شاگردوں کے نام ! ڈاکٹر محمد مشتاق

آج اساتذہ کا دن منایا جارہا ہے۔ ہم بھی اپنے اساتذہ سے محبت کا اظہار کررہے ہیں اور ہمارے بہت سے شاگرد ہم سے اپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔ کئی دنوں سے ارادہ تھا کہ اپنے شاگردوں کی محبت کے متعلق کچھ لکھوں لیکن موقع نہیں مل رہا۔ آج اساتذہ کے دن کی مناسبت سے ضروری محسوس ہوا کہ شاگردوں کے متعلق چند باتیں لکھوں۔

استاد تبھی استاد بنتا ہے جب کوئی اس کا شاگرد بنے۔ پتہ نہیں کیوں لوگ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں اساتذہ کی عزت کی جاتی تھی اور آج نہیں کی جاتی۔ سچی بات یہ ہے کہ آج بھی ہمیں اپنے شاگردوں سے جتنی محبت اور جتنی عزت ملتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے کسی بھی شہر میں جائیں، کتنا ہی چھپتے چھپاتے جائیں، ہمارے شاگردوں میں کسی نہ کسی کو خبر ہوجاتی ہے اور وہ ملاقات کے لیے نہ صرف خود حاضر ہوجاتا ہے بلکہ دوسرے ساتھیوں کو بھی لے آتا ہے۔ کہیں ایسا ہو ہی جائے کہ کسی شہر سے ، کسی گاؤں سے ، ہو آنے کے بعد ہی وہاں کے شاگردوں کو علم ہو کہ وہاں سے ہو آئے اور انھیں پتہ بھی نہ چلا تو وہ جس طرح ناراضی کا اظہار کرتے ہیں، اس کے بعد ہمیں انھیں منانے کےلیے کئی جتن کرنے پڑتے ہیں اور بالعموم وعدہ کرنا پڑتا ہے کہ جلد ہی اس کی تلافی کےلیے آپ کی طرف آئیں گے، ان شاء اللہ۔ (ایسے میں ان شاء اللہ کہنا فقہی لحاظ سے بہت ضروری ہوتا ہے۔)

میں ہر گز یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ ہمارے معاشرے میں استاد کی عزت نہیں ہوتی یا ان سے محبت میں کمی آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بحیثیت استاد جو چیز ہمیں سب سے زیادہ حوصلہ دیتی ہے، جو ساری تھکن ساری کلفت دور کردیتی ہے اور جسے ہم اپنا سرمایہ گردانتے ہیں وہ شاگردوں کی یہی محبت تو ہے۔ یہ ایسا سرمایہ ہے جس سے زیادہ قیمتی شے کوئی نہیں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس سرمائے پر ایف بی آر ٹیکس بھی نہیں لگاسکتا۔
تو میرے پیارے شاگردو! سدا سلامت رہو!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.