پاکستان کی افسوسناک شکست -

پاکستان کی سری لنکا کی بی ٹیم کے ہاتھوں شکست نہایت افسوسناک ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری ٹیم کی غلط سلیکشن ، کمزور کپتان پر عائد ہوتی ہے۔ مصباح الحق نے بطور چیف سلیکٹر، کوچ اپنے ٹی ٹوئنٹی کے پہلے تجربے میں بری طرح مایوس کیا ہے۔ یہ شکست دراصل مصباح کی گھسی پٹی روایتی سوچ، نئے تجربے کرنے سے گریز اور عجیب وغریب قسم کی خودپسندی کی وجہ سے ہوئی۔

معمولی سی عقل وفہم رکھنے والا بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ عمراکمل، احمد شہزاد آزمائے ہوئے نالائق ، نکمے کھلاڑی ہیں، جن کی کارکردگی میں تسلسل نہیں، جو انٹرنیشنل کرکٹ کا دبائو برداشت نہیں کر سکتے ۔ یہ بات صرف مصباح اور سرفراز کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ ایک نکمی، نہایت کمزور ٹیم منتخب کر کے یوں بری طرح ہارنے سے بہتر تھا کہ پاکستان بھی اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو منتخب کر کے ایک بی ٹیم ہی کھلا دیتا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی کارکردگی اس موجودہ ٹیم سے بہتر ہوتی۔ حارث سہیل کو دونوں میچز میں باہر بٹھانے کی کوئی تک نہیں تھی۔ پہلے فخر کو ڈراپ کر کے ردھم توڑا ، حالانکہ فخر کو تینوں میچ کھیلنے چاہیے تھے ۔ پھر آج کے میچ میں افتخار کو بلاوجہ ڈراپ کیا، صرف اس لئے کہ احمد شہزاد کو چانس مل سکے۔ ورنہ احمد شہزاد ون ڈائون کبھی نہیں کھیل سکتا۔ حارث سہیل تسلسل سے پرفارم کرتا آ رہا ہے۔ سرفراز نے ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح مایوس کیا۔ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ جب ایک سپنر ایک ہی اوور مین دو وکٹیں گگلی پر لے چکا ہے تو پھر سرفراز اسے بیک فٹ پر جا کر کیسے کھیل سکتا ہے، اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ دو وکٹیں گگلی ہی پر گئی ہیں تو اب تیسری گگلی بھی آ سکتی ہے۔ اس احمقانہ شاٹ پر سرفراز کو ٹی ٹوئنٹی سے باہر کر دینا بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 بارش کے باعث منسوخ

عماد وسیم نے عمدہ بیٹنگ کی اور ثابت کیا کہ انہیں نمبر چھ پر کھلانا چاہیے۔ آصف علی بھی نااہل اور ناکام کھلاڑی ہیں۔ بار بار موقعہ دیا، ہر بار ناقابل اعتماد ثابت ہوئے، بلکہ آئوٹ ہونے کے ڈر سے سست کھیلنا شروع کر دیتا ہے، الٹا مزید بوجھ بن جاتا ہے۔ پاکستان کو اپنی بائولنگ کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ دونون میچز میں بائولنگ بھی بہت ناقص رہی۔ آج توعثمان شنواری کو کھلانا چاہیے تھا ۔ پاکستان کو آخری اوورز کا مسئلہ آ رہا ہے، یارکر سپیشلسٹ بائولر چاہیے۔ شاہین اور حسن علی دونوں ان فٹ ہیں، مگر یہ دونوں آخری اوورز کے لئے بہت زیادہ مناسب نہیں۔ حارث رئوف کو آزمانا چاہیے۔ حسنین اچھا بائولر ہے، مگر اسے اپنی سپیڈ کو مناسب استعمال کرنے کا گر سیکھنا ہوگا۔ اس کی سپیڈ کی وجہ سے چھکا لگنے کے امکانات بھی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ شاداب خان ایک بار پھر ناکام ہوئے۔ پاکستانی بائولنگ میں کاٹ نہیں ہے۔ اگر کسی اچھی بیٹنگ لائن سے واسطہ پڑا تو دو سو سے زیادہ رنز لازمی پڑ جائیں گے، تب تو میچ جیتنا ناممکن ہوجائے گا۔
پاکستانی ٹیم کو کئی تبدیلیوں اور نئی اپروچ کی ضرورت ہے۔ اس وقت یہ کہا قبل از وقت اور ناانصافی ہے ، مگر مجھے لگ رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کو ابھی سے یہ سوچنا چاہیے کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے لئے الگ سے کوچ اور سلیکٹر چاہیے ۔ مصباح ٹی ٹوئنٹی کی تیز، جارحانہ کرکٹ میں فٹ نہیں ہو سکیں گے۔

ٹیگز