ایک انتہائی حقیر سا تحفہ! عطا ء الحق قاسمی

ایک صاحب میرے پاس تشریف لائے، فرمانے لگے میں آپ کا مداح ہوں۔ میں نے یہ سن کر ’’فورن‘‘ ان کے لئے چائے کا آرڈر دیا بولے ’’یہ ایک حقیر سا تحفہ ہے قبول فرمائیں‘‘ اور وہ تحفہ واقعی حقیر تھا۔ کہنے لگے میں دراصل آپ کی استقامت کا مداح ہوں۔ آپ ایک عرصے سے لکھ رہے ہیں اگرچہ آج تک آپ کو لکھنا نہیں آیا۔ مگر حوصلہ نہیں ہارے اور لکھتے چلے جا رہے ہیں۔

میں نے چائے کا آرڈر کینسل کر دیا۔ جاتے ہوئے انہوں نے اپنی جیب میں سے ایک تسبیح نکال کر مجھے پیش کی اور کہا ’’اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنے کے بجائے اب آپ بقیہ زندگی کسی گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کیا کریں‘‘۔ یہ تحفہ اور مشورہ مجھے مناسب اور حسبِ حال محسوس ہوا چنانچہ میں نے رکھ لیا، میرا ارادہ اپنے دوچار دوسرے کالم نگار دوستوں کو بھی یہ تحفہ پیش کرنے کا ہے۔ ایک صاحب ان کے علاوہ بھی ہیں۔ انہوں نے ’’موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا‘‘ نام کی مشہور زمانہ ڈرائونی کتاب تھوک کے حساب سے خرید کر رکھی ہوئی ہے جو وہ اپنے ہر دوست کو اس کی شادی کی سالگرہ پر پیش کرتے ہیں، کچھ لوگ خود کو موصول ہونے والے ناکارہ تحفے دوسروں تک منتقل کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں ’’اس کی قیمت پر نہ جائیں میرے خلوص اور محبت کو نظر میں رکھیں کہ اس گرمی میں سارا شہر چھاننے کے بعد مجھے یہ تحفہ آپ کے شایان شان محسوس ہوا‘‘ اور بدقسمتی سے وہ اس تحفے کی پیکنگ میں سے اس دوست کا وزٹینگ کارڈ نکالنا بھول گئے ہوتے ہیں جس نے انہیں یہ تحفہ پیش کیا ہوتا ہے۔ یہ جن تحفوں کی بات میں کر رہا ہوں یہ غریب غرباء کے تحفے ہیں، ایک ایسی بھی کلاس ہے جس کے لوگ کروڑوں کے ’’تحفے‘‘ دیتے ہیں اور ان کے بدلے میں اربوں کماتے ہیں۔

ان کے سامنے کروڑوں کی کوٹھیاں اور کاریں ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہیں، ان کے عوض کسی فائل پر ’’صاحب‘‘ کی صرف ایک ’’گھگھی‘‘ ڈالنا ہوتی ہے اور پھر اصل مع سود وصول ہو جاتا ہے۔ کچھ ’’تحفے‘‘ اس کے علاوہ بھی ہیں مثلاً جنرل ایوب خاں نے جاتے جاتے پاکستانی قوم کو جنرل یحییٰ خاں کا تحفہ دیا۔ یہ تحفہ ہمارے گوڈے گٹوں میں بیٹھ گیا۔ مشرقی پاکستان خون میں نہلا دیا گیا اور اس خون میں سے بنگلہ دیش نے جنم لیا ہم لوگوں نے یحییٰ خاں کے اس ’’احسان‘‘ کا بدلہ اس کی موت پر اسے اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ دیا۔کہا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں ذوالفقار علی بھٹو کا بھی کردار تھا۔ اس متنازع مسئلے پر بحثیں ہوتی رہتی ہیں لیکن بھٹو کو ’’عدالتی قتل‘‘ کے بعد رات کی تاریکی میں دفن کرنے کا حکم صادر ہوا اور تدفین میں صرف اہل خانہ کو شرکت کی اجازت ملی، بس یحییٰ اور بھٹو کے پروٹوکول میں یہی فرق ہوتا ہے۔ کچھ تحفے اس کے علاوہ بھی ہوتے ہیں اور وہ دکاندار آپ کو پیش کرتے ہیں۔ آپ کسی پھلوں کی دکان پر جائیں اور کسی بھی پھل پر ہاتھ رکھیں، دکاندار کہے گا ’’بس جی اسے تحفہ ہی سمجھیں‘‘ پوری مارکیٹ میں ایسا پھل کسی کے پاس نہیں ہے۔ کسی دوسرے دکاندار کے پاس جائیں، وہ بھی یہی جملہ دہرائے گا۔

ایک پرانا واقعہ آپ کو ایک بار پھر سناتا ہوں، خربوزوں کے موسم میں میں خربوزوں کی ریڑھیوں سے ’’کھنڈ کھڈونے‘‘ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں مگر میں جب بھی ان کی باتوں میں آ کر یہ گھنڈ کھلونے خرید کر گھر گیا ان سے زیادہ پھیکے خربوزے میں نے شاذ و نادر ہی کھائے ہوتے تھے۔ بالآخر میں نے اس کا توڑ تلاش کر لیا۔ ایک ریڑھی پر تین چار گاہک کھڑے تھے، میں نے ان کے جانے کا انتظار کیا۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے سرگوشی کے انداز میں دکاندار سے کہا ’’یار‘‘ مجھے ایک ٹونے ٹوٹکے کے لئے بیس کلو انتہائی پھیکے خربوزے چاہئیں، کہاں سے مل سکیں گے۔ اس نے بھی سرگوشی کے انداز میں جواب دیا ’’یہیں سے ملیں گے اور کہاں سے ملنے ہیں۔ آپ آنکھیں بند کر کے لے جائیں، اگر ایک بھی میٹھا نکل آئے تو میں سارے پیسے واپس کر دوں گا‘‘۔
چلیں دفع کریں اس فراڈیئے کو، مجھے اللہ نے ایسے دوست دیئے ہیں جو دعائوں کے قیمتی تحفوں کے علاوہ مختلف مواقع پر دنیاوی تحفے بھی دیتے ہیں۔ ایک صاحب نے فون کیا کہ آپ کا پرانا نیاز مند ہوں، اپنی اس نیاز مندی کے عملی اظہار کے لئے ایک بہت قیمتی تحفہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ برائے کرم بتائیں کس وقت دفتر میں حاضر ہو جائوں۔ میں نے کہا برادر آپ کی محبت ہی میرے لئے کافی ہے۔

آپ کسی بھی وقت میرے دفتر تشریف لے آئیں اور میرے ساتھ چائے پئیں۔ اگلے روز وہ صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھوں میں ایک خوبصورت بیگ تھا۔ وہ انہوں نے مجھے پیش کیا۔ میں نے عرض کی کہ آپ کو اس تکلف سے منع کیا تھا مگر خیر بہت شکریہ۔ میں نے ان کے سامنے بیگ کھولنا مناسب نہیں سمجھا ’’بولے‘‘ آپ کھول کر تو دیکھیں میں اپنی محبت کے اظہار کے لئے بس یہی قیمتی تحفہ پیش کر سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے اصرار پر میں نے بیگ میں ہاتھ ڈالا تو ایک کتاب اس میں سے نکلی جو ان صاحب کا شعری مجموعہ تھا۔ میں نے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے جانے کے بعد اس شعری مجموعے کا مطالعہ شروع کر دیا۔ پھر میں نے کتاب اپنی میز کے ایک کونے میں رکھ دی۔ اس دوران ایک دوست ملنے آئے جو مطالعے کے بہت شوقین ہیں۔ ان کی نظر کتاب پر پڑی تو کہا کہ آپ ایک دن کے لئے یہ کتاب مجھے پڑھنے کے لئے دے سکتے ہیں۔ میں نے کہا، دے تو سکتا ہوں مگر ایک شرط ہے۔ بولے وہ کیا؟ کہا: وہ یہ کہ آپ مجھے واپس نہیں کریں گے۔ یہ ’’حقیر سا تحفہ‘‘ آپ میری طرف سے قبول فرمائیں۔ میں لفظوں کے ضیاع کا قائل نہیں۔ کتاب میں درج شاعری کے مطالعے کے بعد ہی میں نے اسے ’’ایک حقیر سا تحفہ‘‘ قرار دیا تھا۔