عجیب شخص تھا۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

سر ثناءاللہ صاحب واقعی عجیب و امیر شخص تھے۔شنید ہے کہ نہائیت اچھے ،سادے اور شریف انسان تھے۔ میری آج تک ان سے دو بدو ملاقات نا ہو پائی ،مگر میرے بڑے صاحبزادے ان کے شاگرد رہ چکے ہیں سو ایک بالواسطہ تعلق تھا۔

صاحبزادے کیمسڑی سے کچھ خاص شغف نہیں رکھتے تھے اور امتحان میں نمبر اس چیز کے گواہ تھے۔سکول کی میٹنگ میں میاں جی کو کہہ کر بھیجا کہ سر ثناءاللہ سے اس مسئلے پر تفصیلا بات کریں ۔صاحبزادے فورا بولے ،سر ثناءاللہ بہت محنت سے پڑھاتے ہیں ،مگر مجھے ہی کیمسٹری پسند نہیں۔میں حیران تھی کہ بچے تو فی الفور استاد پر اچھا نا پڑھانے کا الزام دھر دیتے ہیں۔یہ ماجرہ کیا ہے۔میاں صاحب میٹنگ سے لوٹے تو وہ بھی تعریف کے پل باندھنے لگے کہ ثناءاللہ صاحب سر نہیں استاد ہیں۔کچھ تجاویز دے کر خود بھی زیادہ دھیان دینے کا وعدہ کیا ہے۔
صاحبزادے دیگر تمام طالب علموں کی طرح ان کی حلیم طبیعت پر فدا تھے۔اور ہمیشہ کہتے۔۔۔ماما جی ،سر ثناءاللہ بہترین سر ہیں۔ کچھ دن پہلے خبر ملی کہ عمرے سے واپسی پر ایک حادثے میں بیگم اور بیٹی سمیت چل بسے۔دل میں کوئی گرہ سی پڑ گئی۔میں نے بیٹے سے فون ملایا۔پردیس میں بیٹھا وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا، ملال میں تھا کہ یونیورسٹی جانے سے پہلے وہ سر اعزاز اور سر معیز سے تو مل آیا تھا، مگر سر ثناءاللہ سے نہیں۔اس کی تڑپ اس کے جذبات کی آئینہ دار تھی۔کہنے لگا کہ اس کا روم میٹ اس کو تسلی دے رہا ہے اور اس بات پر حیران ہے کہ ایک ٹیچر کے لیے میں اتنا کیوں رو رہا ہوں۔اس کو فاتحہ خوانی کی تلقین کرتے کرتے میں بھی رو پڑی ۔

دو دن میں ان کے انتقال کی خبر،لوگوں کے لطیف خیالات اور جذبات ،بچوں کے غمگین چہرے، سب اساتذہ کی نم آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہر کوئی نوحہ کناں تھا۔عجیب و امیر شخص تھا۔
جنازے میں شمولیت کے لیے نکلتے وقت میرے میاں اس وقت حیران ہوئے جب میرے دونوں چھوٹے بچے بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔میاں صاحب جب لوٹے تو بولے۔۔۔۔اس مسجد میں کئی نماز جنازہ پڑھے مگر اتنے لوگ کبھی نہیں موجود ہوئے۔پرنسپل صاحب گھر کے سربراہ کے روپ میں سب کو مل رہے تھے۔ دلگیری کر رہے تھے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ شنید تو یہی تھا کہ ثناءاللہ صاحب نہائیت اچھے ،سادے اور شریف شخص تھے۔مگر کیسے ،انہوں نے تو ہر شخص جو بالوسطہ یا بلا واسطہ ان کو جانتا تھا سب کو رلا دیا،طالب علموں کی تڑپ،دوست احباب کی آہ وبکا ، ہر دل کو دکھی کر دیا۔ہر آنکھ پر نم،ہر زبان دعا گو۔ایسا محسوس ہوتا تھا گویا اپنے گھر کا فرد کھو دیا ہو۔ دنیا میں اپنے احسن معاملات سے ہر دلعزیز تو تھے ہی،عمرے کی سعادت میں ہر گناہ بخشوا کر آخرت بھی سنوار گئے۔ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں پانے والا ہی تو امیر ہے۔،واقعی عجیب و امیر تھے۔ اللہ سبحان تعالی ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ان کو اعلی درجات عطا فرمائے۔ آمین۔