روحانی باپ - محمودفیاضؔ

انجنئرنگ کالج میں ریاضی کے لیکچرر تھے۔ نام انکا ذہن میں نہیں ہے۔ کلین شیو، سادہ پتلون قمیض پہنے آتے تھے۔ لباس سے دیانتداری ٹپکا کرتی تھی۔ ریاضی کے پیریڈ کا پورا گھنٹہ پورا وقت استعمال کرتے تھے۔

ہم جو تین تین پیریڈ عیاشی کرنے کے عادی ہوچکے تھے، یہ پڑھائی ہمیں وبال لگتی تھی۔ ویسے بھی ڈگری اسٹوڈنٹس کا تو پتہ نہیں، ہمارے کالج میں افواہ یہی تھی کہ جب داخلہ ہوچکا تو ڈپلومہ مل ہی جائیگا۔ نوکری تو پھر سفارش پر ہی ملنا ہے، تو اس محنت وغیرہ کے چکر میں کون پڑے۔ مگر ہماری تمام کوششوں کے باوجود وہ ہمیں پڑھا کر ہی جاتے تھے۔ دوسرے اساتذہ کی طرح ہم انکو بھی باتوں میں لگانے کی بہتیری کوشش کرتے تھے، مگر وہ ساری چالیں سمجھتے تھے۔ اور گھما پھرا کر ہمیں پڑھائی کی طرف لے آتے تھے۔ رفتہ رفتہ ہمیں وہ کھڑوس لگنے لگے۔ ہم نے انکے طرح طرح کے نام رکھنا شروع کردیے۔ وہ اساتذہ ہمارے فیورٹ تھے، جو تین گھنٹے کے سیشن کو پندرہ منٹ میں ختم کرنے میں ماہر تھے۔ اور اکثر نوٹس کی کاپی دیکر کر کہتے تھے، بس شور مت کرنا، آدھ گھنٹہ کلاس میں بیٹھے رہو، پھر تمہاری مرضی۔ آدھ گھنٹہ بھی کون انتظار کرتا تھا، بس چھٹی ہی سمجھو۔ ایک دن تو ہم نے اخیر کردی ۔ صاف صاف کہہ دیا کہ سر آج پڑھائی نہیں ہوگی۔ بس چھٹی دے دیں۔ وہ ایک تکلیف دہ مسکراہٹ سے سب کو دیکھتے رہے۔ پھر صاف کہا کہ چھٹی تو نہیں مل سکتی، اور پڑھانے کے لیے بلیک بورڈ کی طرف مڑ گئے۔ ہم بغاوت کے موڈ میں تھے، ہم نے آوازیں لگانا شروع کردیں۔

شرارتیں، قہقہے، اور نہ جانے کیا کیا ۔ ۔ ۔ بالاخر وہ مڑے اور ڈسٹر اور چاک کو رکھ دیا۔ ہمیں لگا کہ کہ بس ۔ ۔ ۔ اب وہ شکست مان گئے ہیں۔ ہم نے اپنا شور اور بڑھا دیا۔
انہوں نے کہا، اچھا پڑھتے نہیں ہیں، دس منٹ آپ سے بات کرتا ہوں، پھر چھٹی کر لیں گے۔ اسکے بعد انہوں نے ایک ایک سے اسکے مستقبل کے بارے میں وہ سوالات پوچھنا شروع کردیے جن پر ہم میں سے کوئی بھی اس وقت سنجیدہ نہیں تھا۔ باتیں تو مجھے یاد نہیں، مگر اتنا یاد ہے کہ کسی لڑکے کو وقت یاد نہ رہا، اور سب کو ہوش تب آیا جب ان کا ایک گھنٹہ پورا ہوگیا۔ وہ دل سے بول رہے تھے ہمارے دلوں پر اثر ہورہا تھا۔ وہ واحد گھنٹہ تھا، جو اس ریاضی کے لیکچرر نے ریاضی پڑھانے کے علاوہ صرف کیا، اور اس میں بھی ہمیں زندگی سے متعلق بہترین سبق دے گئے۔
آج برسوں بیت گئے۔ اگرچہ وہ موج مستی والے اساتذہ بھی اچھے لگتے ہیں، مگر ہر گذرتے دن کے ساتھ وہ استاد جو اس وقت کھڑوس لگتے تھے، دل میں احترام کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے، اور آج انکا مقام دل میں بہت اوپر لگتا ہے۔ اساتذہ کے دن کے موقعے پر میں ایسے تمام اساتذہ کو عقیدت بھرا سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ہمارے مستقبل اور بہتری کے لیے اپنی پرخلوص کوشش کی اور ہماری تمام تر نادانیوں کو بھی برداشت کیا۔ ایسے اساتذہ ہی کو روحانی باپ کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔