ناول نگاری: چند اہم باتیں - حافظ زبیر

کچھ عرصے سے ناول لکھنے کا شوق ہو رہا تھا لیکن کوئی سر پیر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے شروع کیا جائے تو جناب مشہود امین صاحب کے ساتھ گفتگو کا خلاصہ ذکر کر رہا ہوں۔ مشہود امین صاحب، عرب نیوز میں ایڈیٹر ہیں۔ کافی عرصے سے فیس بک اور واٹس ایپ پر ان سے رابطہ ہے۔ ناول، خاص طور عالمی ادب، پڑھنے کا کافی ذوق شوق رکھتے ہیں بلکہ ان کے یو۔ٹیوب چینل پر آپ کو کچھ ناولز پر ان کے ریکارڈ شدہ تبصرے بھی مل جائیں گے۔

یہ تحریر سوالات اور جوابات کے عنوان سے ہے کہ سوالات میری طرف سے ہیں اور جوابات ان کی طرف سے ہیں۔ جو لوگ ناول لکھنا چاہتے ہیں یا اس لائن میں آنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ انہیں اس گفتگو سے بہت کچھ فائدہ ہو گا۔ یہ پوسٹ ویسے تو واٹس ایپ میسجز سے ذاتی نوٹس کی غرض سےمرتب کی تھی کہ سپیس کم ہونے کی وجہ سے میسجز ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں لیکن پھر سوچا کہ جو دوست میری طرح ایسا کچھ لکھنے کے بارے سوچتے ہیں اور اس صنف میں ابھی مبتدی ہیں تو ان کی گائیڈینس کے لیے اسے مرتب صورت میں ایڈیٹ کر کے شیئر بھی کر دوں۔
سوال [1]: ناول کا مقصد کیا ہے، تفریح یا اصلاح معاشرہ؟ یعنی کس مقصد سے ناول لکھنا چاہیے؟ اصل میں، میں یہ چاہتا ہوں کہ ناول محض کہانی کا بیان نہ ہو کہ تفریح برائے تفریح ہو بلکہ اس کے پیچھے کوئی مقصد ہو یا اسے اپنے نظریے اور سوچ کی تبلیغ کے لیے ایک میڈیم کے طور استعمال کیا جائے تو کیا ایسا ناول، ناول شمار ہو گا؟
جواب: پہلے تو آپ یہ طے کر لیں کہ آپ کو اصلاحی ناول لکھنا ہے یا ادبی۔ دنیا بھر کے نقادوں کا کہنا یہ ہے کہ ناول اگر محض اصلاحی ہو تو اس کی ادبی قدر وقیمت ختم ہو جاتی ہے۔ اب ہر بڑے مصنف کا کوئی سیاسی نظریہ یا عقائد تو ہوتے ہی ہیں کہ جس کا اس نے اظہار کرنا ہوتا ہے تو اس کا حل یہ نکالا جاتا ہے کہ مصنف تحت اللفظ اپنا پیغام آگے منتقل کرتا ہے جیسا کہ ٹالسٹائی نے اپنے معروف ناول "وار اینڈ پیس" [War and Peace] میں کیا ہے۔

"امن اور جنگ" کو پڑھ کر یہ نہیں لگتا کہ جیسے ڈپٹی نذیر احمد صاحب نے خواتین کی اصلاح کے لیے کوئی ناول لکھا ہو بلکہ ٹالسٹائی نے کہانی کے اندر ہی اندر بہت سے اہم سوالات کے جوابات اس طرح سے دے دیے کہ وہ کئی ایک یورپین یونیورسٹیز میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایک ٹیکسٹ بُک کے طور پڑھائی جانے والی کتاب بھی بن گئی حالانکہ وہ ایک ناول ہے۔
جواب: ناول میں اگر آپ اپنا موقف ایک بیانیے کے ذریعے لکھیں گے تو ناول کی قدر وقیمت گر جائے گی اور اگر آپ کرداروں کے ذریعے بات کریں گے تو اس میں حرج نہیں۔ آپ قارئین کو یہ بھی نہ بتلائیں کہ آپ کا کردار کمیونسٹ ہے، انقلابی ہے، دہریہ ہے، بلکہ اس کردار کی بات چیت اور طرز عمل سے قارئین خود اس تک پہنچ جائیں کہ وہ کس پارٹی کا ہے۔ تو ناول کا اصل مقصد تفریح ہی ہے لیکن ناول نگار تفریح ہی تفریح میں اپنا میسج بھی چھوڑ جاتا ہے۔ جب روس پاور میں تھا تو اس دور میں علامتی [symbolic] ناولز کا بھی ایک سلسلہ شروع ہوا تھا کہ کہانی کچھ ہو لیکن پیغام کچھ ہو جیسا کہ جارج آرول [george orwell] کا مشہور ناول اینیمل فارم [animal farm] ہے کہ جس میں جانوروں کی ایک باڑ دکھائی گئی ہے، اس میں جانور آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مالک ہم پر بہت ظلم کرتا ہے، ہمیں اس کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے اور یہ سوویت یونین کی حکومت کی طرف اشارہ ہے۔ [اردو میں انتظار حسین کے بعض افسانے اس وقت میرے ذہن میں آ رہے ہیں کہ وہ بھی علامتی ہی ہیں جیسا کہ "آخری آدمی"۔]

جواب: سپر مین وغیرہ تفریح برائے تفریح ہوجاتا ہے لہذا سنجیدہ رائٹر ایسا نہیں لکھتا تھا کہ ریڈر اس کو سنجیدہ نہیں لیتا لیکن کچھ کا کہنا ہے اب آ کر یہ تھیوری بھی فیل ہو رہی ہے جب سے لارڈ آف دی رنگز [Lord of the Rings] اور گیم آف تھرونز [Game of Thrones] آئی ہے لیکن اس میں بھی کسی حد تک مقصدیت آپ کو نظر آ ہی جاتی ہے۔ پرانے لکھاریوں نے مافوق الفطرت کردار لکھنے کی بجائے سائنس فکشن لکھی کہ اچھا ریڈر سائنس فکشن میں ایسے کرداروں کو قبول کر لیتا ہے جیسا کہ آپ ہکسلے [Aldous Huxley] کی بریو نیو ورلڈ [Brave New World] ضرور پڑھیے گا کہ اس میں اس نے آج سے اسی نوے سال پہلے یہ بتلا دیا تھا کہ آج کا انسان کیسا ہو گا، روحانیت ختم ہو جائے گی، انسان ختم ہو جائے گا تو یہ فکر ہو گی کہ اس کی لاش سے بھی زیادہ سے زیادہ مادی فائدہ کیسے حاصل کیا جائے، تو وہ ایک سائنس فکشن ہے۔
سوال [2]: کیا ناول میں لَو افیئر [love affair] یا رومانس ڈالنا ضروری ہوتا ہے؟ میں نسیم حجازی کے ناولز دیکھتا ہوں حالانکہ وہ مذہبی اور تاریخی ناولز ہیں لیکن ان میں بھی انہوں نے کوئی نہ کوئی لَو افیئر دیا ہوتا ہے؟ اصل میں مجھے یہ لگتا ہے کہ مقصدیت جب غالب آ جائے تو یہ چیزیں بچگانہ معلوم ہوتی ہیں؟

جواب: ناول نگاری میں یہ شرط نہیں ہے کہ رومانس ہو لیکن ناول نگاری میں رومانس کا میڈیم اتنا مضبوط ہے کہ سنجیدہ سے سنجیدہ ناول نگار نے بھی اس کو استعمال کیا ہے، اور جسے میں سب سے بڑا ناول نگار سمجھتا ہوں یعنی دوستو ویسفکی [Dostoevsky] کہ جس کا ناول جرم اور سزا [crime and punishment] میں نے آپ کو ریکمینڈ کیا تھا۔ وہ بھی کہیں نہ کہیں رومانوی عنصر ڈالے گا تا کہ اپنے قاری کو کھینچ سکے۔ لیکن بعض ناولز ایسے بھی ہیں کہ جن میں یہ عنصر نہیں ہے جیسا کہ تاریخی ناولز ہیں کہ جن میں جنگیں ہو رہی ہیں، جنگیں دکھائی جا رہی ہیں، یا پھر صرف گھریلو معاملات دکھائے جار ہے ہیں۔ تو یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کہ آپ رومانس کو ناول میں دکھانا چاہتے ہیں یا نہیں۔
سوال [3]: ایک ناول کے لازمی اجزاء (parts) کیا ہیں؟ اصل میں کچھ اجزاء مجھے تنگ کرتے ہیں جیسا کہ منظر نگاری ہے۔ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ مجھے لگتا ہے بہت عام سی بات ہے لہذا ریڈر کے وقت کا ضیاع ہے۔ میں روزانہ گھر سے نکلتا ہوں، سینکڑوں منظر دیکھتا ہوں، ابھی گلی میں نکلوں تو ایک منظر ہے، گھنٹے بعد وہ تبدیل ہو چکا ہو گا۔ تو یہ بیان کرنا کہ کمرے میں میز پر ایک گلاس تھا، اس میں پانی تھا، کھڑکی پر پردہ تھا، اس کا مصنف یا قاری کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ چلیں، اگر میں خوبصورت قدرتی منظر بھی قلمبند کر لوں، بھلے سوئٹزر لینڈ کا ہی کیوں نہ ہوتو آج الپس کے پہاڑ بھی یو۔ٹیوب پر ایک ویڈیو کی صورت موجود ہیں اور ویڈیو دیکھ کر جو تصور قائم ہو سکتا ہے، وہ ناول پڑھ کر کیسے ہو سکتا ہے؟ تو یہ بھی ایک گزرے وقت کی ضرورت تھی، اب کے نہیں ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مجھے اگر منظر نگاری کرنی ہے تو بہت ہی ضرورت کی اور وہ بھی ایسی کہ اس میں بھی کوئی پیغام ہو یعنی لفظ ضائع نہ ہونے پائے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

جواب: دیکھیں، آج تک کوئی ایسے اصول مرتب نہیں ہوئے کہ جن کا ایک ناول نگار کو پابند کیا جا سکے۔ اگرچہ ایک مکتب فکر نے یہ بات کی تھی لیکن اسے قبول عام حاصل نہ ہوا بلکہ فرانس کی ادبی تحریکوں کی طرف سے اس کی مخالفت ہوئی کہ ناول نگار کو کچھ اصولوں کا پابند ہونا چاہیے۔ تو ہر ناول نگار آزاد ہے، وہ اگر چاہے تو منظر نگاری کو بہت طول دے دے جیسا کہ برطانوی مصنف چارلس ڈکنز [Charles Dickens] کمرے کے اندر اس قدر تفصیل بتلائے گا کہ گلاس اس طرح رکھا تھا، اوراس زاویے پر رکھا تھا، اور اس کا سایہ ایسے پڑ رہا تھا اور پردے ایسے تھے اور قالین ایسی تھی تو بندہ بور بھی ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف بعض مصنفین نے کہا کہ یہ اتنا ضروری نہیں لہذا وہ دو چار جملے بول کر آگے چل پڑتے ہیں۔ تو منظر نگاری ضروری نہیں کہ تفصیلی ہو۔

جواب: اسی طرح ناول کے أجزاء میں پلاٹ اور کہانی کے علاوہ کہانی پن بھی ہونا چاہیے ورنہ تو وہ اینٹی ناول کہلائے گا۔ کردار بھی بہت اہم ہیں کہ وہ پلاٹ کو آگے بڑھاتے ہیں اور جتنے زیادہ کردار ہوں گے ان کے باہمی تعلقات اتنے زیادہ وسیع پیمانے پر دکھائیں جائیں۔ سمجھیں کہ بہت بڑی پینٹنگ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔
سوال [4]: مجھے ناول نگاری میں لفاظی کی منطق کی بھی سمجھ نہیں آتی کہ اگر میرا مقصد عام آدمی تک بات کو پہنچانا ہے تو میری زبان عام فہم ہونی چاہیے نہ کہ مشکل، لیکن عام خیال یہی ہے کہ مثال کے طور اگر ناول انگریزی میں ہو تو زبان شیکسپیئر کی ہونی چاہیے جو آج اچھے اچھوں کو سمجھ نہیں آتی ہو گی۔ آپ اردو میں میر امن دہلوی کی داستان "باغ وبہار" اور مولانا عبد الحلیم شرر کا ناول "فردوس بریں" دیکھ لیں، اکثر کو تو ناول کے عنوان میں "بریں" کے لفظ کا معنی تک معلوم نہ ہو گا کیونکہ یہ مستعمل اردو ہے ہی نہیں؟ قرۃ العین حیدر کا ناول "آگ کا دریا" دیکھ لیں، مجھے تو اس کے شروع کے سو صفحات کی جو کچھ ککھ سمجھ آئی ہو، اتنی سنسکرت، الأمان والحفیظ۔ مجھے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مجھے اگر ناول لکھنا ہے تو مجھے ادبی اردو استعمال نہیں کرنی چاہیے بلکہ روز مرہ کی زبان استعمال کرنی چاہیے کہ لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ڈکشنری ہاتھ میں پکڑ کر الفاظ کا تلفظ یا معانی تلاش کریں۔

جواب: ناول میں اب جو نقادوں کی کتب آ رہی ہیں وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ روز مرہ کی زبان استعمال کریں۔ اگر آپ اس کو ادبی شاہکار بنانا چاہ رہے ہیں تو آج کے یعنی اکیسویں صدی کے انسان کے پاس وہ وقت نہیں ہے کہ وہ اتنی مشکل زبان کے ڈکشنری میں معانی دیکھے۔ آپ فسانہ عجائب دیکھیں تو اس کی ایک سطر پڑھ کر آپ کہیں گے کہ یا اللہ یہ کیا چیز ہے، اور بند کر کے رکھ دیں گے حالانکہ وہ بھی ایک ناول ہے۔ تو اس وقت فرانس اور روس کے ناول نگاروں میں تقریبا اس بات پر اتفاق ہے کہ ناول کی زبان روز مرہ کی زبان ہونی چاہیے۔ لیکن اسی طرح ناول کی زبان ایسی بھی نہ ہو کہ آپ کے ناول کو دیکھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ یہ فلسفے کی کتاب ہے یا کوئی خطبہ دے رہا ہے بلکہ اس میں کہانی پن ہونا چاہیے، یہ پہلی شرط ہے، اور یہ بہت ضروری ہے۔
سوال [5]: بڑا ناول کسے کہتے ہیں؟ اس کے اندر کیا خاص بات ہوتی ہے؟ کیا جس ناول میں فلاسفی یا انسانی نفسیات یا ذہانت کا استعمال زیادہ ہو اسے بڑا ناول کہتے ہیں یا جس ناول میں زبان کی چاشنی ہو وہ بڑا ناول ہے یا جس کی کہانی جاندار ہو وہ بڑا ناول ہے؟

جواب:اگر کوئی ناول آفاقی ہے تو یہ چیز اسے بڑا ناول بنا دیتی ہے اور آفاقیت کہانی کے اندر بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ دی برادرز کارامازوف [The Brothers Karamazov] میں تین بھائیوں میں نظریاتی اختلاف ہے، ایک پادری بننا چاہ رہا ہے اور اس میں عشق کا مادہ زیادہ ہے، دوسر ا بھائی سائنسی تھیوریز سے متاثر ہے اور لامذہب ہے۔ اور تیسرا بھائی حیوانی سطح پر زندگی گزار رہا ہے کہ جس سے محبت ہو گئی تو اس کے لیے مرنے کو بھی تیار ہے اور جس سے جھگڑا ہو گیا تو اسے قتل کرنے پر تلا ہے۔ اور بھائیوں کا اختلاف ہر گھر کی کہانی ہے۔ یہ تو کہانی میں آفاقیت ہوئی اور اگر آفاقیت کو کردار کے حوالے سے دکھانا ہو، تو اس کے لیے بالزاک [Balzac] کا ایک فرانسیسی ناول بوڑھا گوریو (The old goriot) ہے، میں نے اس کا انگریزی ترجمہ پڑھا ہے۔ یہ فوج میں جرنل ہے تو جب بھی اس کو خبر ملتی ہے کہ اس کی فلاں بیٹی کے ساتھ یہ مسئلہ چل رہا ہے تو اب اس کے جوجذبات بیٹی کے لیے چل رہے ہوتے ہیں، وہ خالص وہی ہیں جو ایک پاکستانی، امریکن اور ہندوستانی باپ میں بھی ہوں گے۔ تو بیٹی کے لیے یہ جذبات آفاقی ہیں۔ [ابھی اس حوالے سے احمد ندیم قاسمی صاحب کا ایک افسانہ "ماں" میرے ذہن میں آ رہا ہے، اس میں بھی آفاقیت ہے۔]

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

سوال [6]: آپ کے ذہن میں ناول لکھنے کی کوئی ترتیب ہے؟ مثال کے طور میں ایک محقق ہوں۔ میں ایم۔فل اور پی۔ایچ۔ڈی کے بچوں کو ورکشاپ کرواتا ہوں کہ وہ مقالہ کیسے لکھ سکتے ہیں۔ پہلے انہوں نے ابواب بندی (chapterization) کرنی ہے۔ پھر مواد جمع (data collection) کرنا ہے۔ پھر اس کو ترتیب دینا (compilation) ہے۔ پھر حوالہ جات لگانے کا کام (referencing) کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ناول لکھنے کے مراحل (steps) کیا ہیں؟ کیا میں پہلے اس کے کردار تخلیق کروں گا یا پہلے پلاٹ سوچوں گا؟ پلاٹ اور کہانی میں کیا فرق ہے؟ آئیڈیا میرے پاس ہے، اس سے آگے بیان کریں؟
جواب: میرا مشورہ ہے کہ آپ ناول سے پہلے سات آٹھ افسانے لکھ ڈالیں، اس کے لیے دو چار کردار بھی چل جاتے ہیں جبکہ ناول کے لیے زیادہ کردار چاہیے ہوتے ہیں مثال کے طور میں آپ سے کہوں کہ مری میں ایک بینچ پر ایک لڑکا اور لڑکی بیٹھے تھے تو یہ میں افسانہ بیان کر رہا ہوں۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ اس بنچ کے پاس ایک چائے والا بیٹھا تھا کہ جس کے اپنے گھر کے پرابلمز تھے، اور تھوڑی دور ایک پہاڑ تھا، اس پر ایک مسجد تھے، وہاں ایک امام صاحب تھے، ان کے کچھ گھریلو مسائل تھے۔ اور وہاں کچھ آگے ایک شاہراہ اسلام آباد کی طرف جا رہی تھی اور اسلام آباد سے کچھ پہلے ایک یونیورسٹی تھی کہ جس میں طلباء تھے اور ان میں سے کچھ طلباء کے مسائل تھے۔ اور یہ سب کردار آپس میں انٹرلنکڈ تھے تو یہ ناول ہو گیا۔ آپ اگر جارج ایلیٹ [George Eliot] کا انگریزی ناول مڈل مارچ [Middlemarch] پڑھیں تو اس میں بیک وقت چار پانچ جوڑوں کی کہانی بیان ہوئی ہے تو ناول میں کردار زیادہ ہوتے ہیں۔ [میں نے کہیں پڑھا تھا کہ وار اینڈ پیس میں چھ سو کردار ہیں لیکن سب کا ذکر ایک جتنا نہیں ہے]

جواب: عام طور مصنفین نے افسانوں سے ہی شروع کیا ہے۔ اردو ناول نگاری ابھی اس نہج پر نہیں آئی جہاں عالمی ادب ہے۔ البتہ آپ اردو افسانوں کے بارے کہہ سکتے ہیں کہ آج سے اسی سال پہلے جہاں اردو افسانہ تھا تو یورپ میں افسانہ آج وہاں پہنچ رہا ہے، سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی دو بڑے نام ہیں۔ ناول نگاری میں ہندوستان پاکستان میں پختگی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں کا مذہبی ریڈر ابھی تک نسیم حجازی، عمیرہ احمد وغیرہ میں گھوم رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم تراجم پڑھیں، خاص طور روسی اور فرانسیسی ناولز کے تراجم۔ ان دونوں کےناول نگار تو کمال کے ہیں۔
جواب: میرے جو استاذ الاستاذ ہیں یعنی ڈاکٹر احسن فاروقی صاحب انہوں نے دنیا کے دس عظیم ترین ناول کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، مجھے وہ کتاب تو نہیں ملی لیکن میرے استاذ صاحب یعنی پروفیسر ممتاز صاحب نے مجھے ان دس ناولز کے نام بتلائے تھے اور کہتے تھے کہ جو اس فیلڈ میں آنا چاہتا ہے تو ان دس ناولز کو ضرور پڑھے۔ یہ دس کے دس مختلف اعتبارات سے بہترین ہیں۔ کسی کے کردار بہت اچھے ہیں، کسی کا پلاٹ عمدہ ہے۔ ان کی فہرست میں آپ کو بیان کر دیتا ہیں، ان میں سے بعض کے اردو تراجم آپ کو نیٹ پر مل جائیں گے جیسا کہ ریختہ [rekhta] کو دیکھ لیں۔ اگر آپ کو عورت کی فطرت آفاقی لیول پڑھنی ہو تو مادام باواری [Madame Bovary] پڑھیں، اور اس میں حقیقت نگاری ہے، میں نے عورت کو صحیح معنوں میں اسی ناول سے سمجھا ہے۔ اور وہ دس ناولز یہ ہیں:
War and Peace, The Brothers Karamazov, Pride and prejudice, Red and Black, Pickwick papers, Old Goriot, Middle March, Tom Jones, Madame Bovary, Crime and Punishment

جواب: بس جو آپ کے ذہن میں آ رہا ہے، آپ لکھ ڈالیں۔ آپ یہ مت سوچیں کہ مجھے منظر نگاری کرنی پڑے گی، مجھے لَو افیئر ڈالنا ہو گا، جو آپ کو موزوں لگتا ہے اور جیسے لگتا ہے، ویسے لکھ ڈالیں۔ یہی تخلیق ہے۔ لیکن جو بھی آپ تحریر کریں، اس میں بہاؤ ہو یعنی اونچ نیچ ہو لیکن زیادہ بھی نہ ہو کہ زمین سے آسمان پر اور آسمان سے زمین پر۔ اسی طرح آپ پہلے تو اپنے کرداروں کا ایک خاکہ بنا لیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کی ایک مکمل فائل تیار کریں کہ اس کا حلیہ کیا ہے، اخلاقی اوصاف کیا ہیں، نظریات کیا ہیں۔ اور انہیں مطلقا اچھا برا نہیں بنانا اصغری اکبری کی طرح کیونکہ وہ انسان ہیں، ان میں خامیوں کے ساتھ خوبیاں بھی ہیں۔
جواب: پھر دو چار صفحات میں کہانی کا خاکہ بنائیں کہ اس طرح آپ کےدماغ میں اس کا خاکہ آ جائے جو آپ لکھنا چاہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لکھنے کے بعد کسی کو دکھائیں ضرور کیونکہ بڑے رائٹرز بھی اصلاح لیتے تھے بلکہ بعض تو اپنے پورے پورے ڈرافٹس کو پھاڑ کر پھینک دیتے تھے کہ نہیں چلے گا جیسا کہ پرائڈ اینڈ پرے جوڈیس [Pride and prejudice] کی مصنفہ نے اپنے ناول کو دس پندرہ سال تک اشاعت سے روکے رکھا، پھر جب اصلاح کے بعد شائع کیا تو دنیا کے دس عظیم ناولز میں سے ایک بن گیا۔

سوال [7]: ناول نگاری کیا ایک پیدائشی وصف ہے یا یہ آرٹ، محنت سے حاصل ہوتی ہے؟ مطلب بڑا ناول نگار ہونا یہ عطائی [God gifted] ہے یا محنت سے بنا جا سکتا ہے؟
جواب: دنیا میں زیادہ تر بڑے ناول نگار محنت سے بنے ہیں جیسا کہ فرانسیسی ناول نگار بالزاک [Balzac] کی مثال ہے، وہ پیرس کی گلیوں میں بیرے اور اخبار بیچنے کا کام کرتا رہا لیکن رات بھر لائبریری میں مطالعہ کرتا، چند افسانے لکھے، اور اسے بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ مقبول ہو گئے، تو اس نے ناول نگاری کی۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو پیدائشی ہیں جیسا کہ سعادت حسن منٹو پیدائشی افسانہ نگار ہیں۔ اسی طرح افسانہ نگاری کا استاذ الاساتذہ روسی مصنف شیخوف [Anton Chekhov] بھی پیدائشی افسانہ نگار تھا کہ چھوٹی چھوٹی انتہائی سادہ تحریروں میں انتہائی گہرا میسج چھوڑ جاتا ہے۔ تو یہ دونوں طرح ہے کہ کچھ پیدائشی ہوتے ہیں اور کچھ محنت سے بنتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات میں کوئی دوست کچھ اور کہنا چاہیں تو نیچے کمنٹس میں ضرور عرض کریں۔