میرے من کا موتی - ام محمد سلمان

"مریم" میری دیورانی کی چوتھے نمبر کی بیٹی ہے۔ سال ڈیڑھ سال کی ہوئی اور چلنا شروع کیا تو سیڑھیاں چڑھنے کا بہت شوق ہو گیا۔ دوسری منزل سے چوتھی منزل پہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ مجھ سے ملنے آتی۔ سیڑھیوں سے ہی آوازیں لگانا شروع کر دیتی "تآمّی ( تائی امی) "میں آلی ہوں" (میں آرہی ہوں) ۔

اس کی معصوم توتلی آواز سن کے مجھے بھی بے پناہ خوشی ہوتی۔ میرا گھر اسے بہت اچھا لگتا تھا. کبھی چوکی پہ کھڑے ہو کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگتی، کبھی آئرن کے بیڈ کی پھول پتیوں پہ پاؤں رکھ کے اوپر نیچے اترتی چڑھتی. یہ اس کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا۔ کبھی ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوتی . "تآمّی جی! لپ اسٹک لگا لوں؟ "
ابھی نہیں.. آپی آجائیں گی تب لگانا ۔ اور وہ مسکرا دیتی۔ (ہاں بھئی لپ اسٹک کو بچانا پڑتا ہے ۔ بچوں کے ہاتھ لگے تو اس کا تیاپانچا کیے بغیر واپس کہاں دیتے ہیں۔)
کبھی کبھی روتے ہوئے آتی.... "تآمّی جی!!! مما مائی... مما مجھے مائی..." "ارے ارے کیا ہوا میری بیٹی کو؟" میں بھاگ کے اسے گود میں اٹھاتی ۔ آنسوؤں سے بھیگا چہرہ بھرپور مظلومیت کی داستان سنا رہا ہوتا۔ "مما نے مارا ہے؟" وہ معصومیت سے گردن ہلاتی.. "ایچھے مالا اے، ایچھے... (ایسے مارا ہے، ایسے) وہ اپنے ہاتھ سے منہ پہ تھپڑ مار کے دکھاتی اور اس معصوم ادائے دلبرانہ پہ مجھے اور بھی پیار آتا۔ میں اسے گلے سے لگا لیتی ۔ میں پوچھتی.."مریم!! مما نے آپ کو کیوں مارا؟ آپ نے تنگ کیا تھا مما کو؟ کہنا نہیں مانا ؟ بتاؤ شاباش! کیا بات ہوئی تھی ۔" "تآمّی!! میں نے کہنا مانا تھا۔"
"کہنا مانتیں تو مما کیوں مارتیں بیٹے!! آپ مما کو تنگ نہ کیا کریں ۔ ٹھیک ہے؟" اور وہ سر کو ہلا کے ٹھیک کا عندیہ دیتی۔

اگلے دن پھر وہی کہانی ہوتی... کبھی سچے اور کبھی جھوٹے آنسوؤں سے روتے ہوئے آنا اور مما کی شکایتیں لگانا ۔ ایک دن میں نے اسے گود میں اٹھایا اور پہنچی دیورانی کے پاس.." بھئی کیوں مارتی ہو تم میری مریم کو؟" " بھابی میں نے کچھ نہیں کہا سچ میں... اسے آپ کے پاس جانا ہوتا ہے تو ایسے ہی ڈرامے کرتی ہے۔" میں نے حیران ہو کے مریم کے طرف دیکھا!!! "مریم !! آپ نے جھوٹ بولا ہے؟ " "جی تآمّی!!" اس نے قربان ہو جانے والی مسکراہٹ سے جواب دیا۔ "اسے آپ اپنے پاس ہی رکھ لیں. بہت دل لگتا ہے اس کا آپ کے پاس ۔" دیورانی نے پیار سے کہا ۔ دن میں نہ جانے کتنے چکر لگا لیتی میرے پاس... بار بار اسے پیاس لگتی۔ پورا گھر چھوڑ کے پانی پینے صرف میرے پاس آتی۔ تآمّی جی!! پانی دِنّا(پانی دینا)۔ پانی پیتی تو گلاس میں ہی سانس لیتی رہتی ۔ میں سمجھایا کرتی "مریم!! پانی کے برتن میں سانس نہیں لیتے۔ گلاس ہٹا کے سانس لیا کرو۔" مگر شاید اسے سمجھ نہیں آتی تھی.. ہر بار وہی حرکت کرتی ۔ دوپہر میں جب میں کھانا بنا رہی ہوتی تو بڑے مزے لے لے کے پوچھتی... تا پکایا اے تآمّی... مجھے کھشبو آ لئی اے۔ (کیا پکایا ہے تائی امی! مجھے خوشبو آرہی ہے۔) آپ کی پسند کی چیز بنائی ہے بیٹے ۔ کھانا یہیں پہ کھانا، ٹھیک ہے ؟
"جی تآمّی" وہ خوش ہو جاتی ۔ اکثر دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ ہی کھاتی ۔ پھر حسنِ کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کرتی ۔ "تآمّی!! آپ اچھا کھانا بناتی او ۔"

انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے داد دیتی۔ ایک دن دوپہر ساڑھے تین بجے کا وقت ہوگا میں سو رہی تھی کہ مجھے کانوں میں مریم کی سرگوشیاں سنائی دیں ۔ "تآمی جی!! بھوک لگی ہے." میں نے آنکھیں کھول کے دیکھا!! بیٹا جی کھانا نہیں کھایا ابھی تک؟ " نہیں کھایا.. آپ کے پاس کھاؤں گی۔" چہرے پر وہی خوبصورت سی مسکراہٹ تھی۔ میں نے بیٹی کو آواز لگائی! "مریم کو کھانا دو بھئی! میری بچی بھوکی ہے۔" اور وہ خوش ہو کے کمرے سے باہر بھاگی..." ایتا آپی کھانا دو ایتا آپی کھانا دو۔" میں تھوڑی دیر بعد کمرے سے باہر نکلی تو وہ مزے سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ اس دن کڑھی بنائی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی ہاتھ سے اشارہ کیا... "بہت مزیدار" وہ کھاتی پیتی تو میرا بھی سیروں خون بڑھ جاتا۔ پانی کے برتن میں سانس لینے کی عادت گئی نہیں تھی۔ اس لیے میں دسترخوان پہ اس کے لیے علیحدہ گلاس رکھتی۔ ایک دن میں نے اس کی اسی حرکت پہ ڈانٹ دیا۔ "مریم!! تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ کتنی بار کہتی ہوں گلاس میں سانس مت لیا کرو مگر بار بار وہی حرکت۔ جاؤ یہاں سے ۔" اور مریم ایک دم خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی۔ بعد میں مجھے افسوس ہوا. بچی روتی ہوئی ماں کے پاس جائے گی۔ جانے وہ کیا سمجھے۔ بھابی نے کیا ظلم کیا ہے میری بچی کے ساتھ۔ مجھے اندر ہی اندر افسوس ہونے لگا.. مگر ساتھ میں یہ خیال بھی آیا کہ ابھی تک اس کے رونے کی آواز کیوں نہیں آئی۔ اسے تو ذرا بھی کوئی کچھ کہہ دیتا ہے تو آسمان سر پہ اٹھا لیتی ہے چیخ چیخ کر ۔ تو پھر اس کی آواز کیوں نہیں آرہی؟

یہ بھی پڑھیں:   ایک جملہ - جانیتا جاوید

میں نے کمرے سے نکل کر دیکھا تو دیوار کی اوٹ میں سہمی ہوئی خاموش کھڑی تھی۔ میرا دل کٹ کے رہ گیا۔ کھینچ کے سینے سے لگا لیا ۔ "مریم!! میری بچی!! یہاں کیوں کھڑی ہو؟ مما کے پاس کیوں نہیں گئیں؟ " اور وہ شکوہ بھری خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی بس... چار سال کی عمر ہونے تک تائی امی نے ہمیشہ اس کے لاڈ اٹھائے، کبھی نہیں ڈانٹا. اور آج پہلی بار کچھ سخت الفاظ کہے تو شاید صدمے کی وجہ سے اس کے لیے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ میری تآمّی جی مجھے ڈانٹ بھی سکتی ہیں۔ تب ہم سب نے اسے خوب پیار کیا مگر وہ ننھی سی کلی بجھ سی گئی تھی۔ شاید کچھ وقت تو لگنا تھا اسے اس صدمے سے نکلنے کے لیے ۔ میں نے بھی توبہ کی جو آئندہ اسے ڈانٹوں۔ شام میں آئی تو موڈ کافی بہتر تھا وہی ہنسنا کھیلنا شرارتیں کرنا۔ میں نے بھی شکر ادا کیا۔
ایک دن پانی پینے لگی تو میں نے ایک دو گھونٹ پینے کے بعد گلاس اس کے منہ سے ہٹا لیا، اب سانس لو مریم! اور مریم نے ایک گہرا سانس لیا ۔ چلو اب پانی پیو ۔ پھر ایک دو گھونٹ پینے کے بعد میں نے گلاس ہٹا دیا۔ تین بار ایسا ہی کیا۔ ایسے پانی پیتے ہیں ۔ ٹھیک ہے ۔ دو تین بار ایسے ہی کر کے سکھایا تو اسے سمجھ آ گئی پانی کیسے پیتے ہیں۔
اور مجھے اپنے آپ پر شرمندگی ہی ہونے لگی کہ ہمیشہ اسے یہی کہا کہ گلاس میں سانس مت لو، کبھی کر کے نہیں دکھایا۔ بچے کیا جانیں بے چارے... انھیں تو سکھانا پڑتا ہے۔

چھے سات مہینے پہلے تک بھی یہ حال تھا کہ کپڑے کبھی پورے نہیں پہنتی تھی۔ فراک، قمیص یا ٹی شرٹ.. کچھ بھی پہنا ہوتا اس کے نیچے سے پاجامہ غائب۔ وہی چھوٹی سی پینٹی/جانگیا پہنے رکھتی۔ میں دیورانی سے کئی بار کہتی اسے پورے کپڑے پہنایا کرو مگر وہ کہتی "بھابی کیا کروں... یہ دیکھیں ہر سوٹ کے ساتھ پاجامہ شلوار اور پینٹوں کا ڈھیر لگا ہے مگر یہ پہنتی نہیں ۔ میں پورا سوٹ پہناتی ہوں مگر یہ فوراً جا کے پاجامہ اتار کے جانگیا پہن لیتی یے۔ نہ دوں تو روتی ہے کیا کروں اس کا..؟ میں بھی سمجھاتی کہ مریم بری بات ہے پاجامہ پہنا کرو ۔ مگر مانتی نہیں تھی۔
جب بھی نہا دھو کے تیار ہو کے آتی تو ضرور اپنی تعریف کرواتی.. میں پالی لگ لئی ہوں ناں...؟ (میں پیاری لگ رہی ہوں ناں) اور ہم سب بھی جی بھر کے اس کی تعریف کرتے ۔
ایک دن نہا دھو کر آئی اور بڑے اچھے موڈ میں میرے پاس بیٹھی تھی۔ میں نے کہا... ارے واہ مریم!! کتنی خوبصورت قمیص پہنی ہے آپ نے ۔ کون لے کر آیا؟ "پاپا لائے تھے۔"
اوہو صرف قمیص لائے، پاجامہ نہیں تھا؟ "پائی جامہ(پاجامے کو پائی جامہ ہی کہتی تھی) بھی تھا تآمّی... میں نے نہیں پہنا۔" اوہو کیوں نہیں پہنا؟ کتنی پیاری لگتیں اگر پورا سوٹ پہنتیں تو؟؟
جاؤ جا کے پاجامہ بھی پہن کر آؤ، میں دیکھوں تو میری بیٹی کیسی لگتی ہے؟ وہ گئی اور پاجامہ پہن کر آ گئی.. خوشی خوشی مجھے دکھانے لگی۔ ارے واہ ماشاءاللہ کتنی پیاری لگ رہی ہے میری مریم!!

پتا ہے مریم جب پاجامہ پہنتے ہیں ناں تو اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں.. آپ بھی پاجامہ پہنا کرو ٹھیک ہے؟ "ہیں....؟؟ اللہ تعالیٰ کُھش (خوش) ہوتے ہیں؟ پِھل (پھر) مجھے جنت میں بھیجیں گے۔"
اور کیا...!!! میں نے اس کا حوصلہ بڑھایا ۔ جب اگلے دن آئی تو خود ہی پاجامہ پہنا ہوا تھا ۔ مجھے دکھانے لگی تآمّی دیکھو.. میں نے پائی جامہ پہنا ہے ۔ کبھی پھر جانگیے میں آ جاتی تو میں پھر اسے یاد دلاتی.. مریم!! پاجامہ پہن کر آؤ بیٹے۔ دیکھو کوئی اور بچہ پینٹی پہنتا ہے کیا؟ نہیں ناں!!! آپ بھی نہیں پہنا کرو.. آپ تو اچھی بچی ہو ناں!!! پھر اسے سمجھ آ ہی گئی شاید کہ اب مستقل پاجامہ پہننے کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ یہ تائی اماں شاید بچوں سے بھی زیادہ ضدی ہیں ۔ (مسکراہٹ)
کبھی میں میکے جانے کی تیاری کررہی ہوتی ہوں تو ایک ہی سوال پوچھتی رہتی ہے.. "تآمّی جی! واپس کب آئیں گے آپ لوگ؟" ایک دن واپس آتے آتے دیر ہو گئی، رات کے گیارہ بج رہے تھے جب ہم گھر میں داخل ہوئے۔ اس نے دیکھا تو دیکھتے ہی خوشی سے نعرے لگانے لگی.. تآمّی آگئیں ، تلمان بھائی آگئے، ایتا آپی آ گئیں... اور ہمارے پیچھے پیچھے اوپر ۔ تھوڑی دیر بچوں کے ساتھ باتیں کرتی رہی جب میں سونے کے لیے لیٹی تو کہتی ہے "تآمّی!! آپ کے پاس لیٹ جاؤں؟ " " تو پوچھنے کی کیا بات ہے بیٹے !! آؤ میرے پاس ۔" میں نے اسے اٹھا کے برابر میں لٹا لیا اوراسے کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔

یہ بھی پڑھیں:   خدارا! اپنے بچوں کو سمجھیں - عبدالباسط ذوالفقار

"تآمّی جی!! آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہو، میں آپ کے پاس سو جاؤں؟ " "ہاں سو جاؤ بیٹے! " پھر کہتی ہے " تآمّی!! میں آپ کی بیٹی بنوں گی ." میں نے اس کی پیشانی چوم لی اور کہا ۔" آپ اب بھی تو میری بیٹی ہو ناں!!" تو بولی... تآمّی!! میں ناں... میں ناں... آپ کو مما بولوں گی اور مما کو تآمّی...!! یہ اس کی محبت کی گرم جوشی کا معصوم مگر کتنا پر جوش اظہار تھا۔ دل نے بے اختیار اسے دو جہاں کی خوشیوں اور کامیابیوں کی دعائیں دیں ۔ اللہ میری مریم کو ہمیشہ خوش رکھنا، شیطان کے نرغے سے بچا کے، زمانے کے سرد و گرم سے بچا کے ۔ تھوڑی دیر بعد میں اسے نیچے چھوڑ آئی اس کی مما کے پاس ۔ایک دن میرے پاس بیٹھی اپنا سبق پڑھ رہی تھی " الف با تا ثا جیم حا خا......." پھر ایک دم چلا کے بولی سب ہٹ جاؤ... جنّات آرہے ہیں ۔ ہٹو ہٹو جنات آرہے ہیں ۔ میں حیران پریشان اللہ! یہ ماجرا کیا ہے؟ ہر بات میں تتلاتی ہیں محترمہ اور "جنات" کیسا صاف بول رہی ہیں۔ واقعی یہ کسی جن کی کارستانی تو نہیں...؟ خیر اس سے پوچھا!! مریم کیا بات ہے بیٹے یہ کس نے سکھایا آپ کو؟ تآمی جی!! آپ نے بتایا تھا ناں قلآن (قرآن) پڑھتے ہیں تو جنات آتے ہیں ۔ اللہ اکبر!! میں نے "جنات" کب کہا تھا؟ (ایک دن جب سبق نہیں پڑھ رہی تھی تو ترغیب دلانے کے لیے کہہ دیا تھا کہ "جب قرآن پڑھتے ہیں تو فرشتے نیکیاں لکھتے ہیں۔ مریم آپ کی نیکیاں بھی فرشتے لکھیں گے جلدی جلدی پڑھو شاباش") . مریم!! جنات نہیں وہ فرشتے ہوتے ہیں بیٹے جو آپ کی نیکیاں لکھتے ہیں ۔ میں نے رسان سے سمجھایا۔ "ہاں ہاں وہی تو" فرشتے" ہٹ جاؤ فرشتے آرہے ہیں ۔"

ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا چلو بھئی فرشتوں کی نگرانی میں ہی پڑھ لو ۔ (مسکراہٹ) اب تو دیورانی ہمیں چھوڑ کر جا رہی ہیں ۔ اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو رہی ہیں ۔ جہاں ان کے جانے کا غم ہے وہیں یہ خوشی بھی ہے کہ اپنے ذاتی اور پسندیدہ گھر میں جا رہی ہیں. بچے بڑے سب بہت خوش ہیں۔ دیورانی بڑی محبت سے بار بار اپنے گھر آنے کی دعوت دیتی ہیں ۔
مریم بھی بار بار مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دیتی ہے۔ ایک دن کہنے لگی... "تآمّی جی!! آپ مجھے چھول کے نئی جاؤ، میں آپ کو یاد کلوں گی" (تائی امی جی ! آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ ، میں آپ کو یاد کروں گی ۔ ) وہ شاید یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ تائی امی!! ہم آپ کو چھوڑ کے چلے جائیں گے تو آپ ہمیں یاد آئیں گی۔ مگر معصوم بچی لفظوں کی ترتیب سے کیا واقف...
میں نے کہا: "بیٹے !! میں تو آپ کو چھوڑ کر نہیں جا رہی، آپ مجھے چھوڑ کر جا رہی ہیں اپنے نئے گھر میں۔ میں آیا کروں گی آپ سے ملنے اور آپ بھی مجھ سے ملنے آیا کرنا۔ ٹھیک ہے ؟"
"ٹھیک ہے،" وہ مسکرائی اور میں بھی اداس دل سے اپنے پورشن میں واپس آ گئی۔ بچوں سے پیار کرنا، ان کا خیال رکھنا، ان کے لیے دعائیں کرنا ، ان کے ساتھ دل لگی کرنا ، انھیں تہذیب اور سلیقہ سکھانا... یہ تو میرے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ... اور اس ایک سنت پہ عمل کرنے سے اللہ نے اتنا بڑا خزانہ میری جھولی میں ڈال دیا ۔ میرے دل کو ان معصوم پھولوں کی محبت سے بھر دیا جنھوں نے زندگی میں رنگ ہی رنگ بکھیر دیے ۔ خدارا!! بچوں کو بوجھ نہ سمجھیے ان سے محبت کیجیے ۔ یہ تو رب کا آسمانی تحفہ ہیں ہمارے پاس ۔ ان کی عزت کیجیے، ان کی محبت اور چاہت سے پرورش کیجیے ۔