آخر معاشرہ اتنا بے لگام کیوں؟ راحیلہ چوہدری

گزشتہ دنوں میڈیا پر آنے والے قتل اور عدم برداشت کے چند واقعات نے ایک دفعہ پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ۔کہ دنیا میں اتنی ترقی ہونے کے باوجود بھی پاکستان میں ایسے رویوں کے حوالے سے کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ کبھی اللہ کی طرف سے چند واقعات اکٹھے ہوکر میڈیا اور سوشل میڈیا پرآ جائیں تو چند دن میڈیا کچھ پروگرامز کرتا ہے۔

ایک دو ہفتے خوب خبریں چلتی ہیں اور نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔نہ ظلم کرنے والوں کو سزا ملتی ہے اور نہ ظلم سہنے والوں کو انصاف ملتا ہے۔معاشرہ اپنی اسی روش پر چلتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ۔ایک ایسی مخلوق جس کو اللہ نے علم عطا کیااور علم کے ساتھ شعور عطا کیا۔لیکن اس دور کے انسان کو دیکھ کر لگتا ہے نہ اس کے پاس علم ہے نہ شعور۔انسانی جذبات کا دورانیہ صرف 12منٹ ہوتا ہے۔وہ جذبہ محبت کا ہو،حسد کا ہو،غصے کا ہو خواہ کوئی بھی جذبہ ہو اس کا دورانیہ صرف 12منٹ کا ہوتا ہے۔آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ایک انسان ایک مسلمان انسان صرف 12منٹ کے لیے خود پہ قابو نہیں پا سکتااور وہ دن بہ دن حیوانیت کے درجے سے بھی گرتا چلا جا رہا ہے۔آخر ایسا کیوں کہ ایک مسلم معاشرے میں لوگوں کو اپنے جذبات پر قابو نہیں جس کا جس پہ بس چلتا ہے بندہ مار کے دم لیتا ہے۔ہر انسان اس مسئلے کا حل چاہتا ہے کہ کیوں معاشرے سے برداشت ختم ہو رہی ہے۔کیوں ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی رویوں کی جگہ حیوانی رویے جنم لے رہے ہیں۔یہ رویے یہ معاشرہ تبدیل تو سب کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے کوشیش کوئی بھی نہیں کرتا۔جب بھی ایسے تکلیف دے واقعات منظرِ عام پہ آتے ہیں۔ہم حکومت اور معاشرے کو الزام دے کر خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔جیسے ہمارا فرض پورا ہو گیا۔

معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے لگامی کی بہت سی وجوہات ہیں۔جس میں سب سے بڑی وجہ حکومتی سطح پر قوم کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔نظامِ تعلیم کو فوری طورپربدلنے کی ضرورت ہے۔جب تک ہم اسکول کے بچوں کو اخلاقی لحاظ سے مضبوط نہیں بنائیں گے۔یہ معاشرہ بے لگام ہی رہے گا۔جب تک تعلیمی نظام تربیت سے نہیں جڑے گا۔لوگوں کی زندگیاں بے مقصد رہیں گی اور جس معاشرے میں بے مقصدیت بڑھ جائے وہاں انسانیت کی جگہ حیوانیت ہی لیا کرتی ہے۔ معاشرے میں بے لگامی کی دوسری اور اہم وجہ ہمارا میڈیا ہے۔جس نے مادیت دکھا دکھا کر انسان کو مایوسیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ میڈیا کا یہ کام تھا کہ وہ مذہب کی حفا ظت کرتا۔قومی سلامتی کے لیے مناسب پابندیاں عائد کرتا۔معلومات،تعلیم اور تفریح کے معیار کو بہتر بناتا۔نہ کہ فحاشی وعریانی کو پروان چڑھاتااور فحاشی کو ایک پلٹ فارم مہیاکرتا۔میڈیا کا یہ کام تھا کہ وہ عوام کو سیاست دانوں کے کارنامے دکھاتا۔نہ کہ عوام کے سامنے مناظرے کرواتا۔جس معاشرے میں تعلیم و تربیت کا فقدان ہواور ایسے معاشرے کا میڈیا آئے روز نوجوانوں کو یا تو بے مقصد تفریح فراہم کرتا رہے یا معاشرے کی خامیوں کو بے نقاب کرتا رہے توایسے معاشرے کو بے لگام ہونے سے کون بچا سکتا ہے۔؟ اس وقت معاشرے میں رویوں کی جو صورت حال ہے اس کی جو بھی وجہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈور اور ڈر- محمدناصراقبال

معاشرے کی بے لگامی کو روکنے میں ہر فرد ذاتی طور پر ایک اہم کردارادا کر سکتا ہے۔ میڈیا نے مادیت دکھا دکھا کر ہر انسان کو اچھی گاڑی اچھا مکان کی دوڑ میں لگا دیا ہے۔مادی چیزوں کو حاصل کرنے کی خواہش میں ہر انسان بس دوڑتا چلا جا رہا ہے۔مادی خواہشات کو پورا کرنے کی ہوس میں اسے اپنے آس پاس نہ کچھ دکھائی دے رہا ہے نہ سنائی۔اللہ کا قانون ہے اس نے کسی کو زیادہ دیا ہے کسی کو کم ۔ اس میں بھی معاشرے کا امتحان رکھا ہے۔معاشرے کے سب سے اوپر والے طبقے کی یہ ذمہ داری تھی۔کہ وہ نچلے طبقے کو ہر لحاظ سے اپنی ذمہ داری سمجھتا۔نہ صرف اپنے فائدے کے لیے اس کی چند ضروریات پوری کرتا۔بلکہ اس کی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم و تربیت کا بھی مناسب انتظام کرنے کی کوشیش کرتا۔معاشرے کی بے لگامی کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے لینے والے ہاتھ کو دینے والا ہاتھ نہیں بنایا۔اپنے نبیؐ کی سنت کے مطابق اس طبقے کو کبھی اپنے برابر کھڑا کرنے کی کوشیش نہیں کی۔پاکستان میں آج بھی لوگ سب سے زیادہ بھوک اور پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسی امیر طبقے کے ناجا ئز کاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔میڈیا کے بعد ہمارا اوپر والا طبقہ معاشرے کی بے لگامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس کے پاس جو ہے اس نے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا۔صرف اپنے نفس کی تسکین کے لیے راہ ِ خدا میں خرچ کیا معاشرے کو ذمہ داری سمجھ کر اس نے خرچ نہیں کیا۔

آ ج ایک لمحے کے لیے رک کے ہمیں دوبارہ اپنے آپ کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ معاشرہ کون ہے؟ معاشرہ ہم ہیں۔ہمارا عمل معاشرہ ہے۔ہم کب تک اس معاشرے اور حکومت کو الزام دیتے رہیں گے۔یہ معاشرہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ معاشرے کی اصلاح کا عمل بالکل اپنی اولاد کی تربیت کی طرح ہے جس سے ایک لمحہ بھی نظر ہٹائی نہیں جا سکتی۔ معاشرے کی اصلاح کا عمل بالکل اپنی اولاد کی تربیت کی طرح ساری عمر جاری و ساری رکھا جاتا ہے۔ہر فرد کو آج یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم سے کتنے لوگ ہیں جو روزانہ کی بنیادوں پر اپنی خواہشات کے علاوہ اللہ اور رسول ؐ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے نفس اور معاشرے کی اصلاح کو روزانہ کی بنیادوں پر ترجیح دیتے ہیں۔اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم سب اپنے سے جڑے لوگوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیں۔ایسی محافل کا انتظام کریں جس میں کوئی دین اور دانش کی بات ہو۔اس حوالے سے میڈیا کو جلد اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بے مقصد اور بے معنی پروگرامات اور تفریح کو فوری طور پر بند کرے او ر ایسے پروگرامز دکھانے کا خاص طور پر اہتمام کرے جس میں ہمارا ان پڑھ طبقہ شعور کی سیڑیاں چڑھنا سیکھ سکے۔