ایف بی آر کے نئے انسپکٹرز- علی معین نوازش

’’مجھے بس یہی لگتا ہے کہ جو کسٹمر میرے ریسٹورنٹ پہ آتا ہے، ایف بی آر کا انسپکٹر ہے‘‘۔ ایک دوست سے ان کے گھر ملاقات ہو رہی تھی، یہ اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بہت سے کسٹمر تو ایف بی آر کے انسپکٹرز سے بھی زیادہ ہوشیار ہیں۔ مجھے ان کی بات دلچسپ لگی تو میں نے پوچھا کہ کسٹمرز آپ کی انسپکشن یا آڈٹ کیسے کر سکتے ہیں؟ کہنے لگے کہ اب کسٹمرز چیک کرتے ہیں کہ این ٹی این، سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر وغیرہ رسید پر ہے یا نہیں، رسید کو صحیح سسٹم سے بنایا گیا ہے یا نہیں اور اس رسید میں جو ٹیکس لگایا گیا ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ کچھ لوگ تو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جا کر این ٹی این اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن بھی چیک کرتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا اسٹیٹس ایکٹیو ہے ۔

اگر اِن ایکٹیو ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سیلز ٹیکس جمع نہیں کرایا جا رہا۔ کہنے لگے کہ ایک کسٹمر تو مجھ سے لڑنا شروع ہوگیا کہ آپ کے ریسٹورنٹ کا نام مختلف ہے اور آن لائن نام مختلف آ رہا ہے۔ پھر ان کو سمجھایا کہ کمپنی یہی ہے اور یہ ریسٹورنٹ اس کا ایک برانڈ ہے۔ لیکن سیلز ٹیکس جمع ہوتا ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسٹیٹس ایکٹیو ہے۔ لیکن وہ نہیں مانے، جب تک ان کو دستاویزات نہیں دکھائی گئیں، انہوں نے ٹیکس نہیں دیا۔ پھر کچھ ایسے کسٹمر بھی ہوتے ہیں جن کو کچھ غلط لگے یا صحیح، وہ آپ سے بات نہیں کرتے، چپکے سے ایک وڈیو بناتے ہیں، وٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر وہ وڈیو وائرل ہو جاتی ہے، پھر ایک کسٹمر کا مسئلہ، بہت سے اور کسٹمز کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ میں ان باتوں پر ہنسنا شروع ہوگیا۔

میں نے کہا کہ جب آپ نے ٹیکس دینا ہی ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا اصولی طور پر بات آپ کی ٹھیک ہے لیکن کچھ تو ہمارے کاروباری طبقے کی عادت کا بھی مسئلہ ہے اور ہمیں ٹیکس کی مد میں کوئی سہولتیں بھی نہیں ملتیں، اسی لئے سوچتے ہیں کہ ٹیکس نہ دیں تو بہتر ہے۔ لیکن اب کسٹمرز سوال کرتے ہیں تو اس سے بچنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ پھر ایف بی آر یا متعلقہ محکمے کا بندہ ہو تو اس کو آپ آرام سے کھلا پلا کر رخصت کر سکتے ہیں، یہ درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں لیکن جب آپ کا کسٹمر آپ سے پوچھنے لگے اور آپ اس کو مطمئن نہ کرپائیں تو وہ آپ کے پاس دوبارہ نہیں آتا اور باقی کسٹمرز کو بھی خراب کرتا ہے، اس سے کاروبار کا کافی نقصان ہوتا ہے۔ اور یہ صرف ریسٹورنٹس نہیں بلکہ گارمنٹس شاپس اور دیگر جگہوں پر بھی ٹرینڈ چل پڑا ہے لیکن ابھی تک زیادہ تر جو وڈیوز وغیرہ سوشل میڈیا پر آئی ہیں ان میں ریسٹورنٹس کا ہی ذکر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اب سیلز ٹیکس چوری کرنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے کبھی تھا۔ اب یہ کام بالکل ختم ہو گیا ہے۔

گھر آنے کے بعد میں نے لیپ ٹاپ کھولا اور جیو کی ویب سائٹ دیکھی کہ ایک بار پھر سرخیوں پر نظر ڈال لوں تو اُدھر بھی ایف بی آر کا ایک اشتہار چل رہا تھا جس میں سیلز ٹیکس کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ٹیکس ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرکے آپ کسی بھی کمپنی کے سیلز ٹیکس نمبر کی تصدیق کر سکتے اور اس کا اسٹیٹس دیکھ سکتے ہیں۔ جب اس اشتہار کو کلک کیا تو ایک الگ ونڈو کھل گئی جس میں ان تمام کمپنیوں کے نام تھے جن کا سسٹم ڈائریکٹ ایف بی آر کے ساتھ لنک تھا اور ان سے متعلق ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں سے چیزیں خریدتے وقت آپ کا ٹیکس حکومت کو ہی جا رہا ہے۔ مجھے یہ ساری معلومات اور تفصیلات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

ایف بی آر نے نے کمپنیوں کے کسٹمرز کو ہی ایک طرح سے ان کا سیلز ٹیکس انسپکٹر بنا دیا ہے۔ یہ لوگ سوال بھی کرتے ہیں اور چیک بھی کرتے ہیں۔ اگر کمپنیاں ان لوگوں کے تحفظات دور نہ کر پائیں تو کسٹمر کھو بیٹھتی ہیں۔ مانا کہ یہ ٹرینڈ ابھی بڑے شہروں میں زیادہ ہے اور انہی لوگوں کے اندر آگاہی زیادہ ہے لیکن ہم دیکھیں گے کہ یہ ٹرینڈ آگے بڑھے گا۔ اب سیلز ٹیکس ایک حکومتی آفت کے بجائے ایک کاروباری مجبوری بن گیا ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ سیلز ٹیکس کے بارے میں پوچھنے والے کتنے لوگ خود بھی ذمہ داری سے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

میں نے مختلف کالموں میں لکھا اور ذکر کیا ہے کہ ٹیکس ایک سوشل کنٹریکٹ ہے۔ اس سوشل کنٹریکٹ کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس کے عوض لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر لوگوں کو نظر آئے کہ ان کے ٹیکس کے بدلے انہیں سہولتیں مل رہی ہیں تو وہ زیادہ شوق اور آسانی سے ٹیکس دیں گے۔ پھر ٹیکس دینے کا طریقہ بھی آسان کرنا بہت ضروری ہے، اگرچہ اس میں ایف بی آر نے واقعی کوشش کی ہے کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کو آسان سے آسان تر بنایا جائے لیکن یہ تاثر بھی عام ہے کہ جو لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں ان کو ٹیکس حکام کی طرف سے تنگ کیا جاتا ہے اور جو لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں، وہ سکون سے زندگی گزارتے ہیں۔ جب ایک تاثر عام ہو جائے تو اس سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوتا اور ہماری تاریخ میں بہت سے ایسے تاثر بن چکے اور بن رہے ہیں۔ایک اچھی ٹیکس اسٹرٹیجی جبر پر نہیں چلتی۔ اس میں اچھے بزنس دوست تخلیق کاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔