آل ان ون- حسن نثار

چھوٹے چھوٹے، بےضرر اور معصوم سے بیشمار موضوعات ہیں لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس پر پورا کالم قربان کردیا جائے تو شاید یہی بہتر ہوگا کہ سب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے ڈنگ ٹپا لیا جائے۔ مجھے زندگی میں کئی بار شدت سے اس حقیقت کا احساس ہوا کہ میں بےوقوفی کی حد تک خوش فہم آدمی ہوں لیکن شہباز شریف نے تو انتہا کردی۔

جعلی خط و کتابت سے تاثر یہ دیا جیسے وہ اس اخبار اور صحافی پر واقعی مقدمہ کرنے جارہا ہے جس نے اس کے خلاف زلزلہ زدگان کے فنڈز میں مبینہ ہیرا پھیری کی رپورٹ شائع کی تھی۔
شہباز نے اس خبر کی اشاعت کے بعد کوئلوں پر ڈسکو ڈانس پیش کرتے ہوئے اخبار اور برطانوی اخبار نویس کو سبق سکھانے، عدالت لے جانے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈیوڈ آج بھی شہباز شریف کا مذاق اڑاتے ہوئے ہتکِ عزت کے مقدمہ کا منتظر ہے تو پھر کیا بلکہ کیوں نہ یہ سمجھ لیا جائے کہ ’’ڈیلی میل‘‘ کی یہ خبر سو فیصد درست تھی کیونکہ لندن میں تو کسی کے اندر ’’بغض‘‘ نہیں۔
واقعی ہمارا سیاسی مٹیرئل جھوٹ، فریب، رنگ بازی میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ان کی ’’ن‘‘ سے نفسیات میں یہ بات شامل ہے کہ عوام کو چکمے دینا اور بے وقوف بنانا ’’ٹی ٹیاں‘‘ بنانے سے بھی آسان کام ہے اور شاید سچ بھی یہی ہے کہ چند ہفتوں کے اندر اندر مجھ جیسے احمق سمیت سب ’’غیور اور باشعور‘‘ کتنی آسانی سے بھول گئے کہ شہباز شریف پر کتنا غلیظ اور سنگین الزام لگایا گیا تھا۔ ذرا تصور کریں کسی زندہ معاشرہ میں کسی ’’لیڈر‘‘ پر زلزلہ زدگان کی امداد پر ہاتھ صاف کرنے کا الزام لگتا تو سیاست کیا، ملک میں رہنا مشکل ہوجاتا لیکن یہ دندناتے پھرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پُرامید ہیں کہ مع اہل و عیال ایک بار پھر انہیں کھل کھیلنے کا موقع ملے گا تو ضبط شدہ جائیدادیں بھی ریکور ہو جائیں گی اور یہ باجماعت اگلی پچھلی کسر بھی پوری کرلیں گے

لیکن مجھ جیسے ڈھیٹ کو اب بھی امید ہے کہ شہباز شریف اس صحافی کے گلے میں رسی ڈال کر لندن کی سڑکوں پر نہ سہی، عدالتوں میں ضرور گھسیٹے گا جو سوشل میڈیا پر اس ’’انقلابی رہنما‘‘ کا مذاق اڑا رہا ہے، چیلنج کررہا ہے۔ ہمارے مقدر میں بھی کیا کیا ’’سکندر‘‘ لکھا ہے لیکن جواب ان کا بھی نہیں جو اب بھی اس سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ بےشک یہی وہ لوگ ہیں جن کے نصیبوں میں ’’پناہ گاہیں‘‘ اور ’’لنگر‘‘ لکھ دئیے گئے ہیں۔ آصف عفان نے کیا عنوان دیا ہے کہ’’لنگر سے کھانا آئے گا پانی سبیل سے‘‘لیکن ادویات کہاں سے آئیں گی جو مزید 7فیصد مہنگی ہو گئی ہیں اور یاد رہے کہ ایک سال کے دوران دوائوں کی قیمتوں میں یہ چوتھا اضافہ ہے یعنی.... ’’ایک سال میں چار بار’’تبدیلی‘‘ آئی رے‘‘۔ پھر بھی عوام کو بےصبرے پن کے طعنے دئیے جارہے ہیں حالانکہ ایسے لنگر مارکہ عوام شاید ہی کبھی کسی ملک کو نصیب ہوئے ہوں جن کی جتنی چاہو توہین کر لو، پائوں کے نیچے سے زمین کھینچ لو، یہ ’’روبوٹس‘‘ ’’آوے ای آوے‘‘ سے باز نہیں آتے۔
اسی رویہ کا انعام یہ ہے کہ پہلے اس ملک میں صرف دو بڑے ’’آوے‘‘ تھے، اب ایک تیسرا ’’آوا‘‘ بھی شامل ہو گیا جسے میں اک زمانہ میں ’’تیسری قوت‘‘ لکھا کرتا تھا۔ پہلے غیور باشعور دو پاٹوں کے بیچ پستے تھے، اب تیسرا پاٹ بھی شامل ہوچکا۔

چشم بددور ہم دنیا کی وہ پہلی قوم ہیں جو دو نہیں تین پاٹوں والی چکی میں پس رہی ہے۔ اس عوامی چکی کا تیسرا پاٹ ’’پی ٹی آئی‘‘ ہے جس نے اپنی حکومت کے پہلے سال میں ہی سات ہزار 509ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لے کر پچھلے سارے ریکارڈ برابر کردئیے ہیں اور اس کار خیر سے فارغ ہو کر آج کل لنگر خانے چلانے میں مصروف ہے لیکن ایک بات جو میری سمجھ میں نہیں آرہی یہ ہے کہ ہماری اس آفاقی قسم کی وفاقی کابینہ میں ردوبدل سے کیا نکالنا ہے؟ نکما اور نالائق جہاں بھی جائے گا اپنی ’’خصوصیات‘‘ سمیت ہی جائے گا۔ کسان فصل کاشت کرنے سے پہلے ہل یا ٹریکٹر چلاتا ہے کہ زرخیز مٹی اوپر نیچے ہو، پچھلی فصل کی باقیات صاف کردی جائیں لیکن اگر زمین ہی بنجر بلکہ بنجر قدیم، کلراٹھی، شور زدہ اور ماٹھی ہو تو یہ اتھل پتھل زیادہ سے زیادہ کیا کرے گی؟ مطلب یہ کہ کیا ریت پر ٹریکٹر چلانے سے وہ زرخیز ہو جائے گی یا اس کی زرخیزی میں اضافہ کا امکان ہے؟ ایسا ہے تو سو بسم اللہ سوبار ردوبدل کریں لیکن اگر اس ساری ایکسر سائز کا مطلب ’’تبدیلی برائے تبدیلی‘‘ ہے تو...آخری اور سب سے اہم بات لاہور میں ہونے والی کرکٹ ہے جسے جاری رہنا چاہئے تاکہ عوام فرنگی کی اس یادگار سے اس طرح متنفر ہو جائیں کہ کھیلوں کا سامان بیچنے والی دکانوں سے بیٹ یعنی بلے نکال کر انہیں آگ لگادیں۔

جتنے دن یہ نحوست شہر پہ چھائی رہی...آدھی نہیں پونی آبادی ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ بنی رہی۔ ایاز امیر نے دیگر چند حساس دوستوں سمیت یہ ملین ڈالر سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کرکٹ میچ لاہور کو پڑتا کتنے میں ہے؟ ذاتی طور پر مجھے اس جگاڑ کے مالی پہلو سے کوئی خاص دلچسپی نہیں کہ اگر نواب صاحب اپنے کپڑے گروی رکھ کر تماش بینی کرنا چاہتے ہیں تو کرتے رہیں لیکن پونے شہر کو یرغمال بنا کر ان کی زندگیاں اجیرن کرنا کون سی گورننس ہے لیکن یہاں ہر بار نہلے پہ دہلے گرتے ہیں۔ جانے والے نہلے تھے یہ دہلے ہیں، وہ سیر تھے یہ سوا سیر ہیں جنہوں نے پوری حکومت سٹیڈیم اور اس کے اردگرد گھسا رکھی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کوئی ایمرجنسی نہیں، میرے ڈاکٹر (نیوٹریشنسٹ) ڈاکٹر عظمت مجید کا کلینک فیروز پور روڈ گلبرگIIIپر ہے۔
لیب رپورٹس آئے چند روز ہو چکے، پیغام یہ ملا کہ جب تک لاہور (بالخصوص اس مخصوص علاقہ سے) کرکٹ کی یہ نحوست ٹل نہیں جاتی، ہم اپنے مریضوں کو کلینک نہ آنے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ وہ خوامخواہ ذلیل و خوار نہ ہوں۔ گزشتہ اتوار میں آفس گیا تو مال روڈ سے ڈیوس روڈ مڑتے ہوئے میں نے مال روڈ پر کنٹینرز دیکھے جنہوں نے سڑک بلاک کر رکھی تھی۔پوچھا یہ کیا ہے؟
تو بتایا گیا کہ ساتھ والے ہوٹل میں سری لنکن ٹیم ٹھہری ہوئی ہے۔اہلیت تو دور کی بات، ان کے قریب سے تو کامن سینس اور شرم و حیا بھی گزرتے ہوئے گھبراتی ہے!