اک ذرا صبر… سجاد میر

لیجئے یہ تو محاورۂ عصر حاضر بن گیا ہے۔ صبر کیجیے ۔ پہلے تو یہ بات ہمارے وزیر اعظم فرمایا کرتے تھے۔ چین جانے سے پہلے سیلانی لنگر والوں کے اجتماع میں شریک ہوئے تو وہاں بھی اصرار کیا۔ صرف 13ماہ تو ہوئے ہیں‘ لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے وہ نیا پاکستان۔ ان سے صبر نہیں ہوتا۔

یہاں تو بس بات چل رہی تھی۔ اب یہ تکیہ کلام ہی بن گیا ہے۔ گویا ایک قومی بیانیہ۔ یہاں اب کہ شاید وزیر داخلہ نے بھی متوقع اسلام آباد مارچ کے حوالے سے یہی بات کی ہے۔ مگر مزہ مجھے تب آیا جب میانوالی کے ایک دوسرے نیازی ہمارے کرکٹ کے نئے کرتا دھرنا مصباح الحق نے بھی یہی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ابھی تو ہم آئے ہیں۔ ابھی سے آپ پریشان ہو گئے اور اصل لوگوں سے صبر نہیں ہوتا۔ یہاں میں سچ مچ ڈر گیا ہوں ‘ یہ جواب کہیں قوم کی گھٹی میں تو نہیں پڑ گیا۔ عمران خاں سے تو پوری قوم پوچھتی رہتی ہے۔ میں فی الحال مصباح الحق ہی سے پوچھ لیتا ہوں کہ آپ کو کون سی بکھری ہوئی اور منتشر ٹیم ملی تھی۔ کم ازکم ٹی 20میں تو دنیا میں نمبر ایک تھی۔ آپ کی سربراہی میں دنیا کی نمبر آٹھ ٹیم سے بھی پٹ رہی ہے۔
وہ بھی ایسی ٹیم جو اس ٹیم کی بھی نمبر 2 ہے۔ ایسے میں فرما رہے ہو صبر کرو۔ تین برس پڑے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہم آپ کی سرزنش کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے ڈریسنگ روم میں آپ کا اترا ہوا بلکہ اجڑا ہوا چہرہ دیکھا تھا۔ وہ ہوا ہے جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ یہ نہیںکہ ہم آپ کو شوٹ کر دینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ پوچھ رہے تھے کیا ہوا۔ اندر کوئی احساس جرم ہے شاید کہ آواز آئی ہے۔ صبر ‘ صبر‘ صبریا تو آپ کو پتا نہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں یا آپ محض آلہ کار ہو‘ آپ سے کوئی کروا رہا ہے۔ آخر اس مقام جلیلہ سے آپ کو یونہی تو نہیں نوازا گیا۔ دیکھیے یہ ساری باتیں میں مصباح کے بارے میں کہہ گیا ہوں عمران خان کے بارے میں تو نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس میں تو بعض فقروں کے بہت گردن زدنی سے معنی نکلتے۔

تاہم حالات ایسے ہیں کہ قوم پوچھتی ہے کہ آخر کب تک صبر؟ کیسا صبر؟ اور کس لئے صبر۔ یہ قومی نہیں سرکاری بیانیہ بن گیا ہے کہ ستر برس کا گند صاف کرتے وقت لگے گا۔ کون سا گند؟ بھئی کیسا گند؟ میں یہ نہیںکہہ رہا کہ جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا‘ صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اتنا خراب بھی نہیں ہوا کہ آپ اعلان کر دیں کہ ملت کا نجات دہندہ اب آیا ہے۔ میں تو خیر بار بار 2016ء سے پہلے کی اقتصادی حکمت عملی کا دفاع کرتا ہوں۔ اسے چھوڑیے ‘ صرف اتنا غور کیجیے‘ اس حکومت کے آنے سے پہلے کہا قیامت برپا تھی؟ بتا تو دیجیے نا۔ منڈیاں بند تھیں؟ کاروبار ٹھپ تھا؟ کوچہ و بازار ویران تھے۔ سارے ترقیاتی منصوبے ختم ہو چکے تھے۔ تعلیم ہو یا صحت‘ لوگوں کی چیخیں نکل رہی تھیں۔ آخر کیا خرابی تھی۔ سارا نظام حیات چل رہا تھا۔ لوگ خوش و خرم تھے‘ یہ بات اب جچتی نہیں کہ مہنگائی اس لئے ہے کہ ستر سال کا گند صاف کرنا ہے۔ آپ کو قدرے صاف ستھرا اور چلتا پھرتا ملک ملا تھا۔ آپ نے نیم جان کر دیا ہے اور اوپر سے کہہ رہے ہیں‘ صبر ‘ صبر ‘ صبر۔ دیکھیے یہ بیانیہ چلنے کا نہیں۔ آپ نے ترقی کا جو ہدف 2.4فیصد مقرر کر رکھا ہے اس کے ہوتے آپ سے آئندہ دو سال میں کس اچھائی کی توقع کر سکتے ہیں۔ آپ 2023ء تک 6فیصد شرح نمو بھی لے جائیں تو بھی اس کا مطلب ہو گا کہ ملک کوئی 5سال پیچھے رہ گیا ہے۔ آپ کی شرح نمو سے نہ ٹیکس ملے گا نہ روزگار‘ غربت ختم ہو گی نہ انتشار۔

جناب وزیر اعظم کے دورہ چین پر میں نے عرض کیا تھا کہ یہ دورہ اس سے زیادہ نہیں تو اتنا اہم ضرور ہے جتنا دورہ امریکہ تھا۔ تاہم دورہ امریکہ کی سمت معلوم تھی اور کلائمکس بھی واضح ہو گیا تھا۔ وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات اور ہمارے آرمی چیف کو پینٹا گون میں 21توپوں کی سلامی۔ عرض کیا تھا چین کے دورے کے بعد ہمیں سمت کا اندازہ ہو جائے گا۔ ہم نے سی پیک کو ایک سال کے لئے پالیسی کے طور پر موخر کیا تھا۔ اب دیکھنا ہے کہ ہم نے اسے مزید موخر کرنا ہے یا اس کی رفتار کو ازسر تیز کرنا ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کلائمکس بھی کوئی نقطہ بنتا ہے یا نہیں۔ کسی نے خبر دی کہ صدر چین کا دورہ بھارت موخر ہو سکتا ہے۔ خیر یہ تو بہت دور کی سوچ ہوئی۔ مرے لئے تو سوچنا مشکل ہے مگر ممکن تو یہ بھی نہ تھا کہ امریکہ میں 21تولوں کی سلامی ملتی اور صدر ٹرمپ کھلے عام کشمیر کا نام لے لیتا۔ یہ خاکسار اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ چین سے دوستی کا ان حالات میں مطلب یہ ہے کہ ہم تاریخ کے درست رخ پر ہیں۔ ہمیں کھینچ کر دوسرے رخ پر لے جایا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات عرض کرتا ہوں۔ ہم بھاشا ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا تھااور شہر شہر ملک ملک چندہ اکٹھا کرنے نکلے تھے۔

سابقہ حکومت نے 123ارب سے اس ڈیم کی زمین بھی خرید رکھی ہے۔ اب یہ اتنا بڑا پروجیکٹ ہے کہ اس کے عالمی اداروں کی مدد درکار ہے۔ ثاقب نثار تو صرف دس ارب اکٹھے کر پائے۔ ادھر عالمی اداروں نے نئی بحث چھیڑ دی کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ یہاں فنڈنگ کیسے کریں۔ آپ اس بات کا مطلب سمجھتے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے میں جو اب شدت آئی تو کیا خیال ہے کہ اس صورت حال میں کوئی آپ کی بھاشا ڈیم پر مالی مدد کے لئے تیار ہو جائے گا۔ یہ کام صرف ایک ملک کر سکتا ہے اور وہ ہے چین جو اس علاقے میں شاہراہیں بھی تعمیر کر رہاہے اور یہیں سے اس کا سی پیک گزرتا ہے۔ شہبازشریف نے تو کہا بھی تھا کہ میں آپ کو اس ڈیم کے لئے چین سے فنڈنگ لا کر دے سکتا ہوں۔ مطلب یہ نہیں کہ یہ کام صرف شہباز شریف کر سکتے ہیں۔ بلکہ کہنا یہ ہے کہ اس مسئلے میں صرف چین ہمارے کام آ سکتا ہے۔ اس حوالے سے لگتا ہے کام بھی ہوا ہو گا۔ مہمند ڈیم توچین نے ایک پاکستانی وزیر کی فرم کے ساتھ تعاون میں بنانا منظور کر لیا ہے۔ ہم یہ رستہ بند کئے دے رہے ہیں‘ بلکہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم اپنے ہاں مزید سرمایہ نہیں آنے دیں گے‘ کیونکہ ہم نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا ہے کہ ہمیں ترقی کی رفتار 2.4فیصد رکھنا ہے۔

اگر ہم نے اس طرح کے کام کئے تو ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی اور یہ دنیا کو منظور نہیں ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ دس پندرہ برس کے اندر ہم نے ڈیم نہ بنائے تو ہمارے گلیشئر پگھل کر سمندروں میں بہہ جائیں گے اور پانی کی شدید قلت کا شکار ہو جائیں گے۔ یقین نہ آئے تو ثاقب نثار سے پوچھ لیجیے۔ اب ایسے میں بتائیے آپ کے ذہن میں کیا ہے؟ یہ جو ریلوے لائن کا منصوبہ ہے‘ یہ کوئی شیخ رشید کا کارنامہ نہیں ہے۔ یہ بھی پہلے سے طے شدہ تھا ۔ ہم نے صرف اس کی رفتار سست کر دی ہے۔ جوکام تین سال میں ہونا تھا وہ اب چھ سال میں ہو گا۔ خبر نہیں کہ یہ بات کس حد تک درست ہے۔ تاہم اس حوالے سے تفصیلات کئی بار سامنے آ چکی ہیں۔ سڑکوں کے باقی ماندہ منصوبے اب ختم ہو چکے ہوتے۔ ہم نے گوادر پورٹ پرکام شروع کر دیا ہوتا‘ اب آسانی سے ریلوے لائن کی طرف آتے۔ انرجی کا ایک آدھ منصوبہ تھا۔ اس پر زیادہ بہتر شرائط پر کام کا آغازہو سکتا تھا۔ ہاں یہ بھی پوچھنا ہے کہ سعودی عرب نے گوادر میں 10ارب ڈالر سے جو آئل ریفائنری لگانا تھی اس کا کیا بنا۔ یہاں میں نے دفاعی ضروریات کا ذکر نہیں کیا۔ ہم نے اب یہ جنگ F16سے نہیں F17تھنڈر طیاروں سے لڑنا ہے۔ یہ جو فواد چودھری 2022ء میں چاند پر انسان بھیجنے کی بات کر رہے ہیں‘ وہ ہم نے چین ہی سے بھیجنا تھا۔

بھارت نے آج ہی فرانس سے رافیل کمپنی کا پہلا جہاز حاصل کر لیاہے۔جس کے بارے میں انڈیا میں بحث چھڑ گئی تھی کہ نا ہوئے ہمارے پاس رافیل وگرنہ ہم یوں اپنے دو طیارے تباہ نہ کرواتے۔ ہمیں ہوا بازی کے میدان میں چین کے تعاون سے بہت کچھ کرنا ہے۔ بحریہ کے لئے ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ ہماری تو ڈیفنس انڈسٹری ہی چین کے تعاون سے چل رہی ہے۔ پھر سمجھ نہیں آتا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں۔ امریکہ یا مغرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کی بنیاد سلامتی کے معاملات تھے۔ اسلحہ‘ دفاعی معاہدے ‘ امداد سب امریکہ سے اسی تناظر میں آتی تھی۔ اب شاید ہم طے نہیں کر پا رہے کہ آگے چل کر کیا کرنا ہے۔ عرض کیا نا سمت کا تعین نہیں ہو رہا۔ وزیر اعظم خیر سے ملک واپس آئیں تو نئی بحث شروع کریں گے کہ چین سے ہمیں کیا ملا۔ زور دار مباحثے ہوں گے۔ بس زندگی اسی میں گزر جائے گی۔ اتنے میں فضل الرحمن کا ’’شکر‘‘ کیجیے گا۔ پھرہماری دوسری بحثیں ہوں گی۔ ویسے وہ تو پہلے ہی خبر بن چکی ہے۔ وہ آئیں یا نہ آئیں خبر تو انہوں نے بنا دی ہے۔ رہی سہی کسر حکومت پوری کر دے گی۔ لگتا تو یہی ہے باقی خدا جانے۔ اک ذرا صبر… بس آگے نہیں کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔ یہ بھی صبر کی ایک قسم ہے جس کی پرانے لوگ تلقین کیا کرتے تھے۔