Slow Cycling - خالد مسعود خان

الحمد للہ اس وقت پنجاب میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ مصروف عمل ہے‘ لیکن بے برکتی کا یہ عالم ہے کہ مجھے اس لمبی چوڑی کابینہ میں دو چار وزیروں کے علاوہ کسی کا نام نہیں آتا۔ یہ دو چار وزیر بھی وہ ہیں ‘جن میں سے ایک ملتان کا ہے‘ تاہم مجھے اس کی وزارت کا نام معلوم نہیں۔ باقی کے دو چار وہ ہیں‘ جن کا نام مال بنانے کے حوالے سے مختلف لوگوں کی زبانی سنا ہے۔ باقی وزراء کون ہیں؟ کیا کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی کیا ہے؟ یہ اس عاجز کو معلوم نہیں۔
پہلے پہل تو مجھے اپنی لا علمی‘ نالائقی اور جنرل نالج میں اس قدر نا اہلی پر اپنے آپ پر ہی بڑا غصہ آیا‘ لیکن یہ غصہ چند لمحوں کا تھا۔ جونہی میں نے اپنی اس لا علمی پر غور کیا‘ میرا سارا غصہ اور افسوس کافور ہو گیا۔ آپ خود بتائیں‘ بھلا ایسی کابینہ کے نام اور کارکردگی کے بارے میں کوئی جان سکتا ہے‘ جو کچھ کر ہی نہ رہی ہو؟ جو دو تین وزراء ''کچھ کررہے ہیں‘‘ ان کے بارے میں تو اس عاجز کو کسی نہ کسی صاحب علم کے ذریعے کافی کچھ معلوم ہوچکا ہے۔ صرف انہی لوگوں کے بارے میں لا علم ہوں ‘جو الا ماشاء اللہ خود بھی کچھ نہیں کر رہے۔ جب وہ خود کچھ نہیں کر رہے تو مجھے کیا پڑی ہے کہ ان کے بارے میں جاننے میں ہلکان ہوتا پھروں۔

پنجاب کی موجودہ کابینہ مع وزیراعلیٰ کو دیکھنے کے بعد مجھے اپنا ایمرسن کالج ملتان کا کھیلوں والا ہفتہ یاد آ گیا ہے۔ ایمرسن کالج میں ہر سال کھیلوں کا ہفتہ منایا جاتا تھا۔ اس ہفتے میں کالج بھی لگا رہتا تھااور کھیل بھی جاری رہتے تھے۔ چھوٹے اور لمبے فاصلے کی دوڑیں‘ نیزہ پھینکنے‘ گولہ پھینکنے‘ زنجیری گولہ پھینکنے کے مقابلے‘ رکاوٹوں کی دوڑیں‘ لانگ جمپ‘ ہائی جمپ‘ پول والٹ‘ سٹیپل چیز دوڑ اور دیگر کئی اقسام کی کھیلیں ہوتی تھیں۔ دیگر دلچسپ چیزوں میں تکیوں کی لڑائی ہوتی تھی‘ جس میں زمین سے چار فٹ کے قریب بلند لگے ہوئے لوہے کے پائپ پر دو طالبعلم دونوں طرف ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جاتے تھے اور ایک ہاتھ سے اس پائپ کو پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے ایک دوسرے پر روئی بھرے تکیے سے حملہ کر دیتے تھے۔ یہ کھیل کسی ایک فریق کے نیچے گر جانے پر ختم ہو جاتا تھا۔ نیچے ایک عدد گدا رکھا ہوا ہوتا تھا‘ تا کہ شکست خوردہ کھلاڑی جسمانی چوٹ والے دوسرے نقصان سے محفوظ رہ سکے۔

یہ بڑا دلچسپ مقابلہ ہوتا تھا ‘لیکن مقابلے سے بھی کہیں زیادہ دلچسپ وہ رننگ کمنٹری ہوتی تھی ‘جو مرحوم پروفیسر اقبال عباس نقوی صاحب کیا کرتے تھے۔ مرحوم نقوی صاحب کی یادداشت تو ایسی تھی کہ میں آج اس بارے میں سوچ کر حیران ہو جاتا ہوں۔ انہیں سات آٹھ سال کے بعد بھی میرے مرحوم بھائی طارق محمود خان کا رو ل نمبر یاد تھا۔ انہوں نے بتایا اور میں نے گھر جا کر بھائی جان سے پوچھا تو درست نکلا۔ صرف یہی نہیں‘ انہیں اپنے ہر اس طالبعلم کا نام اور رول نمبر یاد تھا‘ جو نصابی یا ہم نصابی سرگرمیوں میں تھوڑا سا بھی نمایاں ہوتا تھا۔ وہ کمنٹری ایسی کرتے کہ کھیل سے زیادہ لطف آتا۔ درمیان میں برمحل اشعار کا استعمال۔ بلا مبالغہ سینکڑوں نہیں‘ بلکہ ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے اور ہر موقعے کے لیے فوری طور پر دستیاب بھی۔

اسی سپورٹس ویک میں تین ٹانگوں والی دوڑ ہوتی۔ دو طلبہ کی ٹیم بنتی۔ ایک طالبعلم اپنی دائیں ٹانگ اپنی ٹیم کے دوسرے رکن کی بائیں ٹانگ سے باندھ لیتا۔ دوڑ شروع ہوتی تو اکثر طلبہ دو چار قدم بھاگنے کے بعد ہی گر جاتے۔ یہ دراصل تال میل کا نام تھا۔ جو طلبہ دو رکنی ٹیم بنا کر اپنا تال میل درست کر لیتے‘ وہ جیت جاتے۔ فینسی ڈریس ہوتا‘ جس میں طلبہ مختلف بہروپ بدلتے۔ سب سے مزیدار اور دلچسپ مقابلہ اساتذہ اور طلبہ کے درمیان رسہ کشی کا ہوتا۔ سپورٹس کے سامان والے کمرے میں ایک عدد موٹا رسہ ہوتا تھا ‘جو بلا مبالغہ اڑھائی تین انچ موٹا تھا اور اس کے دونوں آخری سروں پر چمڑہ منڈھا ہوا تھا تاکہ رسہ کھل نہ جائے۔ رسہ کشی کے اس مقابلے میں دونوں اطراف آخری سرا کسی نہایت لحیم شحیم اور موٹے طالبعلم اور استاد کی کمر پر کس کر باندھ دیا جاتا۔ طالبعلم تو ایک دو سال بعد بدل جاتا‘ لیکن اساتذہ کی طرف سے یہ فریضہ ایک عرصے تک سید شہنشاہ حسین سر انجام دیتے رہے۔ شہنشاہ صاحب ایمرسن کالج کے سینئر ڈائریکٹر ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے ساتھی چوہدری عبدالستار ہوتے تھے۔ یہ سب لوگ اب مرحوم ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی جوار ِرحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

یہ سپورٹس ویک دراصل ایک اور حوالے سے یاد آیا تھا۔ یہ اس سپورٹس ویک میں ہونے والا ایک مقابلہ تھا ‘جو سست روی پر مشتمل تھا۔ یہ Slow Cycling کا مقابلہ ہوتا تھا۔ اس میں آگے نکلنے والا ہار جاتا تھا اور پیچھے رہ جانے والا جیت جاتا تھا۔ بعض لوگ جو اس میں مہارت رکھتے تھے وہ تو ایک ایک جگہ پر کافی کافی دیر باقاعدہ رکے رہتے تھے۔ اپنی پنجاب کابینہ کا بھی یہی معاملہ محسوس ہوتا ہے۔ لگتا ہے وہاں Go Slowکا مقابلہ ہو رہا ہے۔ غالباً سب وزراء کی کوشش ہے کہ وہ بہر حال حد ِادب کا خیال رکھتے ہوئے کہیں اپنی کارکردگی میں محترم وزیراعلیٰ سے آگے نہ نکل جائیں۔
آپ شہباز گل والا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ شہباز گل کی کارکردگی (زبانی اعتبار سے) اپنے عثمان بزدار صاحب سے بہتر تھی۔ وہ عثمان بزدار صاحب میں وہ خوبیاں دکھا اور بتا رہا تھا ‘جو اُن میں سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔ غالباً‘اسی بات پر اپنے وزیراعلیٰ کو ان کی کارکردگی پر اعتراض پیدا ہو گیا کہ وہ کون ہوتا ہے ‘جو اُن میں موجود خوبیوں سے بڑھ کر بیان کرے اور اپنی کارکردگی میں ان سے آگے نکل جائے۔ شاید اسی آگے نکلنے کے جرم میں شریف آدمی گھر چلا گیا۔

میرا ایک دوست عثمان بزدار صاحب کا بڑا فین ہے‘ وہ بھی شہباز گل کی طرح عثمان بزدار میں ایسی ایسی خوبیاں‘ صلاحیتیں اور اچھائیاں تلاش کر لیتا ہے ‘جن کا پہلے کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا‘ لیکن یہ بات کوئی ایسی انوکھی نہیں کہ اس پر حیرت کا اظہار کیا جائے۔ اردو شاعری ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ شاعر کو غزل اور نظم لکھنے کے بعد قارئین اور خاص طور پر نقاد حضرات کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شاعری میں کیا کیا خوبیاں ہیں اور اس کی نظم یا غزل کے کس شعر کا مجازی مطلب کیا تھا اور شاعر کے پیش نظر وہ کیا عوامل تھے‘ جنہوں نے شاعر کے خیال کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کا عظیم فریضہ سر انجام دیا۔ بہت سے شاعروں کو بعد میں پتا چلتا ہے کہ ان کے شعر کے باطنی مطلب کیا تھے اور ان کے اس شعر میں کیا کیا عظیم خیالات اور کیسی کسی نادر روزگار تلمیحات چھپی ہوئی تھیں جن سے خود شاعر اس وقت لا علم تھا ‘جب تک کہ اسے نقادوں نے اپنے مضامین اور مقالات کے ذریعے آگاہ نہیں کر دیا۔

میرا یہ دوست کہتا ہے کہ دراصل شہباز گل کی جانب سے حکومت پنجاب کی بے جا تعریف‘ ناموجود خوبیوں کا چرچا اور ہونے والی بے شمار غلطیوں کا غیر ضروری حد تک مؤثر دفاع جناب عثمان بزدار کی کسر نفسی اور فقیری طبیعت کے خلاف تھا اس لیے انہوں نے اپنی اور اپنی حکومت کی بے جا تعریفوں اور ناموجود خوبیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے پر شہباز گل کو فارغ کر دیا۔ اب‘ اللہ جانتا ہے کہ میرے اس دوست کی بات میں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ پنجاب کی تاریخ کی وزنی ترین کابینہ صرف اور صرف اپنے وزیراعلیٰ سے آگے نکلنے کو حدِ ادب کے منافی خیال کرتی ہے اور اسی احترام کے پیش نظر ان کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے ‘یعنی دوسرے لفظوں میں چل نہیں رہی گھسٹ رہی ہے۔ یہ آہستہ آہستہ چلنے کا مقابلہ ہے۔ ساری کابینہ کی کوشش ہے کہ وہ کہیں غلطی سے بھی اپنے محترم وزیراعلیٰ سے آگے نہ نکل جائے۔ گمان گزرتا ہے‘ یہ حکومتی کارکردگی نہیں Slow Cycling کا مقابلہ ہے‘ جس میں آگے نکلنے والا ہار جاتا ہے اور پیچھے رہ جانے والا فاتح قرار پاتا ہے۔ کابینہ اور وزیراعلیٰ کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے‘ تاہم اس عاجز کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار صاحب اپنی خداداد صلاحیتوں کے طفیل یہ مقابلہ ضرور جیت لیں گے۔