نیک اور جنتی عورت کون ؟

خضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
مومن بندے نے تقویٰ کی نعمت کے بعد کوئی ایسی بھلائی حاصل نہیں کی جو نیک و صالح بیوی سے بڑھ کر ہو(وہ یہ ہے )اگر شوہر کوئی بات کہےتواسے پورا کرے اگر شوہراس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دےاگر شوہر کیسی کام کے بارے میں قسم دیدے تو اسے پوری کرےاگر وہ کہیں باہر جائے تواپنی جان اوراس کے مال کے بارے معاملہ کرے ۔

اس حدیث پاک میں تقویٰ کی نعمت کے بعد مرد کے لیے نیک وصالح بیوی کو بیان کیا ہے۔واقعتاٗ متقی و پرہیزگارکونیک بیوی مل جائے تونورعلی نور زندگی جنت نظیر ہوجائے گی،نیک بیوی کی چندعلامتیں بیان کی گئی ہیں :
1: شوہر دیکھے تو خوش کردے۔ نیک بیوی کی بہت ہی اہم علامت ہے ۔ مطلب اس کا یہ ہےکہ اپنا رنگ ڈھنگ صفائی ستھرائی شوہر کی مرضی کے مطابق رکھے کہ دیکھے تو اس کا دل خوش ہوجائے خندہ پیشانی،چہرے کی مسکراہٹ کے ساتھ پیش آئے ایسا نہیں کہ گھر میں شوہرآیا کہ بس منہ پھلا نا شروع کردیا یا تکلیف کا اظہار کرکے اس کو پریشان کردیا ۔ نہ ایسا کہ میلی کچیلی اور گندی پھر رہی ہے ۔ شوہر نے دیکھا تو اس کا دل کڑھ گیا ۔ اچھے عمدہ کپڑے ، نظافت اور صفائی کے سامان رکھے مگر پھر بھی گندی کہ شوہر دیکھے تو منہ پھیرے کہ کیسی لگ رہی ہے ۔ باہر دوسری عورتوں پر جب اس کی نطر پڑتی ہے تو یہ بھی سوچتا ہے کہ ہمارے گھر میں بھی صفائی اور زینت کا خیال رہے، ہاں!جب باہر جائیں گی،شادی بیاہ میں جائیں گی، رشتہ داروں میں جائیں گی تو خوب بن سنور کر عمدہ سے عمدہ کپڑا پہن کر، کیوں ؟ دوسروں کو دکھانے کے لیے۔ سن لیجئے! شادی سےقبل بناؤ سنگھار ، زیب وزینت درست نہیں ۔ ہاں! شادی کے بعد درست ہےاور یہ بناؤ سنگھار شوہر کے لیے ہے نہ کہ اجنبی اورغیر محرموں کے لے۔ یہ گناہ کا کام ہے۔ ایسی عورتوں کوایک حدیث میں زانیہ کہا گیا ہے ۔ یہ لوگوں کو کم ازکم آنکھ اور دل کے زنا کی دعوت دیتی ہے ہیں ۔ لوگوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہیں ۔کم ازکم یہ تو سوچتی ہی ہیں کہ کوئی عورت پا کوئی مرد دیکھے تو حیرت اور تعجب میں پڑ جائے اور تعریف کرے۔

کیسی بری بات ہے۔ عفت، حیاء شرافت کے خلاف ہے ۔ زیب وزینت سے شوہر کو خوش کرو ۔
2: قسم پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شوہر پیوی پراعتبار کرتے ہوئے قسم کھالے ۔ مثلاّ یہ کہے ، بقسم تم ایسا ضرور کرو تو شوہر کی خوشی کے پیش نظر ضرور پورا کردیتی ہے۔ خواہ مشقت اور مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔
3: شوہر کے غائبانہ جان و مال کی بھلائی کامطلب یہ ہے کہ آزاد نہ بھرے۔ اجنبی مردوں سے ربط اور تعلق پیدا نہ کرے ۔ بعض عورتوں کودیکھا گیا ہے کہ شوہر کی عدم موجودگی میں بے پردہ پھرتی رہتی ہیں ، اجنبی مردوں سے گفتگو میں جھجک محسوس نہیں کرتیں ۔ مال کی بھلائی کا مچلب یہ ہے بے جااسراف سے مال نہ لٹاتی ہو ۔ سامان حفاظت سے استعمال کرتی ہو۔اسی طرح جن لوگوں کو شوہر کی موجودگی میں مال اور کوئی سامان نہیں دیتی ، اس کے غائبانہ مین بہ دیتی ہو ۔ نہ اپنے رشتہ داروں کو اور نہ دوسروں کو ۔