بچے کی پیدائش کے اخراجات کس کی ذمہ داری؟ - بشارت حمید

خاندان کے ادارے میں بیوی بچوں‌کا خرچ مرد کے ذمے ہے۔ یہی طریقہ شروع سے چلتا آ رہا ہے اور یہی ہمارے دین کی تعلیم بھی ہے۔ والدین کے ذمے بچوں‌کی پرورش انکی تعلیم و تربیت اور پھر انکی کسی اچھے گھر میں‌شادی کرنا ہے۔

لیکن ہمارے معاشرے میں‌کچھ مادہ پرست لوگ ایسے بھی ہیں‌ جو اپنے لڑکے کی شادی کرنے کے بعد آگے اسکی اولاد کی پیدائش پر ہونے والے اخراجات کو بہو کے والدین کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ کس قدر ڈھٹائی اور بے شرمی کا کام ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں‌۔ ہمارے سماج کا بیک گراؤنڈ ہندو تہذیب کے شدید اثرات سے نکلنے کی بجائے میڈیا کے ذریعے انکی فلمیں‌اور ڈرامے دیکھ دیکھ کر مزید گہرائی تک اس میں‌دھنستا جا رہا ہے۔ ایسی ایسی رسمیں‌ شادی بیاہ کا حصہ بن چکی ہیں‌جن کا چند سال قبل کوئی وجود ہی نہ تھا۔مادہ پرستی نے ہماری اقدار اور اخلاقیات کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ گھر میں‌آنے والی بہو کے والدین نے اس کی پرورش کی، پالا پوسا، تعلیم دلائی اور پھر آپ کے بیٹے کے سپرد کر دی اب اس کا نان نفقہ اس کے والدین کے ذمے نہیں‌رہا، بلکہ اب یہ اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے کہ اس کا سارا خرچ اٹھائے۔ اگر کسی وجہ سے شادی کے بعد امید ہونے میں‌ دیر ہو گئی تو طرح‌ طرح‌ کی باتیں‌اور طعنے بہو کو ملنے لگتے ہیں‌ خاص طور گلی محلے کی خواتین ہی ان باتوں‌ میں‌ پیش پیش ہوتی ہیں۔ کوئی انہیں پوچھے کہ تمہیں‌ کیا تکلیف ہے بھلا۔ جاؤ اپنا کام کرو کسی کی زندگی میں‌مداخلت کیوں‌کرتی ہو۔

پھر اللہ اللہ کر کے امید بندھی تو گھر کے کام کرنے میں معاونت کے لئے بہو نے کسی کام والی کو رکھنے کا کہہ دیا اس پر ساس صاحبہ کا جواب ملتا ہے کہ تم کوئی انوکھی ہو ہم نے بھی بچے جنے ہیں‌سارا کام خود ہی کیا کرتی تھیں ،آج کل کی نسلوں‌کو تو کام چوری کا بہانہ چاہئے۔ بہو بیچاری اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ہے۔ جب ولادت کا وقت قریب آتا ہے تو بڑے آرام سے بہو کو میکے بھیج دیا جاتا ہے اور اس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ ہسپتال کا خرچہ والدین خود ہی برداشت کریں۔ اب بہو کے والدین اپنی بیٹی پر اٹھنے والے اخراجات اس کے سسرال سے کیسے مانگیں لہٰذا شرم و شرمی وہ اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں اور یہ ناروا بوجھ انکو مجبوری کے عالم میں‌برداشت کرنا پڑ جاتا ہے۔ بہو اگر بچے کی ولادت کے قریب میکے اس ارادے سے جائے کہ وہاں‌اس کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے ہو سکے گی اور پہلے بچے کی ولادت پر اپنی ماں‌سے سپورٹ مل سکے گی لیکن اس کا سارا خرچ بشمول ہسپتال کے اخراجات اس کے شوہر کی ذمہ داری ہی ہوں‌اور وہی ادا کریں‌تو ٹھیک ہے پھر اس میں‌کوئی حرج نہیں ۔ لیکن بہو کے والدین کے سر پر ڈیلیوری کے اخراجات بھی ڈال دینا جو آج کل نارمل ڈیلیوری کی صورت میں‌ بھی کسی اچھے ہسپتال میں‌ پچاس ہزار سے کم نہیں‌ ہوتے یہ ناحق بوجھ انکی حق تلفی ہے اور روز قیامت شوہر کو اس کی جوابدہی کرنی پڑے گی۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.