آزادی مارچ کیوں؟؟ - محمد احمد

مولانا فضل الرحمن صاحب کے سیاسی فہم اور بصیرت کے دوست و دشمن سب ہی قائل ہیں، مولانا صاحب انتہائی زِیرک، مدبر اور مُعاملہ فَہم سیاستدان ہیں. ملک پر مشکل اور کٹھن حالات میں مولانا صاحب کی سیاست ملک وملت کے مفاد میں ہوتی ہے. مولانا نے ہروقت اداروں کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے. اپنی تمام تر جدوجہد جمہوری، آئینی اور قانونی دائرے میں کی ہے. کبھی مزاحمت اور بغاوت کی بات نہیں کی ہر وقت مصالحت اور مفاہمت کو ترجیح دی ہے. مذہبی طبقے کو نظر انداز کرنے کی شکایت مولانا فضل الرحمن صاحب کی پرانی ہے اور یہ ایک حقیقت بھی ہے. یہ ملک اسلام کے نام پر بنا لیکن آج تک یہاں اسلام کی بہار نہ آسکی آخر کیا وجوہات ہیں؟مجھے خطیبِ پاکستان مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب کی بات یاد آتی ہے وہ ارشاد فرمایا کرتے تھے:

پاکستان بننے سے تاجر طبقہ، افسر شاہی اور سیاستدانوں نے تو خوب فائدہ اٹھایا، تاجروں نے اپنی تجارت بڑھائی اور افسران کے پروموشن ہوئے اور سیاستدانوں نے کوٹھیاں اور بینک بیلنس بنائے لیکن مولوی طبقہ مظلوم رہا جن سے وعدہ خلافی کی گئی ان کو اسلامی نظام نہیں دیا گیا. آخر رکاوٹ کون؟؟؟ اس پر روشنی ڈالتی ہوئے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب زیدمجدھم نے ایک تقریب میں فرمایا تھا کہ :سب سے پہلے اسلامی نظام کے نفاذ میں گونر جنرل ملک غلام محمد نے روڑے اٹکائے، جو ایک انگریز کے وفادار اور مغربی گماشتہ تھے. اب فیصلہ مشکل نہیں پھر ان کی باقیات باقاعدہ مذہبی جماعتوں کو نظر انداز کرتی چلی آرہی ہے. آخر صبر اور برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے جب نادیدہ قوتیں وہ سب حدیں پار کرگئیں تو پھر مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس عوام کے پاس جانے کے علاوہ اور کونسا راستہ بچتا تھا؟ مولانا فضل الرحمن صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ 2018 کے الیکشن میں بدترین انجنئرنگ دھاندلی کی گئی،دہاندلی کی شکایت سب جماعتوں نے کی اور مشترکہ طور پر الیکشن کے نتائج کو مسترد کردیا. مولانا فضل الرحمن صاحب نے تو نتیجہ قبول نہ کرنے اور حلف نہ اٹھانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن اپوزیشن نہ مانی بالآخر مولانا صاحب نے رائے عامہ ہموار کرنے کا فیصلہ کیا. ایک سال میں مولانا صاحب نے پندرہ کامیاب ملین مارچ کیئے، جس میں مولانا صاحب کے بیانیہ اور موقف کو بیحد پذیرائی ملی. مولانا صاحب نے ایک لمحے کے لیے بھی اس نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کے لئیے نرم موقف اور لچک نہیں دکھائی.

یہ بھی پڑھیں:   حکومت اخلاقی قوت سے محروم ہے - عمار خان ناصر

جب عمران خان چار حلقوں کے لیئے ملک کو یرغمال بنا سکتے ہیں اور 120 دن تک ڈی چوک پر دہرنا دے سکتے ہیں، تو پھر جی یو آئی کیوں نہیں آزادی مارچ کرسکتی ہے؟ ان کے تحفظات تو پی ٹی آئی سے بڑھ کر ہیں اور زمینی حقائق بھی اس کی تصدیق کررہے ہیں کہ یہ حکومت مکمل طور پر نااہل ثابت ہوچکی ہے، عوام کے جان مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے. اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا صاحب اس مارچ کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کچھ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ حکومت آزادی مارچ سے پہلے ہی چلی جائے گی، لیکن حالات ان تجزئوں کی تردید کررہے ہیں. مولانا صاحب نے جو مطالبات رکھیں ان میں پہلا مطالبہ جو سرفهرست ہے کہ الیکشن دوبارہ کرائے جائیں اس مطالبہ پر وہ کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیئے تیار نہیں. جی یو آئی کی عوامی طاقت کا کوئی انکاری نہیں، ملک کے کونے کونے میں انہوں نے جو پاور شو کیئے ہیں، اس سے ان کی عوامی طاقت کا بھرپور اندازہ لگایا جا سکتا ہے. اب انکے آزادی مارچ کا فیصلہ بھی اٹل ہے اور تاریخ کا بھی اعلان کردیا گیا ہے. نہیں لگتا حکومت اس عوامی ریلے کے سامنے ٹک سکے گی، بالآخر حکومت ہار جائی گی.کیونکہ مولانا صاحب جن عزائم کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے کارکنان میں جس طرح کا جوش وخروش پایا جارہا ہے، ان سے لگتا ہے حکومت جلد گھٹنے ٹیک دے گی.

اگر کسی بدخواہ مشیر نے حکومت کو مزاحمت کا مشورہ دیا جس طرح وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے بیانات اور وزیر اعلی کے پی کے محمود خان کے دہمکی آمیز بیان سے لگتا ہے، پھر یہ فیصلہ حکومت کو مہنگا پڑیگا اور پورا ملک جام ہوجائے گا. کیونکہ جی یو آئی ایک پُرامن اور جمہوری جماعت ہے، احتجاج اور مارچ ان کا حق ہے کسی طرح انکے مارچ کو روکنا غلط اور غیر قانونی تصور ہوگا.سوچنے کی بات یہ ہے کہ مولانا صاحب جیسی بردبار اور صبر آزما شخصیت آخر اتنا بڑا قدم اٹھانے پر کیوں مجبور ہوئی؟جواب بڑا سہل اور آسان ہے اس کے پیچھے ستر سالہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ نا انصافی ہے. اس طبقہ نے ملک پر جانیں نچھاور کی اور تعمیر وترقی کے لئیے پیش پیش رہے، لیکن بدلے میں ان کی حب الوطنی کو مشکوک قرار دیا گیا. ہر بار ان کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا گیا. الیکشن میں ان کو نظر انداز کردیا جاتا. یہی عوامل کارفرما تھے جنہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کو مجبور کیا کہ اپنے پسے ہوئے طبقہ کی آزادی کی جنگ لڑیں اور بالادست قوتوں اور مغرب کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان کی خمیر میں اسلام داخل ہے اور اس کے معمار یہ ملا لوگ ہیں، اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ بھی یہ خدا مست لوگ ہیں. اس آزادی مارچ کا بڑا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان میں مذہبی طبقے کو نظر انداز کرنا کسی کے بس کی بات نہیں، یہ ملک مذہبی ہے اور رہے گا. مولانا صاحب نے مارچ کی تاریخ کے اعلان میں بھی بڑی چالاکی اور دانشمندی سے کام لیا ہے جس روز دنیا کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کری گی،

یہ بھی پڑھیں:   پانچ آدمی ہیں، پانچوں کی کہانی معلوم - ہارون الرشید

اس روز جی یو آئی بھی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ اپنا مارچ شروع کردے گی. اس روز حکومت نے قافلوں کو روکنا ناممکن ہے،اگر یہ کوشش کی تو حکومت کا کشمیر کے حوالے سے امیج خراب ہوگا.باقی مولانا صاحب کو مذہبی کارڈ اور مدارس کے طلبہ کا طعنہ دینے والوں کی عقل گھاس چرنے گئی ہے یا سرے سے عقل کی نعمت سے محروم ہیں. مذہب وطن عزیز کا مملکتی مذہب ہے، آئین پاکستان ضمانت دیتا ہے کہ یہاں قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی،ناموس رسالت کے تحفظ اور انسدادِ توہین رسالت کی بات وطن عزیز کا دستور کرتا ہے. مدارس کے طلبہ بھی ملک کے شہری ہیں. ان کو قانون سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے، ملک میں جب بھی سیاسی تحریک چلی ہو جامعات کے طلبہ بھرپور حصہ لیا. ایوب خان کی تحریک میں طلبہ پیش پیش رہے. بھٹو صاحب کے دست بازو بھی طلبہ تھے.
پھر مدارس کے طلبہ پر قدغن کیوں؟ یہ دہرا معیار کیوں؟ دوسری بات مولانا صاحب کی تحریک کا انحصار طلبہ پر نہیں جی یو آئی بھرپور عوامی قوت رکھتی ہے. پینتالیس لاکھ ان کی رکنیت سازی ہے، لاکھوں میں انکا اپنا ووٹ بینک ہے. پھر یہ طعنے کہ مدارس کے معصوم طلبہ کا سہارا لیا جارہا ہے،یہ محض پروپیگنڈا اور حکومتی ٹولے کی سازش لگتی ہے. بہرحال معرکہ قریب ہوا چاہتا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے. ملکی تاریخ میں منفرد نوعیت کا احتجاج ہونے جارہا ہے. سب طبقوں کو شدت سے انتظار ہے،نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں.

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • وقت کے ضرورت اور ہمارا رویہ

    میں ایک عام سی زندگی گزارنے والا سنی بریلوی سادہ سا انسان ہوں صحافت سے لگاؤ ہے لیکن صرف سیاست کی حد تک.. یا صرف ٹائم پاس کے لیے.. مسئلہ کشمیر کا نام تو بہت دیر سے سنتے آئے ہیں.. لیکن افسانوی انداز میں...اس کا حل یا اصل ایشو کیا ہے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا تھا... کچھ عرصہ پہلے کشمیر کا نام بڑے زوردار انداز میں میڈیا کی زینت بنا .. تو کچھ کشمیر کے بارے میں دلچسپی بڑھی تو دیکھتے ہی دیکھتے اس میں پلوامہ اٹیک کی گونج بھی سنائی دینے لگی .. کشمیر سے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے پلوامہ اٹیک اور اس سے جڑے دوسرے مسائل نے مجھے بہت تجسس میں ڈالا ... اسی تجسس نے مجھے ان مسائل کی کھوج لگانے پے مجبور کر دیا... ان سب کی چانچ کے لیے گوگل سرچ اور میڈیا کو کھنگالنا شروع کیا تو انڈین چینل کے کچھ کلپس نے میرے تجسس میں مزید اضافہ کیا اور معلومات کے انبار تک بھی رسائی آسان کر دی..! مزید تجسس یہ کہ انڈین میڈیا نے اس سارے معاملے میں جیش محمد اور مولانا مسعود اظہر کا نام اتنی باریک بینی سے ہائی لائٹ کیا.. کہ مجھے پاکستان کا شہری ہونے کے باوجود اتنا معلوم نہیں کہ ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں.. جن سے انڈیا اتنا خوف زدہ ہے..! پلوامہ اٹیک سے رلیٹڈ ایک کلپ دیکھنے کو ملا جس میں ایک نوجوان انڈیا کو جیش محمد کا نام لے کر للکار رہا ہے.. جس کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن الفاظ میں بیان کرنا..! کم از کم میرے لیے تو بہت مشکل ہے... اس کا نام عادل ڈار ہے اس کا لب و لہجہ اتنا شاندار ہے کہ بار بار سننے کو دل چاہتا ہے...! میری اسی تحقیق اور تجسس کے بیچ کشمیر کا لاک ڈاؤن ہو گیا.. انڈیا کے اس خونی جبر کے بعد.. میرے پاک وطن کے حکمرانوں کا غیر سنجیدہ ردعمل اور عسکری قیادت کا دبے اور سہمے ہوئے لہجے میں انڈیا کو وارننگ دینا.. دیکھ کے دل پسیج کے رہ گیا.. کشمیر کو شہ رگ کہنے والے.. اور دنیا کی نمبر ون فوج رکھنے کا راگ الاپنے والے.. ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں...نے عملی اقدامات اور بہادری کے جوہر دکھانے کے بجائے...! دنیا کے سامنے التجائیں شروع کر دیں .. اور کشمیر کے مظلوموں کے خون پے اپنی سیاست چمکانے اور دنیا کو تماشہ دکھانے کے لیے احتجاج پر نکل آئے..! ہماری بہادر فوج بھی سیاست دانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے بعض جگہ احتجاج میں بھی شریک اس کو بہدری کا نام دے رہیں ہیں اور سیاست دان طبقہ ابھی تک صرف ہاتھ کے زنجیروں کا سہارا لے رہا ہیں.. بس اب عوام کی بہادری کی دیر ہیں

    (شیراز علی )میں ڈپلوما ہولڈر ہوں اور بچوں کے ایک رسالے میں ریٹر بھی ہوں