بنیاد اور استاد سے عدم توجہی - ابو المنذر ابنِ طالب

مشہور یونانی فلاسفر ارسطو کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک موقع پر اس نے اپنے استاد کے لیے یہ شہرہ آفاق جملہ کہا تھا ”میں اپنے استاد کا ادب و احترام اپنے والدین سے بھی زیادہ کرتا ہوں اس لیے کہ میرے والدین مجھے عالمِ ارواح کی بلندیوں سے زمین پر لانے کاسبب بنے اور میرے استاد نے مجھے ایسے علوم و معارف سے نوازا کہ میرا مقام پھر سے روحانی طور زمین سے بلند ہو کر آسمانوں سے بھی اوپر ہو گیا ہے۔“

اس میں کوئی شک نہیں کہ استاد ہی وہ ہستی ہے جس کو رسالتِ مآب ﷺ نے روحانی باپ کے درجے پرفائز کیا ہے اور ”انما بعثت معلما“ کہہ کر دنیا کے تمام اساتذہ کو وہ شرف و مقام بخشا ہے جو اس دنیا میں کسی اورکا نہیں ہوسکتا۔ یہ ا ستاد ہی ہے جو انسانیت کو شعور ، ادراک، آگہی اور معرفت جیسی بے مثل و بے بدل نعمتوں سے مالامال کرتا ہے جن کی بدولت آج انسانیت کے مادی وجود کا رشتہ اخلاقیات کی روح کے ساتھ استوار ہے جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر انسانیت کے اس لاشے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر سیدنا علیؓ کی طرف منسوب یہ جملہ استاد کی اہمیت کا درست عکاس ہے کہ ”جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا اس نے گویا مجھے اپنا غلام بنا لیا۔“
لیکن افسوس اھلِ مغرب نے جہاں دیگر ”حساس رشتوں“ کے احساس کا خون کر دیا ہے وہاں اس مقدس رشتے کو بھی معاف نہیں کیا ۔اور اس کو بھی ”مادیت کی مالا“ میں پرو کر اس رشتے کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ اور افسوس کہ ہم اہلِ مشرق جو اس عظیم رشتے کی تقدیس و تعظیم کی ایک شاندار تاریخ اور روایات رکھتے ہیں ہم بھی آہستہ آہستہ انھی اہلِ مغرب کے رنگ میں رنگتے جا رہے ہیں۔

مجھے اس کا احساس اس وقت شدت سے ہواجب میں درسِ نظامی شہادۃ العالمیہ اور ایم ۔اے اسلامک سڈیز کی تکمیل کی خوشی میں جب میں سب سے پہلے مٹھائی لیکر اپنے قرآن مجید کے ناظرہ کے استاد مکرم حضرت قاری اسحاق صاحبؒ کے پاس عرصہ دراز کے بعد حاضرِ خدمت ہوا تو وہ گردوں کی شدید بیماری کی وجہ سے صاحب فراش تھے، مجھے دیکھ ان کی آنکھوں میں تیرتے پانی نے مجھے بہت کچھ سمجھا دیا ۔ فرمانے لگے ”آپ نے بڑے بڑے شیوخ اساتذہ کے ہوتے ہوئے ابھی تک مجھے یاد رکھا ہوا ہے؟ جبکہ عام طور پر بڑےاساتذہ سے پڑھنے کے بعد طلبہ اپنے ابتدائی تعلیم کے اساتذہ کو بھول جاتے ہیں اور خاص طور پر مجھ جیسے اساتذہ جنھوں نے کسی مسجد کی بوسیدہ چٹائی پر بیٹھ کر انہیں حروف تہجی پڑھائے ہوئے ہوں۔“

ان کی اس بات نے مجھے چونکا دیا میں نے استادِ گرامی سے عرض کیا . ”استاد جی میرےخیال میں کوئی انسان علوم و معارف کی کتنی ھی منزلیں طے کر لے وہ سب کی سب حروفِ تہجی ہی کی مرھونِ منت ھیں جو بنیادی طور پر کسی بھی زبان و علم کی بنیاد ھوتے ھیں اور بنیاد کے بغیر کوٸی ادنی سے ادنی چیز بھی نہیں بن سکتی تو علم تو انسانیت کی تعمیر کا ذریعہ ھے۔ وہ مضبوط بنیاد کے بغیر کیسےقاٸم ھو سکتا ھے؟

اس لیے حروفِ تہجی سکھانے والا استاد ھی بنیاد رکھنے والا استاد ھوتا ھے چاھے وہ کسی مسجد ،مدرسہ یا پراٸمری سکول کی چٹاٸی پر بیٹھنےوالا ھی کیوں نہ ھو۔ کیونکہ حروف کی پہچان اور جوڑ توڑ سے ھی ”الفاظ“ بنتے ھیں اورالفاظ کو ترتیب دینے سے جملے بنتے ھیں اور جملے ھی آگے جا کر تحریر اور کتاب کی شکل اختیار کرتے ھیں اور تحریر اور کتاب ھی کسی بھی علم اور تعلیم سند کے حصول کا بنیادی ذریعہ ھیں۔“ اس لیے میں نے آج دین و دنیا کی رسمی تعلیم کےتکمیل کے موقع پر اپنی بنیاد رکھنے والے استاد گرامی یعنی آپ کو سب سے پہلے مٹھاٸی دینے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا طارق جمیل صاحب ، غامدی صاحب اور مغالطہ - حسین اصغر

استادِ مکرم کی آنکھوں میں تیرتا پانی اب باقاعدہ آنسوٶں کی شکل اختیار کر چکا تھا جنھیں دیکھ کر میری آنکھیں بھی بلا اختیار چھلک پڑی تو حضرت استاد جی نے مجھے بڑی شفقت سے ایک باپ کی طرح گلے لگا لیا تو مجھے یوں محسوس ھوا جیسے عرصہ دراز سے پیاسی میری روح کوتسکین مل گٸی ھوا ور شاید کچھ ایسی ھی کیفیت استاد گرامی کی بھی تھی۔اللہ ان کو کروٹ کروٹ رحمتیں نصیب فرماٸیں اور ان کی مغفرت فرماٸیں۔آمین میرے خیال میں ھم سب کو اپنے ایسے اساتذہ جن کو ھم نے اپنی یادوں کے” سرد خانے“ میں ڈال کر بھلا دیا ھے اور وہ بےچارے آج بھی اسی کسمپرسی کی زندگی جی رھے ھیں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ھی اپنی بقیہ زندگی کا سہارا سمجھتے ھیں۔

ھمیں انہیں کبھی کبھی یاد کر لینا چاھیے اور کوٸی ھلکا پھلکا تحفہ بھی کبھی کبھی ان کی خدمت میں روحانی والدین سمجھ کر پیش کرتے رھنا چاھیے اور ان کی دعاٸیں لیتے رھنا چاھیے۔ کیونکہ اس حقیقت سے کوٸی بھی ذی شعور لا علم نھیں ھے کہ ھم آج جو کچھ بھی ھیں وہ اللہ کے فضل اور اپنے والدین اور اساتذہ کی دعاٶں کی بدولت ھیں۔ابھی کل ھی کی بات ھے کہ قرآن مجید کی کلاس میں” سورة النسإ“ کی آیت نمبر 4 کے الفاظ ”واذکرو اسم اللہ علیہ“

کےلیکچر کے دوران تسمیہ کے فضاٸل اور ”اسں“کے دم کرنے کے فواٸد بیان کرتے ھوے مجھے حجةالاسلام صاحب العلوم و الخیرات مولانا قاسم نانوتوی ؒ کے متعلق مشھور” واقعہ“ جو ھمارے استادِ عظیم شیخ الحدیث مولانا حاجی محمد فیاض خاں سواتی زید مجدھم نے ایک دفعہ دورانِ لیکچر اس ضمن میں سنایا تھا یاد آ گیا کہ روحانیت میں اصل طاقت ایمان اور یقین کی ھے اسی سے ھر دم میں اللہ شفا ٕ دیتے ھیں ۔اور بطور مثال یہ واقعہ سنایا کہ ”ایک دفعہ مولانا قاسم نانوتویؒ سے ایک طالبِ علم نے سر درد کی شکایت کی اور دم کرنے اورتعویز لکھ کر دینے کی التماس کی تو ”حضرت“ نے اسی وقت دم بھی کر دیا اور ایک چھوٹے سے کاغذ کے ٹکڑے پر تعویذ بھی لکھ دیا اور کہا اسے اپنی ٹوپی میں سلاٸی کرا کے ٹوپی پہن لینا اور فرمایا ”جب بھی تمہیں یا کسی اور کو سر درد ھو تو اس ٹوپی کے پہننے سے ان شا ٕ اللہ ٹھیک ھو جاۓ گی۔“ لیکن اس کے لیے ایک شرط ھے کہ اس تعویذ کو کھول کر دیکھنا نھیں ھے ورنہ اس کا اثر جاتا رھے گا۔

اور واقعی ایسا ھی ھوا کہ اس طالبِ علم یا کسی کو بھی سر درد ھوتی وہ ٹوپی پہننے سے ٹھیک ھو جاتی۔ایک دن اس طالبِ علم کو خیال آیا کہ میں اس تعویذ کو کھول کر تو دیکھوں کہ اس میں اتنا اثر ھے استاد جی نے اس میں لکھا کیا ھے؟ جب اس نے اسے کھول کر دیکھا تو تعویذ پر صرف ”بسم اللہ“ لکھا تھا آگے ”الرحمن الرحیم “ بھی پورا نھیں لکھا تھا وہ طالبِ علم بہت حیران ھوا کہ صرف” بسم اللہ “ جواللہ کا نام ھے اس میں ھی اتنا اثر ھے یہ تو میں بھی دم کر سکتا تھا اور تعویذ لکھ سکتا تھا . کچھ مدت بعد اسے پھر سر درد ھوٸی تو اس نے خود سے ھی بسم اللہ پڑھ کر دم کیا اور تعوذ لکھ کر بھی باندھا لیکن خاص افاقہ نا ھوا ۔وہ بہت پریشان ھوا تو اس نے سوچا چلو استاد جی والا تعویذ ھی باندھ لیتا ھوں لیکن اب سے بھی سردرد میں فرق نھیں پڑا تو دوبارہ پھر استاد مکرم مولانا قاسم نانوتویؒ کے پاس آیا اور سردرد کی شکایت کے ساتھ سارا ماجرا بھی سنایا ۔حضرت نے کہامیں نے تو تمہیں پہلے ھی نصیحت کی تھی کہ تعویذ کھولنا نہیں ورنہ اس کا اثر ختم ھو جاے گا۔اور تم نے دیکھ لیا کہ ایسا ھی ھوا۔ اور اس کو دوبارہ سے دم کر کے پھر چھوٹے سے کاغذ پر اسی طرح تعویذ لکھ دیا اور پھر نصیحت کی کہ بیٹا اسکو کھول کر نا دیکھنا ورنہ اس کا بھی اثر چلا جاے گا۔اللہ کی شان اس تعویذ میں پہلے سے بھی بڑھ کر اثر تھا جو بھی تعویذ رکھی ھوٸی سلاٸی شدہ ٹوپی پہنتا تو اس کی سردرد فورا ختم ھو جاتی ۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمتِ کفر ملے ، جرأتِ تحقیق ملے- تزئین حسن

پھر ۔۔۔ایک مدت گزرنے کے بعد طالبِ علم کے ذھن میں آیا کہ اب زرا دوبارہ کھول کے چیک کرتا ھوں کہ شاید استاد جی نے اس سے بڑھ کر کوٸی کلمات لکھے ھوں کیونکہ پہلے والے تو میں نے پڑھ لیے تھے۔اس نے جب دوبارہ تعویذ کھول کر دیکھا تو اس میں پھر پہلے کی طرح ھی صرف بسم اللہ ہی لکھا تھا ۔وہ بڑا حیران ھوا کہ ”حضرت“ نے تو پھر وھی بسم اللہ ھی لکھی ھے تو اس میں پہلے سے بھی بڑھ کر اثر کیسے پیدا ھو گیا ؟جبکہ میں نے بھی تو اپنے تعویذ میں خود بھی بسم اللہ ھی تو لکھی تھی ۔میرے بسم اللہ لکھے ھوے تعویذ میں اثر کیوں نھیں ھے اور استاد جی کے بسم اللہ لکھے ھوے میں اتنا اثر کیوں ھے؟ اب اس نے دوبارہ پھر سر درد ھونے پر پھر بسم اللہ لکھ کر دوبارہ تعویذ بنایا اور اسی طرح دم بھی کیا اور تعویذ کو ٹوپی میں سلاٸی کر کے ٹوپی پہنی لیکن سر درد پھر ختم نا ھوٸی ۔ اس کی حیرانی میں اضافہ ھی ھوتا چلا گیا اور وہ یہ پریشانی لے کر حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ کے پاس آیا اور سارا مسٸلہ بیان کیا۔ ”حضرت“ نے بڑی شفقت سے سمجھایا بیٹا ..”اللہ کے کلام میں اثر بندے کے ایمان و یقین اور گمان کے خلوص کی طاقت کے ساتھ ھے۔یہ چیزیں جتنی زیادہ ھوں گی اتنا ھی اثر زیادہ اور جلدی ھو گا۔
تمہارا چونکہ میرے متعلق گمان اور ایمان تھا کہ استاد جی تو بڑے ھیں تو یقینا کوٸی خاص کلمات پڑھ کر دم کریں گے اور خاص کلمات ھی تعویذ میں لکھیں گے ۔

اس گمان اور یقین کی وجہ سے ھی اللہ نےتمہیں شفا ٕ عطا ٕ کردی کیونکہ حدیث قدسی کا مفھوم ھے ۔ ”میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ھوں“
اس لیے میں نے تمہیں ایک حکمت کے تحت تعویذ کھول کر دیکھنے سے منع کیا تھا مجھے پتہ تھا جب تم نے دیکھنا ھے کہ اس میں تو صرف بسم اللہ لکھی ھوٸی ھے یہ تو میں بھی لکھ سکتا ھوں تو تمہارا ایمان اور گمان کمزور پڑ گیا اس لیے تمہیں خود سے لکھے ھوے تعویذ سے افاقہ نہیں ھو رھا تھا حالانکہ کلمات بلکل وھی تھے لیکن فرق ایمان و گمان اور یقین کے اخلاص کا ہے۔“
اس پر میں نے اپنے لیکچر کے سامعین کو جدید انداز میں مثال دیتے ھوے سمجھایا کہ ”اس کو اس مثال سے سمجھیے کہ جیسے کوٸی بھی میڈیسن کی گولیاں ھیں تو ان کی power 1000 mg یا 500 mg جتنی کم یا زیادہ ھوتی ھےاس medicine کا اثر اتنا ھی زیادہ ھوتا ھے۔۔ اوربعض medicine جیسے vitamins وغیرہ کے اوپر تو باقاعدہ یہ ھدایت بھی لکھی ھوتی کہ اس کو کھلا نا چھوڑیں ورنہ اس کا اثر ضاٸع ھو جاۓ گا۔ بلکل اسی طرح تعویذ اور دم کی power بھی اس کا اخلاص ھے جتنا کم یا زیادہ ھوتا ھے اسی حساب سے اثر بھی ھوتاھے“
اللہ ھم سب کو اپنے تمام اساتذہ کی دل و جان سے قدر کرنے کی توفیق عطا ٕ فرماٸیں