھی۔ ضیاء الحق کا دور ہو یا کسی اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا، سبھی یہ چاہتے تھے کہ طلبہ کی قوت کو کچل دیا جائے۔ جبر کیا جائے اور ظلم کی سیاہ رات کو طویل کردیا جائے۔ لیکن آخرکار وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ طلبہ کے جوش جنوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ نوجوانوں نے بہت قربانیاں دے کر جدوجہد جاری رکھی۔