"بازار حسن" کی سیر کریں ۔حکومتی سرپرستی میں - محمد عاصم حفیظ

لاہور والڈ سٹی ایک سرکاری ادارہ ہے اس کی جانب سے سوشل میڈیا پر سپانسرڈ مہم چل رہی ہے ۔ 12 اکتوبر کو لاہور کے علاقے ٹیکسالی اور ملحقہ بازاروں ۔ حویلیوں اور چوباروں کی سیر کا پروگرام پیش کیا جا رہا ہے ۔ لاہور میں رہنے والا اور بیرون شہر کے لوگ بھی اس بازار کی شہرت سے بخوبی واقف ہیں ۔

جو جانا چاہتے ہیں ان کے لئے کوئی پابندی نہیں لیکن شائد یہاں جانے کےلئے ایک باقاعدہ ایونٹ بنا کر اس کی سرکاری سطح پر تشہیر پہلی مرتبہ دیکھی ہے ۔ حیران کن بات یہی ہے کہ کیا اب سرکاری سطح پر حکومتی ادارے ان بازاروں کی رونق بڑھانے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کریں گے ۔ اس عیش پرست سیاحت پر خرچ ہونیوالے فنڈز کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے ۔ میٹرو جیسی غریبوں کی سہولت سے سبسٹڈی ختم کر دی گئی کہ حکومت خرچہ برداشت نہیں کر سکتی ۔ لیکن ٹیکسالی کی رونق بڑھانے اور وہاں رقص کی محفلیں سجانے پر سرکاری وسائل خرچ ہو سکتے ہیں ۔ ٹیکسالی سے کون واقف نہیں ۔ اس ایک دن کی سیر کا مقصد بھی واضح ہے کہ مشہور حویلیاں دکھائی جائیں گیں ۔ رقص ہو گا ۔ وہاں قائم میوزک سینیٹرز کے نام پر بنے چوباروں کا وزٹ ہو گا ۔ گائیڈ بتائیں گے کہ کونسی اداکارہ اور فنکارہ کس اکیڈمی سے تربیت حاصل کرکے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی گئی ۔ اشتہار میں "بازاروں" کے نظارے کا بطور خاص ذکر ہے ۔ ماضی کی اداروں نور جہان اور نادرہ بیگم کے گھر دیکھائے جائیں گے ۔ سیر کرنیوالوں کو معروف کوکو ڈن میں لنچ کرایا جائے گا ۔ اس کی اپنی ایک پہچان ہے جہاں جابجا نیم برہنہ مورتیاں لگائی گئی ہیں ۔
مانا کہ لوگ ان بازاروں میں جاتے ہیں لیکن سوال صرف یہ کہ سرکاری سطح پر اس طرح کی سیاحت کو فروغ دینے کی کیا وجہ ہے ؟

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

سوال تو یہ بھی کہ کیا پاکستان کی کلچرل تاریخ صرف گانے بجانے رقص و عیش پرستی سے ہی جڑی ہے ۔ کیا کسی حکومتی ادارے نے کبھی مذہبی تاریخ سے جڑی جگہوں کی سیر کے لیے سہولیات کا بھی اہتمام کیا ہے ۔ یہاں تو حج مہنگا کرتے ہوئے بھی یہ دلیل پیش کی گئی کہ جس نے ثواب کمانا ہے اپنے خرچے پر جائے ۔ لیکن بازار حسن کی سیر و سیاحت کے لیے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کی اجازت ہے ۔ اس کے لئے سرکاری محکمہ بھی موجود ہے اور وہ ہر ہفتے اسی قسم کی سرگرمیاں بھی منعقد کرتا ہے ۔ معمولی سی رجسٹریشن فیس شرکاء سے بھی وصول کی جاتی ہے لیکن ایک پورا محکمہ اس کے اہلکاروں کی تنخواہیں دفاتر کے اخراجات اشتہار بازی کے اخراجات گاڑیوں اور دیگر وسائل حکومت ہی فراہم کرتی ہے ۔ کیا تاریخ اور کلچر جوڑنے سے مراد صرف یہی سرگرمیاں ہیں جو لاہور والڈ سٹی کا محکمہ ہر ہفتے سجاتا ہے ۔ ہر تقریب اور سرگرمی کا محور رقص اور گانا بجانا ہوتا ہے ۔ کیا ہماری تاریخ اور کلچر کا صرف یہی ایک رخ ہے جس پر بے دریغ سرکاری وسائل بھی استعمال کئے جا رہے ہیں ۔ اگر حکومت فضول اخراجات بچا کر کفایت شعاری کی مہم چلا رہی ہے تو تھوڑی توجہ ادھر بھی کر لی جائے کہ بہت سے سرکاری وسائل ایسی سرگرمیوں پر بھی خرچ ہو رہے ہیں جو اتنی بھی ضروری نہیں ۔ دوسری بات لاہور والڈ سٹی کی انتظامیہ کو بھی چاہے کہ اس شہر اور ہمارے ملک کی ساری تاریخ ٹیکسالی ۔ حویلیوں چوباروں اور رقص گاہوں میں ہی نہیں ۔ اپنی سوچ وسیع کریں اور قوم کو بہتر تاریخ سے آشناس کرانے کےلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

--