چین نہیں صومالیہ سے سیکھیں- جاوید چوہدری

کرسٹائین اسٹڈ ڈنمارک کی سرحد پر سویڈن کا چھوٹا سا ٹاؤن ہے‘ میرے صنعت کار دوست مخدوم عباس نے 2004ء میں اس ٹاؤن میں فیکٹری لگا ئی‘ مخدوم اس قصبے میں واحد مسلمان اور واحد پاکستانی تھا‘ حلال گوشت کوپن ہیگن سے لاتا تھا اور مزے کے ساتھ زندگی گزارتا تھا‘ میں 2005ء میں اس سے ملنے کے لیے کرسٹائین گیا‘ چار دن قصبے میں رہا‘ میں سارا دن سمندر کے کنارے پڑا رہتا تھا اور شام کو مخدوم عباس کی فیکٹری میں چلا جاتا تھا۔

میں نے ایک دن مخدوم سے اتنی دور فیکٹری لگانے کی وجہ پوچھ لی‘ یہ مسکرا کر بولا ’’سسٹم‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ یہ بولا ’’میں نے 2004ء کے شروع میں سویڈیش گورنمنٹ کو ای میل کی‘ میں بزنس مین ہوں اور میں سویڈن میں فیکٹری لگانا چاہتا ہوں‘ حکومت نے میری درخواست میونسپل کمیٹیوں اور میونسپل ٹاؤنز کے گروپ میں ڈال دی اور مجھے سویڈن کے تمام قصبوں سے آفرز آنا شروع ہو گئیں۔

مجھے کرسٹائین کی آفر زیادہ اچھی لگی‘ یہ ٹاؤن مجھے مفت زمین بھی دے رہا تھا‘ بلڈنگ کے لیے قرضہ بھی‘ دس ویزے بھی‘ ٹیکس میں چھوٹ بھی اور پورٹ تک آمدورفت کا راستہ بھی چناں چہ میں یہاں آ گیا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’تم نے فیکٹری کے لیے کتنی سرمایہ کاری کی‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’زیرو‘ میں مشینری پاکستان سے لایا ہوں‘ چاول بھی وہاں سے درآمد کرتا ہوں‘ باقی ہر چیز یہ دے رہے ہیں‘ عمارت بھی‘ بجلی بھی‘ گیس بھی‘ قرضہ بھی اور رہائش گاہیں بھی‘‘ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی‘ میں نے اس سے پوچھا ’’فیکٹری میں حکومت کا کتنا عمل دخل ہے‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’ہم صرف ایک محکمے کو جواب دہ ہیں۔
ہم ہر دس تاریخ کو ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ای میل کر دیتے ہیں‘ ہمارے ذمے آپ کی اتنی رقم ہے یا آپ نے ہمیں اتنے پیسے دینے ہیں‘ یہ حساب کرتے ہیں اور 20 تاریخ کو ہمارے اکاؤنٹس سے اتنی رقم نکال لیتے ہیں یا پھر ہمارے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور بس‘ ہم کسی دفتر جاتے ہیں اور نہ وہ ادھر آتے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا تم سے آج تک کسی نے رشوت نہیں مانگی‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے ایک بار میئر کو سالگرہ کا کیک بھجوادیا تھا‘ وہ کیک شکریے کے ساتھ واپس آ گیا تھا اور میئر کی سیکریٹری نے معذرت نامہ لکھ کر مجھ سے معافی مانگی تھی‘‘۔

یہ سویڈن کی مثال ہے اور سویڈن پچھلے 20 برسوں سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ایمان دار ترین ملکوں کی فہرست میں ابتدائی نمبروں پر آ رہا ہے‘ پہلے نمبر پر ڈنمارک‘ دوسرے پر نیوزی لینڈ‘ تیسرے پر فن لینڈ ‘چوتھے پر سویڈن اور پانچویں پر سوئٹزر لینڈ ہے‘ آپ کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں ’’یہ ملک 22 سال سے دنیا کے ایمان دار ترین ملک کیوں ہیں؟‘‘ آپ وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے‘ یہ پانچوں ملک کاروبار میں دنیا کے آسان ترین ملک ہیں‘ آپ ان میں سے کسی ملک میں کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔

آپ کو کسی شخص‘ کسی ادارے کے ساتھ ملاقات کی ضرورت نہیں‘ آپ انٹرنیٹ سے فارم نکالیں‘ پر کریں اور آپ کو چند گھنٹوں میں ہاں یا ناں میں جواب آ جائے گا‘ ڈنمارک میں وفاقی حکومت سے لے کر ٹاؤن کمیٹیاں تک بزنس مینوں کی مدد کرتی ہیں‘ آدھ گھنٹے میں کمپنی رجسٹرڈ ہو جاتی ہے اور آپ کو تمام ٹیکس نمبر مل جاتے ہیں‘آپ کام اسٹارٹ کردیں‘ آپ کے ٹیکس کے تمام ایشوز بھی ای میل پر حل ہو جاتے ہیں اور بس‘ آپ کو کوئی ادارہ تنگ نہیں کرے گا‘ آپ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں گے چناں چہ رشوت اور کرپشن کا سارا ایشو ختم ہو گیا‘ ہمیں یہ انڈراسٹینڈ کرنا ہوگا معاشرے میں کرپشن حکومتی اداروں‘ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ اور کاروباری گروپوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔

آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے خلاف کیا مقدمات ہیں؟ یہ تمام مقدمے کاروبار‘ صنعت‘ بینکاری‘ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر سے متعلق ہیں‘ ہم اگر اپنا سسٹم سویڈن کی طرح سیدھا کر دیتے تو یہ لوگ کرپشن نہ کر پاتے‘ ہم اگر آج بھی اپنے سسٹم کو ڈنمارک یا سویڈش ماڈل پر لے آئیں تو کرپشن ختم ہو جائے گی‘ پرتگال ایمان داری میں 30 ویںنمبر پرآتا ہے‘ آپ اس کے کاروباری سسٹم کا مطالعہ بھی کر لیں‘ پرتگال کے صنعت کاروں کو 2016ء میں بجلی کا کنکشن لینے میں چار ماہ لگ جاتے تھے اور کمپنی بنانے کے لیے پانچ اداروں کی منظوری ضروری تھی۔

آج صرف تین سال بعد آپ آن لائن کمپنی رجسٹر کرا سکتے ہیں‘آپ 360 یوروز جمع کرائیں اور آپ کو آدھ گھنٹے میں تمام منظوریاں‘ ٹیکس نمبر اور اکاؤنٹس مل جائیں گے اور آپ کام شروع کر دیں‘ یورپ میں کاروبار بڑی تیزی سے وفاقی حکومت سے نکل کر ٹاؤن کمیٹیوں اور میونسپل کارپوریشنز کے ہاتھ میں جا رہا ہے‘ آپ میئر کو ای میل کریں اور کاروبار شروع کر دیں‘ میرے ایک دوست نے چند دن قبل ہنگری کی حکومت کو خط لکھا‘ اسے میئر نے لنچ کی دعوت دی اور کام شروع کرنے کی پیش کش کر دی‘ میرے ایک دوست نے اپنی فیکٹری یورپ سے کینیڈا شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا‘ میئر نے اپنا بورڈ روم اور سیکریٹری اس کے حوالے کر دی۔

وہ تین ماہ میئر کا بورڈ روم استعمال کرتا رہا اور میئر کی سیکریٹری اس کی ملاقاتوں کا بندوبست کرتی رہی‘ چائے‘ کافی اور سینڈوچ تک میئر کی طرف سے سرو ہوتے تھے‘ یہ وہ اصلاحات‘ یہ وہ رویے ہیں جنھوں نے ان ملکوں کو کرپشن فری بھی بنایا اور ترقی یافتہ بھی جب کہ آپ ان کے مقابلے میں اپنا سسٹم دیکھ لیجیے‘ آپ اگر پاکستان میں کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو آپ 22 اداروں کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘ آپ کو کسی بھی وقت کسی بھی ادارے کا نوٹس آ جائے گا‘ آپ کو کوئی بھی کسی بھی وقت طلب کر لے گا یا پھر آپ کے دفتر آپ کی فیکٹری میں کسی بھی وقت چھاپہ پڑ جائے گا اور آپ ان چھاپوں اور نوٹسز سے بچنے کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں ملک ریاض نے ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا ہاں میں فائلوں کو پہیے لگاتا ہوں‘ جس میں ایک ریٹائرڈ میجر نے ان کے دفتر سے چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر پانچ کروڑ روپے وصول کیے اور وصولی کی فوٹیج تمام چینلز پر چلی ‘ جس میں ملک ریاض نے سر پر قرآن مجید رکھ کر چیف جسٹس آف پاکستان پر کرپشن کا الزام لگایا‘ جس میں شیڈولڈ بینکوں کے جعلی اکاؤنٹس نکل آئے اور جس میں حکومتیں غیر سرکاری بینکوں کے قرضے معاف کر دیتی ہیں‘ حکومت میں آج بھی نصف درجن سے زائد ایسے لوگ موجود ہیں جن پر نیب نے مقدمات بنا رکھے ہیں یا جن کی فائلیں کھلی ہوئی ہیں۔

یہ کیوں ہے؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم کرپشن کرپشن کا شور بہت کرتے ہیں لیکن ہم نے آج تک کرپشن روکنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا‘ ہم نے محکموں کی تعداد کم کی اور نہ اپنے سسٹم کو آسان بنایا‘ آپ آج کاروبار کے لیے ون ونڈو آپریشن کر دیں‘ سسٹم کو آن لائن کر دیں اور محکموں کا عمل دخل ختم کر دیں‘ ملک سے کرپشن ختم ہو جائے گی لیکن جس ملک میں لنگر خانے کا افتتاح بھی وزیراعظم کر رہا ہو وہاں سسٹم کیسے بنیں گے۔

میں نے دو دن قبل وزیراعظم کو چین میں فرماتے ہوئے سنا ’’کاش میں پانچ سو کرپٹ لوگوں کو جیل میں بند کر سکتا‘‘ اور ’’ہم کرپشن ختم کرنے کے لیے چین سے سیکھنا چاہتے ہیں‘‘ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی‘ ہمارے سادہ وزیراعظم یہ تک نہیں جانتے چین ایمان داری میں 87 ویں نمبر پر آتا ہے اور پاکستان 117 نمبر پر ہے گویا دنیا کا 117 واں بے ایمان ملک دنیا کے87 ویں بے ایمان ملک سے ایمان داری کا سبق سیکھنا چاہتا ہے‘ ہم اگرایمان داری کا سبق سیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ڈنمارک‘ نیوزی لینڈ‘ فن لینڈ‘ سویڈن یا سوئٹزر لینڈ جانا چاہیے‘ ہمارے اپنے خطے میں بھوٹان 25 ویں ‘ یو اے ای 23 ویں اور ساؤتھ کوریا 45 ویں نمبر پر آتے ہیں۔

یہ ملک ایمان داری میں چین سے درجنوں درجے آگے ہیں لیکن ہم ان ملکوں کو چھوڑ کر اس چین سے سیکھنا چاہ رہے ہیں جو ہم سے صرف 30 درجے بہتر ہے‘ وزیراعظم شاید چین سے اس لیے متاثر ہیں کہ چینی حکومت نے 400 کرپٹ لوگوں کو جیل میں پھینک دیا یا پھر گولی مار دی‘ وزیراعظم وہ ملک نہیں دیکھ رہے جن میں پچھلے 20 برسوں سے ایک بھی کرپٹ شخص سامنے نہیں آیا اور جن میں سرے سے احتساب کا محکمہ ہی موجود نہیں‘ سیکھنا تو ہمیں ان ملکوں سے چاہیے‘ آپ دنیا کے پانچ ایمان دار ملکوں کے ماہرین کو بلایے اور ان سے سسٹم بنوایے‘ یہ ہمارے ملک کو بھی ایمان دار بنا دیں گے‘ ہم نے اگر چین سے سیکھنا ہی ہے تو پھر ہمیں ان سے ترقی کرنے کا ہنر سیکھنا چاہیے۔

چین میں 2005ء میں ایک بھی ارب پتی شخص موجود نہیں تھا‘ آج فوربس میگزین میں 38 چینی ارب پتی موجود ہیں اور پہلے ارب پتی ماہوئنگ کے اکاؤنٹ میں پاکستان کی کل ایکسپورٹس سے دگنی دولت ہے‘ ان 38 ارب پتیوں کی نیٹ ویلیو پاکستان کے ٹوٹل جی ڈی پی (312 بلین ڈالر) سے زیادہ ہے‘ ہمیں چین سے یہ سیکھنا چاہیے‘ ہمیں ان سے پوچھنا چاہیے

آپ نے ایمان داری کے 87 ویں درجے پر رہ کر بھی کیسے ترقی کر لی؟ آپ کیسے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن گئے؟چناںچہ وزیراعظم چین سے لوگوں کو جیلوں میں پھینکنے یا گولی مارنے کا فن نہ سیکھیں‘ یہ فن آپ کو افریقہ کے ملک زیادہ بہتر سکھا سکتے ہیں‘ آپ روانڈا یا صومالیہ جائیں اور ان سے لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے اور گولی مارنے کا طریقہ سیکھیں‘ یہ ملک مقدمہ چلانے سے پہلے مجرم کو گولی مار دیتے ہیں اور جج قبر پر فاتحہ پڑھ کر گھر چلے جاتے ہیں‘ یہ ملک آپ کو بہتر ٹریننگ دے سکتے ہیں‘ چین سے ہم صرف چین کو چین بنانے کا فن سیکھ سکتے ہیں چناں چہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ چین سے سیدھے صومالیہ جائیں‘ وہاں سے توپ خرید کر لائیں اور پانچ دس ہزار لوگوں کو توپ سے اڑا دیں‘ شاید اس سے یہ ملک سپر پاور بن جائے‘ ہم امریکا سے آگے نکل جائیں۔