ادویات کا ساحرانہ استعمال۔۔۔ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ایک خواتین اونلی گروپ میں ایک منقول تحریر وٹامن ای کے گوناگوں فوائد پر نظر سے گزری ۔ انداز تحریر دلچسپ تھا سو مکمل پڑھی لیکن تحریر کے مندرجات پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ ایک نان میڈیکل پرسن ایک دوا کو کیسے تجویز کر سکتا ہے ۔ اور وہ بھی اس انداز میں گویا سبھی مسائل بس اس دوا کے لینے سے ختم ہو سکتے ہیں ۔

اس پوسٹ پر ایک ہلکا پھلکا کمنٹ اس نیت سے کیا کہ غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے ۔ یہاں ایک پوسٹ کی صورت لگا رہی ہوں .ادویات کا ساحرانہ استعمال کم از کم ایلوپیتھی میں منع ہے ۔
جب میں نے ساحرانہ لکھا تو آٹو کریکٹ نے خود بخود اسے شاطرانہ کر دیا۔ اور ایک آپشن شاعرانہ کی بھی دی۔ سبھی آپشن اس جملے میں درست محسوس ہوتی ہیں ۔
میرا مشورہ ہے کہ اگر خاندانی جھگڑے بہت بڑھ جائیں تو اس جادو اثر دوا کی ایک خوراک صبح دوپہر شام نگل لیجیے ۔ اگر ازدواجی مسائل ہون تو ڈوز مسائل کی شدت کے حساب سے ایڈجسٹ کر لی جائے ۔ پکوان میں نمک مرچ یا لذت کی کمی بیشی کو بھی اسی کیپسول کو بطور سائیڈ ڈش پیش کر کے مینج کیا جا سکتا ہے ۔ جس دن میڈ چھٹی پر ہو گھر کی صفائی نہ ہو سکے تو ایک کیپسول کپڑوں کی دھلائی کے لیے دوسرا اور کوکنگ کے لیے تیسرا کیپسول استعمال کیا جائے ۔ ساس یا نند (دیورانی/جیٹھانی) ٹھہرنے کے لیے آئیں تو جتنے روز ٹھہریں تین وقت یہی کیپسول پابندی سے استعمال میں رہے تاکہ ان رشتوں کے مضر اثرات سے بچا جا سکے ۔ ہاں اگر بیگم کی والدہ بہن یا بھائی آئیں تو یہی دوا اسے ڈوز میں میاں جی کو استعمال کروا دی جائے ۔

ڈینگی کا خطرہ اج کل سر پر منڈلا رہا ہے ۔ڈینگی مچھر کو رام کرنے کے لیے گھر کے ہر ایسے گوشے میں جہاں پانی کھڑا رہتا ہو وہاں دو چار کیپسول کھول کر اس پانی میں شامل کر دیں ۔ مچھر ملائم قسم کا رام ہو جائے گا۔ کپڑوں کے رنگ نکھارنے کے لیے بھی بلیچ کی جگہ یہی کیپسول ازمائیے ہاں اگر تیل کا داغ پڑ گیا کہ یہ وٹامن آئل بیسڈ ہوتا تو ہمارا ذمہ توش پوش ۔۔۔ایسی ٹوٹکانہ حکیمانہ پوسٹس لوکل روٹ پر چلنے والی بس میں سوار معجزاتی منجن یا کرشماتی سرمہ بیچنے والے کی بیان بازی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں ۔برائے کرم ان سے متاثر مت ہوا کیجیے
ایک انتباہ ہمیشہ یاد رکھیں۔ ادویات مستند معالج کے مشورے سے استعمال کیجیے اور بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں ۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.