6 گھنٹے سے کم نیند کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

رات کو 6 گھنٹے سے کم نیند کو معمول بنالینا امراض قلب یا کینسر سے موت کا خطرہ دوگنا بلکہ چند امراض لاحق ہونے پر 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

پینسلوانیا اسٹیٹ کالج آف میڈیسین کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریض اگر رات کو کم سونا عادت بنالیں تو ان کا امراض قلب یا فالج سے موت کا خطرہ دوگنا بڑھ سکتا ہے۔

اور ایسے افراد جن میں امراض قلب کی تاریخ رہی ہو، ان میں ناکافی نیند سے کینسر سے موت کا خطرہ 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے، جس کے محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کا دورانیہ معمول پر لانا مختلف امراض کے شکار افراد کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ دریافت کیا جاسکے کہ نیند کے معیار اور دورانیے کو طبی یا دیگر تھراپیز کی مدد سے بہتر بناکر موت کے خطرے کو کس حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران 20 سے 74 سال کی عمر کے 16 سو سے زائد افراد (جن میں نصف سے زائد خواتین تھیں)کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور انہیں ہائی بلڈ پریشر یا ٹائپ ٹو ذیابیطس اور امراض قلب یا فالج کے 2 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ان افراد پر سلیپ لیبارٹری میں 1991 سے 198 کے دوران ایک رات کے لیے تحقیق کا حصہ بنایا گیا تھا اور پھر محققین نے 2016 میں ان کی اموات کی وجوہات کا تعین کیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ 512 افراد امراض قلب یا فالج کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جبکہ ایک چوتھائی کے لیے کینسر جان لیوا ثابت ہوا۔

اسی طرح جو لوگ ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کا شکا رتھے اور 6 گھنٹے سے کم وقت تک سونے کے عادی تھے، ان میں امراض قلب یا فالج سے موت کا خطرہ بڑھ گیا جبکہ امراض قلب یا فالج کا شکار ہونے والے افراد میں اس عادت کے نتیجے میں کینسر سے موت کا خطرہ 3 گنا بڑھ گیا، تاہم ذیابیطس یا بلڈپریشر کے شکار افراد اگر 6 گھنٹے سے زیادہ سونے لگے تو یہ خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نیند کا کم دورانیہ بھی طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف امراض کی یشگوئی کے لیے خطرے کے عناصر میں شامل کیا جانا چاہیے۔

رواں سال اگست میں سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بھی اسی طرح کا نتیجہ نکالا گیا تھا۔

تحقیق میں 13 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے دریافت کیا گیا کہ بے خوابی کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ تو پہلے سے معلوم تھا کہ نیند کے عوارض اور امراض قلب کے درمیان تعلق موجود ہے مگر یہ واضح نہیں تھا کہ نیند کی کمی براہ راست اس کی وجہ ہے یا اس کا تعلق جینز سے ہے۔

امراض قلب دنیا میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں اور محققین کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ بے خوابی کی وجہ کی شناخت کرکے اس کا علاج کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران 248 جینیاتی اشاروں کا جائزہ لے کر دیکھا گیا کہ بے خوابی کس حد تک امراض قلب، ہارٹ فیلیئر، فالج اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ نیند کی کمی ہارٹ اٹیک کا خطرہ 13 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا 16 فیصد جبکہ فالج کا امکان 7 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

محققین کے خیال میں نیند کی کمی اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے جو مختلف امراض پر ردعمل ظاہر کرتا ہے خصوصاً خون کی شریانوں کا نظام زیادہ متاثر ہوتا ہے، جس سے فالج کا خطرہ بڑھتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہارٹ فیلیئر کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیند کی کمی جسمانی وزن میں اضافے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا باعث بھی بنتی ہے۔