قصہ ایک فلم اور ادھورے خواب کا - سعدیہ مسعود

ایک فیس بک پوسٹ میں پوچھا گیا کہ آپ کے پسندیدہ ڈرامے کون سے ہیں اور آج کل کون سے ڈرامے دیکھ رہے ہیں۔ سوال دلچسپ ہے، مگر اسے پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ فیس بک فرینڈز سے پوچھا جائے آپ نے کس ٹی وی ڈرامے سے کیا سیکھایعنی کس ڈرامے سے کیا ڈرامے سیکھے ؟ کس فلم سے آپ میری طرح” فلم “بن گئے ؟

اس کا جواب ہر کوئی اپنے انداز میں دے ، میں آج صرف فلم پر بات کروں گی۔ مزید ”نادر تجربات“ کا نچوڑ آپ کو آنے والے دنوں میں پیش کیا جاتا رہے گا۔ ہم نے فلمیں دیکھنا شروع کیا تو وہ وی سی آر کا زمانہ تھا ۔ آج کے زمانے کی بچیوں نے شائد وی سی آر دیکھا بھی نہ ہو، انہیں ویڈیو کیسٹ کا بھی علم نہیں ہوگا ۔ یہ دکھ تو خیر وہ جان ہی نہیں سکتیں کہ اچھی بھلی چلتی ہوئی فلم جب وی سی آر پرپھنس کر رک رک جاتی تو دیکھنے والوں پر کیا قیامت گزرتی۔ وی سی آر کا ہیڈ صاف کرنا ایک الگ فن ہی تھا۔ عام طور پر گھروں کے لڑکے اس میں ماہر ہوتے اور کبھی پرفیوم کے سپرے کر کے، کبھی کسی اور چیز کی مددسے ہیڈ صاف کرتے۔ خیر وی سی آر پر میری پہلی فلم” یارانہ ”تھی۔ امیتابھ والی یارانہ۔ فلم کیا تھی ایک نئی دنیا اور ہم تھے۔ فلم میں امیتابھ گانے گا گا کے اپنے دوست امجد خان کو مناتے ہیں اور امجد خان ایک فیری (کشتی)پر کھڑے ہو کر سکول کے بچوں کے ساتھ لہک لہک کر گانا گاتے ہیں۔ یہ دونوں گانے ہمارے گھر میں ایک طرح سے سمجھیں ری میک ہوتے ۔ سبھی ننھیالی کزنز جن میں اس وقت میں واحد لڑکی تھی،اس پرہم مزے سے ایکٹ کرتے۔یہ تمام گانے مجھے اور میرے دودھ شریک بھائی چاند کو ازبر ہوگئے تھے۔ بہت دن تک ہماری زندگی میں یارانہ چلی۔اس کا ایک سحر ہی تھا۔

اس کے بعد متھن چکرورتی کی” میں اور میرا ہاتھی “ نے تو میری مت ماردی۔ یہ فلم دیکھنے کے بعد شدید ترین خواہش پیدا ہوئی کہ میرے پاس بھی ایک ہاتھی ہونا چاہیے۔اپنا پورا بچپن میں نے اسی ہاتھی کو لینے، اس کے رکھنے کے بندوست کی منصوبہ بندیوں میں گزار دیا۔ ہاتھی کیسے حاصل کیا جاےئے ؟ کس شہر سے اسے میرے آبائی شہر احمد پورشرقیہ لایا جائے ؟ اسے کہاں رکھا جائے ، اس کی خوراک کا بندوست کس طرح ہو؟ہاتھی کی خریداری کے بجٹ اور بعد میں اس کی نگہداشت کے لیے پیسے کا حصول، یہ سب وہ گتھیاں تھیں جو میں پورا پورا دن سلجھانے میں لگی رہتی۔ سکول میں کلاس کے دوران یہ خیال آجاتا کہ بہاولپور کے چڑیا گھر میں ہتھنی کا بچہ ہے، وہ خرید لیتے ہیں۔ پھر یہ انتظار کہ کب گھر جاﺅں اور وہاں اپنے ابو سے یہ آئیڈیا شیئر کروں۔ میرے ابوجی اس لحاظ سے بڑے من موجی آدمی تھے۔ کتابوں سے انہیں بہت محبت تھی، ہزاروں کتابیں پڑھیں ، بڑی سی لائبریری تھی، دنیا جہان کا فکشن بھی پڑھ ڈالاتھا۔وہ کبھی میرے خیالات، خوابوں کی حوصلہ شکنی نہ کرتے۔بڑے ہونے کے بعد ان سے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کر پائی، اس لئے درست اندازہ نہیں کہ ان میں ایسی برداشت، اتنا حوصلہ کہاں سے آگیا تھا کہ وہ میرے تمام تصورات، فینٹسی کی حوصلہ افزائی کرتے۔ میرے تخئیل کی پرواز کو مزید وسعت دیتے رہے۔

امی جی البتہ روایتی سرائیکی ماں تھیں۔ خیال رکھنے ، سونے کا نوالہ کھلانے والی ، مگر شیر اور وہ بھی خاصے سیریس ، خشک مزاج شیر کی سی تیز آنکھ سے دیکھنے پر یقین رکھتی تھیں۔ انہیں ہاتھی گھر لانے کے میرے انمول آئیڈیا سے ذرا برابر دلچسپی نہیں تھی۔ اس موضوع پر مکالمہ شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ جاتا تھا،اس کے برعکس ابوجی کے ساتھ اس آئیڈیے پر گھنٹوں گفت وشنید جاری رہتی۔ میرے ابو وکیل تھے۔ سیاست سے دلچسپی تھی ،سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اکثر شہر سے باہر رہتے۔ گھر ہوتے تو عدالت جانا ہوتا۔ جب جب گھر واپس آتے تو میرا نیا آئیڈیاا ن کی خدمت میں پیش ہوجاتا۔ وہ نہایت انہماک اور سنجیدگی سے سنتے رہتے، مشورہ دیتے ، حل بتاتے۔ ہاتھی بہاول پور چڑیا گھر سے خریدنے کا خیال ان کو بہت پسند آیا۔ بولے ،بابا! ایسا کرتے ہیں ،میں سوموار کو ہائی کورٹ پیشی پر بہاول پور جاوں گا، عدالت سے فارغ ہونے کے بعد چڑیا گھر چلا جاﺅں گا۔ ان سے پوچھ لوں گا کہ کوئی ہاتھی بکنے کے لیے ہے تو ہم خرید لیں گے۔ نہیں ہوگا تو میں تمہاری چھوٹی پھپھو کا فون نمبر لکھوا دوں گا، وہ جب بھی کوئی ہاتھی بیچنے لگیں گے تو ہمیں بتا دیں گے۔آپ سب کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ حل سن کر سعدیہ مسعود کتنی نہال ہوئی ہوگی،چہرے پر شاندار مسکراہٹ ، آنکھوں میں کیسی چمک آ گئی ہوگی؟

ابوشاید بھول جاتے ہوں لیکن میں نہیں بھولتی تھی، ہر سوموار کی صبح انہیں یاد دلاتی ، ابو آج پیشی کے بعد چڑیا گھرضرور جانا ہے۔ واپسی پر میں انہیں گھر سے باہر سڑک پر کھڑی ملتی ۔وہ بڑے سکون سے میرا ہاتھ پکڑ کر پے درپے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے گھر کی جانب چلتے جاتے۔وہ بتاتے کہ میں نے پتہ کیا ہے ابھی بکنے کے لیے کوئی ہاتھی موجود نہیں ہے۔ میں لکی ایرانی سرکس والوں سے پتہ کرواتا ہوں کہ شاید ان کے پاس ہو یا پھرسری لنکا سے منگوا لیں ۔ بس یہ ہے کہ سری لنکا دور ہے تو ہاتھی مہنگا بہت پڑے گا۔ شام کو ابو جی کے بازو پر سر رکھے ، لیٹے لیٹے میں تصور کرتی کہ جب ہاتھی آجائے گا تو مجھے سکول ساتھ چھوڑنے جائے گا، واپس لینے آئے گا۔ میں اور میرا ہاتھی ،ہم جنم جنم کے ساتھی گانے گاتے ہوے دور تک واک پر جائیں گے۔ یہ ہوگا وہ ہوگا ،لیکن ہاتھی مل ہی نہیں رہا تھا۔ انہی دنوں اخبار میں خبر چھپی کہ بہاول پور چڑیا گھر میں ہتھنی نے بچہ دیا ہے۔ بس پھر تو میری دن رات ایک ہی رٹ تھی کہ اب کاہے کی دیر ہے ، چلیں اور بس لے آئیں۔ امی ان دنوں بہاول پور کے ایک ڈاکٹر کے زیرعلاج تھیں ۔ ہمارا شہر احمد پورشرقیہ بہاولپور کی ایک تحصیل ہے، بہاولپورپچاس پچپن کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ میں اکثر امی، ابو کے ساتھ بہاول پور جاتی رہتی تھی۔

ہر چکر پربہاولپور کی مشہور سنٹرل لائبریری جانا ،اس کے علاوہ کبھی چڑیا گھر اور کبھی لائبریری کے ساتھ واقع میوزیم جانا میری روٹین تھی ۔ خیر ایک دن ہم چڑیا گھر پہنچ گئے۔ ہاتھی کا بچہ لینے۔ ابو کا ہاتھ تھامے جب میں نے پہلی بار ہاتھی کا بچہ دیکھا تو مجھ سے ایک آدھ فٹ لمبا تھا۔ ایک ماہ کا بچہ خراماں خراماں اپنی ماں کے پیچھے چہل قدمی کر رہا تھا۔ ابو نے کہا بھئی سعدو بابا! چلو فیل بان سے خود ہی بات کر لو۔ میں نے ادب سے سلام کیا اور کہا کہ فیل بان چاچا مجھے یہ ہاتھی دے دیں، کتنے کا ہے؟ وہ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا، بیٹی ابھی تو یہ بہت چھوٹا ہے ،ماں کا دودھ پیتا ہے۔ میں نے ہاتھی کے بچے کی طرف دیکھا اور پھر فیل بان چاچا کی طرف ، میری شکل پر صاف لکھا تھا چاچا یہ کہاں سے دودھ پیتا بچہ ہے۔ چاچا نے مسکراتے ہوے انگلی کے اشارے سے ہتھنی کی طرف دیکھنے کو بولا ۔ اسے دیکھا تو سہم گئی، بالکل میرے سر پر ہی کھڑی تھی۔ چاچا بولے بیٹی دیکھو اتنی بڑی ماں کا بیٹا بھی تو بڑا ہوگا ناں۔ میں تھوڑا سا مایوس ہو گئی۔ گھر میں سبھی کزنز سے کہہ آئی تھی کہ آج تو ہاتھی لے کر ہی لوٹوں گی۔ اب یہ مشن ناکام ہوتا لگ رہا تھا۔ میں نے رونی صورت بنا کے ابو کی طرف دیکھا۔ میری حالت سمجھتے ہوے ابو نے فیل بان سے پوچھا ، اچھا یہ کتنے دن تک دودھ پیتا رہے گا؟ کب اتنا بڑا ہوجائے گا کہ ہم آکر اسے لے جائیں۔

اب میں نے فیل بان کی طرف کچھ امیدبھری نظروں سے دیکھا۔ مہربان صورت فیل بان نے بتایا ، صاحب ، پہلے تو بیٹی کو چھ ماہ تک یہاں آتا رہنا پڑے گا۔ یہ اس کو گھاس کھلائے ،گنا کھلائے۔ ہاتھی اس کا عادی ہو جائے ، دوست بن جاے تب یہ لے سکتی ہے ناں۔ تب تک ماں کا دودھ بھی پی لے گا پھر آپ اس کو آسانی سے لے جا سکتے ہیں۔ گھر واپسی کے سفر میں ، میں اداس سی ویگن میں بیٹھی تھی۔ ابو نے تسلی دی ، بابا! ابھی تو ویسے بھی ہمارے پاس ہاتھی باندھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی ناں۔ گھر باندھو گی تو سب بچے تنگ کریں گے۔ میں ڈیرہ بنوا لوں، بس اسی میں ایک کمرا تمھارے ہاتھی کابنوا لیں گے، دھوپ اور گرمی سے بھی بچ جائے گا۔ بات درست تھی، دل کو لگی ، میں مطمئن ہوگئی۔ کچھ ہی دنوں میں ہمارے گھر کے قریب ہی ڈیرے کی تعمیر شروع ہو گئی لیکن ابو نے پتہ نہیں کیوں ہاتھی کے لیے دروازے بڑے نہیں رکھوائے تھے۔میں اس دوران بہت سے ضروری کامو ں میں مصروف تھی، اس لئے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکی۔ ہاتھی کی خریداری کے لئے رقم کا حصول میری پہلی ترجیح تھا۔ پیسے جمع کرنے کے لیے ابو سے، چاچا سے، چاند امی (میری خالہ اور رضاعی ماں ) سے روز ایک روپیہ، جبکہ ماموں انور سے اور ماموں مٹھو سے ہر ہفتے دس روپے میری گولک میں شفٹ ہو رہے تھے۔ ان دنوں میں نے کوئی کھلونا نہیں خریدا، ایک سموسہ تک نہیں کھایا۔

یاد رہے کہ ہمارے گھر کے قریب ہی شہر کے سب سے لذیز سموسے بنتے تھے اور عصر کے قریب جب ان کے تلے جانے کی مسحور کن خوشبو فضا میں پھیل جاتی تو شائد ہی کوئی سموسہ کھانے کی خواہش کے آگے مزاحمت کر پاتا۔میں نے اپنے جیب خرچ سے کوئی چیز نہیں خریدی ۔ امی یا پھر چاچیاں، مامیاں خالائیں یا باجیاں مہربان ہوتیں تو کوئی چیز چٹخارہ ملتا۔ اس دوران وقتا فوقتا ہاتھی کو جا کے گنا اور گھاس کھلانے کا عمل بھی جاری رہا۔ ہاتھی کو سدھانا کیسے ہے اورہاتھی آنے کے بعد کون کون ہماری مدد کے لیے تیار ہے، اس کی لسٹ بنانا۔ کس کم بخت کزن کو ہاتھی کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا، اس کا فیصلہ بھی روز تبدیل ہوتا رہتا۔ یہ ان کزنز، دوستوں کے مجھ سے حسن سلوک پر منحصر تھا۔جب وہ اچھے ہوتے تو میرا دل بھی موم ہوتا۔ سوچتی کہ چلو اسے ہاتھی کو چھونے دوں گی، مگر اس سے زیادہ نہیں۔اگلے روز کچھ شکایت پیدا ہوتی تو پھر ارادہ منسوخ ہوجاتا ۔کچھ لوگ البتہ اس بھری دنیا میں ایسے تھے، جن کو ہاتھی کے ساتھ واک کرنے کی سدا اجازت تھی۔ان میں میری آل ٹائم فیورٹ ر±بی باجی بھی شامل تھیں۔ ابھی چند ہی سال پہلے میرے ایک پھوپھو زاد بھائی نے انکشاف کیا کہ وہ ان دنوں ہر وقت اسی خوف میں مبتلا رہتا کہ کہیں ماما سائیں (یعنی میرے ابو)بہاولپور سے واپسی پر ہاتھی ساتھ نہ لے آئیں۔

اس نے بتایا کہ ہر سوموار چار بجے سہ پہر کے قریب وہ ویگن سٹینڈ جا کر کھڑا ہوجاتااور چھپ کر بہاولپور سے آنے والی ویگنیں دیکھتا رہتا۔ جب ماما ویگن سے بغیر ہاتھی کے اترتے اور گھر کی طرف چل پڑتے، تب میں سکون کا سانس لیتا۔ ورنہ سوموار کا دن میرا انگاروں پر گزرتا کہ آج اگر ماما آتے ہوئے ہاتھی لے آئے تو یہ سعدیہ کی بچی کتنا اترائے گی اور ہم سب کو جلا جلا کر خاک کر دے گی۔ خیر نجانے کتنے برس ہاتھی خریدنے کی چاہ میں گزرے۔ کتنے دن، کتنی راتیں ابو کے بازوپر لیٹے منصوبے بناتی رہی۔مجھے یاد نہیں کہ کب یہ شعور آیا کہ ہاتھی گھر میں رکھنا ممکن نہیں۔ یقینا ابو جی نے کوئی اور خواب دکھا دیاہوگا۔ یوں خواب دیکھنا ،اس کے سچ کرنے کے لیے لمبی پلاننگ کرنا سیکھ لیا۔ خواب پورا ہوا یا نہیں کم سے کم خواب دیکھنے کا بھرپور مزہ لیا۔ آج بھی ہم گھر میں یہ کام پورے زور شور اور جذبے سے کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی بھی قسم کا ، انوکھا، اچھوتا ، ناقابل یقین خواب دیکھا جا سکتا ہے۔کسی خواب پر ہنسا نہیں جاتا، کسی خیال کو رد نہیں کیا جاتا۔ ہم خواب دیکھنے، اس کے پورا ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ اب اس میں میرا بھرپور ساتھ دینے کے لیے خیر سے خان صاحب اور عبداللہ بھی ہیں۔