پشیماں ہونا- خورشید ندیم

صف بچھ گئی اور ماتم کا آغاز ہو چکا۔
کسی کو صدمہ ہے کہ بیس سال کی محنت رائیگاں گئی۔ کسی کو اپنے فنِ بت گری پر شک ہونے لگا ہے کہ جو خد و خال اس نے تراشے تھے، وہ کسی ابنِ مریم کے نہیں تھے۔ پتھر کے اندر سے بھی ایک پتھر ہی نکلا۔ نقوش دل کش مگر بے جان۔ بے مغز تجزیوں اور بے سرے خطبات کا ایک ڈھیر سامنے پڑا ہے۔ جن میں عزتِ نفس کی کوئی رمق باقی ہے، وہ پہلے خود کو کوستے ہیں، دوسروں کی عقل کا ماتم بعد میں کرتے ہیں۔ اکثر کو یہ توفیق بھی نہیں۔ اس پر اصرار بھی ہے کہ وہ بدستور قوم کی راہنمائی فرماتے رہیں گے‘ الا یہ کہ عالم کا پروردگار اس کے برخلاف کوئی فیصلہ سنا دے۔

بت سازی کا یہ کاروبار نیا نہیں۔ کیا یہاں الطاف حسین کا بت نہیں تراشا گیا؟ ان گناہ گار آنکھوں نے ڈیڑھ دو سال پہلے ہی ایک قومی اخبار میں ایک کالم پڑھا کہ قوم نجات چاہتی ہے تو الطاف حسین کا عَلم تھام لے۔ حیرت میں ڈوب گیا کہ الطاف حسین صاحب کا اندر باہر، آشکار ہو چکا۔ یہ کیسی دانش اور دانائی ہے جو قوم کو ان کی طرف رجوع کی دعوت دے رہی ہے؟ مصطفیٰ کمال کا بت تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے تراشا گیا۔
اور تو اور یہاں لوگوں نے وزارتِ صحت پنجاب کو بھی مسیحا بنا کر پیش کیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب راولپنڈی کے اخبارات میں کم از کم دو افراد کے مرنے کی خبر شائع نہ ہوتی ہو۔ یہ وہ بد نصیب ہیں جو ڈینگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ میں خبر پڑھتا ہوں تو یہ سب قصیدے اور منقبت میرے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اب تو لوگ مایوسی میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں کہ موسم بدلے، سردی آئے اور خدائی بندوبست ہی اس عذاب سے نجات دلائے۔

انسان بتوں سے امیدیں باندھ لیتا ہے۔ غلطی اس کی سرشت میں ہے۔ شرک کی ایک طویل تاریخ ہے جو کبھی 'ابوالحکم‘ کے گھر سے ہو کر گزرتی ہے۔ حیرت اس پر نہیں، پریشانی اس کی ہے کہ جب سراجِ منیر سامنے ہو، اور اس کی روشنی سے زندگی جگمگا اٹھے، کوئی اس کے بعد بھی شرک پر اصرار کرے۔ ایسے 'ابوالحکم‘ کو اگر 'ابو جہل‘ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ ان کی اصلاح کا، کیا کوئی امکان ہے کہ جو اس کے بعد بھی، فیض کے لیے بتوں ہی سے امیدیں باندھیں اور بت تراشی کو شعار کریں؟
2014ء میں عمران خان کی شخصیت اپنی اصل صورت میں ہمارے سامنے تھی، جب انہوں نے اپنی زندگی کی آخری اننگز، امپائر کی مدد سے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اگر ان کے بارے میں کوئی ابہام باقی تھا تو اس کے بعد ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ اب وہ عام سیاست دانوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے تھے۔ رومان کا طلسم کدہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے گرا دیا جو ان کے گرد محنت شاقہ سے تعمیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے زبانِ حال سے بتا دیا کہ یہ سب نظر بندی تھی۔ جادوگر بدیس جا بسے اور کسی ہسپتال میں ملازم ہو گئے۔

روشنی پھیل چکی تھی مگر کچھ لوگ اصرار کرتے رہے کہ اندھیرے کو روشنی مان لیا جائے۔ اسے آج کے دور میں 'پوسٹ ٹروتھ‘ کہا جاتا ہے۔
دانش کا باب تو، میرا احساس ہے کہ اس کے بعد بند ہو گیا۔ اندھیرے کے سوداگروں کو معلوم ہو جانا چاہیے تھا کہ روشنی پھیل چکی ہے۔ وہ کیسی دانش ہے جو پیش پا افتادہ چیزوں کو بھی نہ دیکھ سکے۔ اس کے باوجود بت کو مزید تراشنے کی کوشش جاری رہی، حتیٰ کہ اس کے خد و خال بدلنے لگے۔ 'مزید نقش نگاری‘ کے بعد ایک ایسی صورت سامنے تھی کہ خود بت تراشوں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اب وہ کہنے لگے ہیں کہ یہ تو وہ بت نہیں، جو ہم نے تراشا تھا۔
عمران خان صاحب کا مقابلہ بتوں سے نہیں تھا۔ ان کے سامنے جیتے جاگتے انسان تھے۔ ان کی خوبیاں آشکار تھیں اور خامیاں بھی۔ نواز شریف اور آصف زرداری کو لوگ ہر طرح سے دیکھ چکے تھے۔ چند احمق تو ہر جگہ ہوتے ہیں‘ ورنہ جو ان کو عمران خان پر ترجیح دیتے ہیں، وہ انہیں انسان ہی مانتے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے پاکستان کے لیے کیا کیا، اچھا کیا یا برا، اس کے شواہد موجود ہیں۔ قیاس آرائی اور الزام تراشی کو نکال دیجیے تو بہت کچھ دیکھا جا سکتا ہے اور سنا بھی جا سکتا ہے۔ عدالتی فیصلے ہمارے سامنے ہیں اور ارشد ملک صاحب بھی۔ ان کے بارے میں ایک عقلی مقدمہ قائم کرنا آسان ہے۔

عمران خان صاحب سر تا پا رومان تھے۔ رومان ہمیشہ غیر حقیقی توقعات اور خواہشات سے مملو ہوتا ہے۔ ٹارزن سے سپر مین تک، انسان چاہتے ہیں کہ خیالی شخصیات اور تصورات کو اپنے ارد گرد چلتا پھرتا دیکھیں۔ انسانوں کی اس خواہش کو لوگ کاروبار بنا لیتے ہیں۔ ٹارزن اور جل پری کی فلم دیکھنے کے لیے لوگوں کی قطار بندھ جاتی ہے۔ رومان جس دن عقل کی بھٹی سے گزرتا ہے، اس کا ملمع اتر جاتا ہے۔ لوگ دیکھ لیتے ہیں کہ پیتل پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا تھا۔ کچھ اس کے بعد بھی مان کر نہیں دیتے۔ ایسے استثنا کی بات چھوڑیے، اب کم و بیش سب مان گئے ہیں کہ ایک سراب تھا، وہ جسے دریا سمجھ بیٹھے تھے۔
عمران خان صاحب کیوں ناکام ہوئے؟ جو لوگ شاعری سے نثر، یعنی رومان سے حقیقت کی طرف آئے ہیں، انہوں نے اس سوال کا عقلی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ وہ اب ایک دو تین کر کے، اس ناکامی کے اسباب گنوا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اسباب بتائے جا رہے ہیں، وہ کبھی پردہ اخفا میں نہیں تھے۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ان کے ادراک کے لیے شاعری نہیں، نثر کی زمین پر قدم رکھنا پڑتا ہے۔
یہ عمران خان ہوں یا کوئی اور خان، انسان کا اصل مسئلہ نرگسیت ہے۔ وہ جب اپنی ذات کے حصار میں قید ہو جاتا ہے تو خود کو مافوق الفطرت سمجھنے لگتا ہے۔ جیسے وہ فی الواقعہ ٹارزن ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی سوچ کبھی غلط ہو سکتی ہے اور نہ انتخاب۔ اس کی زندگی ایسے واقعات سے بھرپور ہوتی ہے‘ جو بتاتے ہیں کہ اس کا انتخاب بارہا غلط ثابت ہو چکا۔ اس کے باوجود وہ مان کر نہیں دیتا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کے اکثر بت تراش بھی ان کے 'ہم عارضہ‘ ہیں۔

آج عمران خان کے بارے میں بحث دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ان کے حامی تجزیہ نگاروں میں اتفاق ہو چکا کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ اب اسباب کا کھوج لگایا جا رہا ہے۔ اس تحقیق اور دانش کا نتیجہ کچھ بھی ہو، اب دیکھنا یہ ہے کہ تیسرے مرحلے کا آغاز کب ہوتا ہے؟ کیا مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں ہوگا؟ اس سوال کے جواب کے لیے شاید بہت انتظار نہ کرنا پڑے۔
کیا یہ محض عمران خان صاحب کی ناکامی ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ اس دانش کی ناکامی بھی ہے جس نے بت تراشی کو شعار کیا۔ انسانوں میں دیوتا تلاش کیے۔ لوگوں کو نثر سے نکال کر شاعری پہ لگا دیا۔ اس بات کو فراموش کیا کہ خواب شاعری کی زبان میں لکھے جاتے ہیں اور تعبیر نثر میں۔ عمرانیات و سیاسیات کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا جو بتاتے ہیں کہ انسانی معاشرے کیسے تبدیل ہوتے ہیں۔ لوگوں کو عقل و شعور کا راستہ دکھانے کے بجائے انہیں ہیجان میں مبتلا کیا گیا۔

تیسرے مرحلے میں اہم سوال ایک ہی ہوگا: ہم نے ماضی کے تجربات سے سیکھنا ہے یا ابھی مزید تجربات کرنے ہیں؟ عوام کے پاس جانا ہے یا خواص کے پاس؟ عوام کی اجتماعی بصیرت پر اعتماد کر نا ہے یاکسی ادارے کی انفرادی بصیرت پر؟ سیاسی نظام اگر مضبوط اساسات پر کھڑا ہو تو ٹرمپ جیسا آدمی بھی چل جاتا ہے۔ جو ملک تجربہ گاہ بنا دیے جاتے ہیں، وہاں صرف خلفشارجنم لے سکتا ہے۔ ہر سال نیا تجربہ، نیا خلفشار۔
صفِ دوستاں، صفِ ماتم میں بدل چکی۔ آج افراتفری کا راج ہے۔ صرف ایک شاخِ امید ہری ہے: 'خود تو دیانت دار ہے‘۔ میرا احساس ہے کہ خزاں نے اس طرف کا رخ کر لیا ہے۔ جیسے جیسے پارٹی فنڈز کا مقدمہ آگے بڑھے گا، پت جھڑ میں اضافہ ہوگا۔ 'احتساب سرِعام‘ کا نعرہ بلند کرنے والی جماعت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور الیکشن کمیشن میں درخواست پر درخواست دی جا رہی ہے کہ مقدمے کی تفصیلات کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔ شخصی دیانت کے بھرم میں الیکشن کمیشن کاصرف ایک فیصلہ حائل ہے۔ دیکھیے، یہ بھرم مزیدکتنے دن قائم رہتا ہے!
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ