ترکی آج کی طرح کل بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا: چاوش اولو

وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ ترکی آج کی طرح مستقبل میں بھی بلاامتیاز دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

چاوش اولو نے ترکی کے دورے پر آئے نیٹو کے سکریٹری جنرل ہینس اسٹولٹن برگ سے ملاقات کی۔

استنبول میں دولما باہچے صدارتی آفس میں ون ٹو ون ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر چاوش اولو نے کہا کہ بحیثیت ترکی ، ہم نے آج تک تمام دہشت گرد تنظیموں سے بلا امتیاز جنگ جاری رکھی ہے اور آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔

انہوں نے شمالی شام میں دہشت گرد عناصر کے خلاف شروع کردہ چشمہ امن فوجی آپریشن کے بارے میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے لئےنیٹو کی جنوبی سرحد کی حیثیت رکھنے والی ترکی کی قومی سرحد کے پار سے جاری دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا ہے اور یہ آپریشن اس لحاظ سے نیٹو کے اتحاد کے اتحادی ممالک کے لیے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی سے متعلق کسی قسم کے خطرے سے نبٹنے کے اصول کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ترکی کی کے فوجی آپریشن کو اس کے اتحادیوں کی جانب سے بھی حمایت کی توقع رکھنا، ترکی کا جائز حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کی جانب سے صرف یہ کہہ دینا کے "ہم ترکی کے جائز خدشات کو سمجھتے ہیں" کافی نہیں ہیں بلکہ ہم بڑے صاف اور عیاں طریقے سے اپنے اتحادیوں کے تعاون کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چشمہ امن فوجی آپریشن کے بارے میں کالا پروپیگنڈا دیکھا گیا ہے۔اس سے قبل شاخِ زیتون آپریشن (جو پچھلے سالوں میں شام میں کیا گیا تھا) کے دوران ، وائی پی جی / پی کے کے ، کی جانب سے شروع کردہ کالا پروپیگنڈا ناکام رہا ہے ۔ اسی طرح فرات ڈھال فوجی آپریشن کے دوران بھی داعش کی جانب سے اس فوجی آپریشن کے خلاف کالا پراپگینڈا مہم شروع کی گئی تھی۔سویلین کے بارے میں اور انسانیت کے بارے میں کوئی ترکی کو سبق نہیں سکھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک ، دہشت گرد تنظیم پی کے کے اور وائی پی جی کے ایک ہی ہونے اور ان دونوں سے ترکی کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے سے آگاہ ہیں اور اگر ترکی کو یہ جائز خدشات لاحق ہیں تو ان خدشات کا باعث بننے والی تنظیموں کے خلاف جنگ اور جدو جہد بھی جاری رکھنا ہمارا جائز حق ہے۔ ترکی نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ ہی آخری دم تک سفارت کاری اور بات چیت کا راستہ اختیار کیے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب داعش دہشت گرد تنظیم کو اپنا مشترکہ دشمن تصور کرتے ہیں اور داعش کے خلاف آج تک اگر کسی نے آمنے سامنے مقابلہ کیا ہے تو وہ بلا شبہ ترک فوجی ہی ہیں۔

اس موقع پر نیٹو کے سکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ترکی، نیٹو کا ایک طاقتور اور اہم رکن ملک ہے اور نیٹو کا کوئی بھی رکن ملک ایسا نہیں ہے جو مشرق ِ وسطیٰ میں ترکی کی طرح دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ترکی کی کے وزیر خارجہ چاوش اولو کے ساتھ "چشمہ امن" فوجی آپریشن کا جائزہ لیا ہے اور شام میں جیلوں میں قید داعش کے دہشت گردوں کے مسئلے کو حل کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے۔

انہوں نے ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے داعش کے خاتمے کے لیے ترکی کے کردار اور اہمیت کو بھی سراہا ۔

اسٹولٹن برگ نے نیٹو کے اتحادی ملک ترکی کی حمایت کو جاری رکھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اگلے محاذپر جنگ لڑرہا ہے جو ہم سب کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔