مرے درد کی دوا کرے کوئی - صالحہ نور

پناہ گزین، مہاجر، پردیس، دھرتی ماں کی آغوش سے محرومی ..ان تمام اصطلاحات کا خلاصہ ایک لفظ بیان کر سکتا ہےاور .... درد...روح کو گھائل کرنے والا درد...محرومی کا درد.... ہر سانس کے ساتھ بڑھتے خدشوں کادرد. .در اغیار پر دربدری کا درد. ..محتاجی کا درد. ...پر خار اجنبی راہوں کی مشقتوں کا درد.انجانی منزل کی طرف چلتے ساتھیوں کے رویوں کا درد. ...

جس میں شادمانی کی ساعتیں محدود اور غم کے پہاڑ بے شمار ہوتے ہیں...جہاں پناہ گزین کا اس کے خوابوں کے سوا کوئی اپنا نہیں ہوتا ....درد مشقت خوف مل کر ایک پناہ گزین کی کتاب تقدیر کا عنوان بن جاتے ہیں.. بعض اوقات ہجرت بہتر مستقبل اعلی تعلیم اور روزگار کے مواقع کے حصول کے لئے کی جاتی ہے جس میں واضح نصب العین کے ساتھ اپنی مرضی کی سر زمین کا انتخاب کر کے اپنی زندگی کو معین راہوں کی طرف رواں دواں کردیا جاتا ہے. مگر وائل السعود کے خاندان کی داستان ہجرت بہت مختلف تھی. .دیگر شامی خاندانوں کی طرح یہ خاندان بھی آج سے 9 سال پہلے اس خیال تک سے ناآشنا تھا کہ وہ اپنی دھرتی چھوڑنے پر مجبور ہوجائینگے..اس خاندان کے بزرگوں نے بھی اپنے جانشینوں کوحب الوطنی کادرس دیا ہوگا دھرتی کے تقدس کے نغمے گاتے انہوں نے عھدوپیمان لئے ہونگے کہ جان دے دینگے مگر وطن چھوڑ کر کہیں نہیں جائنگے......مگر عالمی چودھریوں کو کھربوں کے بجٹ سے تیاراپنے اسلحہ کے لئے ایک انسانی تجربہ گاہ کی ضرورت تھی شیطانی کفری بساط کےاہم مہرے روس کو افغانستان کے بعد شام جیسی سرزمین ہی بہترین انتخاب لگی جہاں بشار الاسد کی ڈکٹیٹر ظالم حکومت کبھی روس کو مایوس نہ کرتی ایڈوانٹیج یہ بھی تھا کہ

عرب ممالک میں سنی شیعہ اختلافات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ایران اس خونی کھیل کے لئے مکمل تیار تھا. جنگیں شروع اپنی مرضی سے کی جاتی ہیں مگر اختتام کا فیصلہ حالات کے دست اختیار میں ہوتا ہے..2011 سے جاری روس ایران بشار گٹھ جوڑ ہنوز مکمل کامیابی سے دور ہے. ..بمباریوں سے شام کے بیشتر شہر کھنڈر بن چکے..لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیگر ممالک کی طرف ہجرت کرچکے کچھ منزلوں تک پہنچے کچھ کو موجوں نے روک لیا اور وہ بموں سے بچتے بھاگتے سمندر کی بےرحم موجوں کا شکار ہوگئے ..لاکھوں شامی مہاجرین ترکی میں قیام پذیر ہیں وزیر اعظم اردگان نے اگرچہ اپنے ہی پارٹی رہنماؤں کی مخالفت مول لے کر انہیں جگہ دی مگر رائے عامہ نہیں بدل سکے ..پناہ گزینوں کے ساتھ ترکوں کا عمومی رویہ(الا ماشاء اللہ) متعصب یورپی برادری کی طرح تو نہیں مگر ان سے بہتر بھی نہںں اور اس کا مظاہرہ اپنے سیاسی موقف کے علاوہ وہ عام زندگی میں بھی کرتے پائےجاتے ہیں..2 سال کی عمر میں ترکی آنے والا وائل السعود اب 10 سال کا ہوچکا تھا..ازمیت شہر سے کو جالی صوبہ منتقل ہونے کے باوجود فضا وہی تھی. .شامی پناہ گزینوں کے لئے تنگ زمین اور بند دل جس کی گرہیں اسلامی اخوت کا رشتہ بھی نہ کھول سکا ...

یہ بھی پڑھیں:   شام کے سیاسی ایوانوں میں جگہ بنانے والا اسرائیلی جاسوس

گلی کوچوں میں شامی ہونے کی ناقابل قبول نسبت. ..لوگوں کی نفرت برساتی نگاہیں...یہیں تک محدود رہتیں تو معاملہ شاید اتنا سنگین نہ ہوتا. .اسکول میں اچھے تعلیمی ریکارڈ کے باوجود گاہے بگاہے بچوں سمیت اپنے اساتذہ کے تحقیر آمیز رویے کا نشانہ بنتا..اس دن بھی کلاس سیٹ پر کلاس فیلوز سے تلخ کلامی کے بعد اپنے ٹیچر کی ڈانٹ سن کر وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا..اسکول سے واپسی پر کھانا کھائے بغیر مسجد کا کہہ کر گھر سے نکلا اور واپس اس کی پھندہ لگی لاش آئی..وائل کے والد کے مطابق وہ بیلٹ لے کر نکلا جس کو گھر والوں نے حفاظتی اقدام پر محمول کیا. .قبرستان میں خود کشی کر کے وائل نے یہ پھندہ ان شاہان عرب کے گردلگایا جو اپنا ایمان ضمیر حتی کہ انسانیت کا سودا کرکے اقتدار کو طول دینے کی خاطر سفاک بشار الاسد اور اس کے حواریوں کی حمایت کرتے ہیں. ....غمگین باپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی میت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے وہ اپنی بے چارگیوں کو لے کر صرف یہ خواہش کرسکتے ہیں کہ مریخ پر ہم شامیوں کے لئے ایک ٹکرا رہنے کے لئے دے دیا جائے جہاں ہم اپنے باقی ماندہ لیل و نہار بسر کرسکیں کیونکہ ہماری اپنی دھرتی ہمارے ہم مذہب بر وبحر سمیت یہ وسیع دنیا ہمارا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی