والدین اور بیوی میں اختلاف کی صورت کس کی مانے؟ - حافظ محمد زبیر

ہم نہ تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر صورت والدین کی مانے اور نہ ہی یہ کہ ہر صورت میں بیوی کی بات کو ترجیح دے۔ ایسے سوال کا جواب مختلف حالات میں مختلف ہو سکتا ہے اوریہ سوال کی نوعیت پر منحصر ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ شوہر پچھلے تین سال سے کمائی کی غرض سے ملک سے باہر ہے۔ اب بیوی کا کہنا یہ ہے کہ شوہر واپس آ جائے کہ اس کے بچے چھوٹے ہیں اور اس کے لیے ان کو اکیلے سنبھالنا اور گھر کی ذمہ داری اٹھانا ممکن نہیں رہا ہے۔ دوسری طرف والدین کا حکم یہ ہے کہ ان کے بیٹے کو کمائی کے لیے ابھی اور باہر رکنا چاہیے۔

جواب: ایسی صورت حال میں بیوی کی بات ماننا ضروری ہے کیونکہ مرد کا کام صرف گھر کا خرچہ اٹھانا نہیں ہے بلکہ اس کی ذمہ داری اٹھانا ہے۔ اور یہ ذمہ داری اٹھانے کا لفظ شادی کے بعد ہی سمجھ آتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔ گھر میں سو کام ہوتے ہیں، بچہ بیمار ہو گیا، اسے ہسپتال لے کر جانا ہے۔ بچوں کا اسکول میں ایڈمشن کروانا ہے، ان کے کپڑے لینے ہیں۔ گھر کے لیے گروسری کرنی ہے، گھر کو مرمت کی ضرورت ہے۔ پانی، بجلی اور گیس کے کنکشن اور بلز کے مسائل ہیں۔ رشتہ داروں کی طرف آنا جانا کرنا ہے جس کے لیے ٹرانسپورٹ چاہیے یا محرم مرد کا ساتھ چاہیے۔ تو ایک اکیلی عورت پر گھر کے ایسے تمام کاموں کا بوجھ ڈالنا زیادتی ہے۔ تو شوہر کے گھر پر ہونے سے ہی عورت کو ایک حوصلہ حاصل ہو جاتا ہے۔ شوہر اگر باہر نکلا ہے اور وہ بھاگ کر گلی کی نکڑ سے سبزی بھی لے آئے گی تو اسے کم از کم اکیلے پن کا احساس نہ ہو گا۔ لیکن ان حالات میں کہ جن میں شوہر ملک سے باہر بیٹھا ہو، عورت تنہا ہو جاتی ہے، جذباتی اعتبار سے بھی اور کاموں کے اعتبار سے بھی۔ یعنی نہ تو اس کے پاس کوئی جذباتی سہارا ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہی ہے، کم از کم کوئی اسے حوصلہ ہی دے دے کیونکہ سسرال والوں کے لیے تو مر بھی جائے تو ہمارا سسٹم ایسا ہے

یہ بھی پڑھیں:   شادی "زدہ" لوگ - محمودفیاض

کہ وہ اسے اپنا حق سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا بیٹا، بھائی اس کے لیے کما کر بھیج تو رہا ہے اور اب اسے اور کیا چاہیے۔ تو وہ کام کر کے بھی حوصلہ افزائی حاصل نہیں کر پاتی تو اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ شوہر تعریف نہ بھی کرنے والا ہو تو میاں بیوی کا تعلق اتنا بے تکلفی کا ہوتا ہے کہ بیوی ضرورت کی تعریف منہ سے نکلوا ہی لیتی ہے جو اس کو فیول کا کام دیتی رہتی ہے۔ دوسرا بیوی کا یہ تاثر کہ وہ گھر کے مسائل دیکھنے میں اکیلی ہے، اسے مزید تنہا کر دیتا ہے۔ گھر کے باہر کے کام مرد کی ذمہ داری ہے اور جب بیوی یہ کام کرے گی تو اوور برڈن ہو جائے گی اور جلد ہی ازدواجی زندگی سے تھک جائے گی۔ البتہ میاں بیوی جب ساتھ میں رہتے ہیں تو پھر بیویوں کو زیادہ حسابی کتابی نہیں ہونا چاہیے کہ میں فلاں دن بازار سے اپنے لیے خود شاپنگ کر لائی تھی وغیرہ۔ اس طرح تو مرد بھی بعض اوقات گھر کے کام کر دیتا ہے، برتن دھو دیے، بچے کے کپڑے تبدیل کروا دیے، ناشتہ بنا لیا تو یہ چلتا رہتا ہے۔ لیکن مستقلا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک کی ذمہ داری دوسرے پر پڑ جائے۔

ٹیگز

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.