دِن بدلتے نہیں گزرتے ہیں... عابی مکھنوی

کراچی میں مصباح بِٹیا ڈکیت کی گولی کا شکار ہوئی اور سات سالہ سفیان لیاری ندی نامی غلاظت کے نالے میں ڈُوب کر جان سے گیا ۔

دونوں واقعات ہی معمول کی باتیں ہیں ۔
میرے لیے اور اِس معاشرے کے لیے !
لیکن ان دونوں گھروں میں اور ایسے ہی ان گنت گھروں میں پھر وقت رُک سا جاتا ہے ۔ خوشی اور غم دونوں ہی معانی کھو دیتے ہیں ۔ ایسے گھروں کے مکین محض اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ مر جانا گناہ ہے ۔مطالبہ کیا کیا جائے ؟ کس سے کیا جائے ؟ گزشتہ روز ایک روٹ پر راستے میں سی ایم ہاؤس آیا تو بے اختیار قہقہے لگانے لگا ۔ گاڑی خود ڈرائیو کر رہا تھا اور بالکل اکیلا تھا ۔ قہقہے تھمتے ہی اپنی دماغی صحت کے حوالے سے متفکر ہو گیا ۔
سوچنے لگا کہ یہ کیا حرکت کی ۔ کہیں پاگل تو نہیں ہو گیا ۔
کیرئیر کاؤنسلنگ سے ریٹائر ہو جانا چاہیے کہ خود جو پاگل ہو چکا ہوں ۔
ایسے اکیلے میں کون قہقہے لگاتا ہے بھلا ۔
غور خوض کیا کہ کیوں ہنسا !!
وہ دراصل سی ایم ہاؤس کی غیر معمولی سیکیورٹی جو دیکھ لی تھی ۔
جن کی وجہ سے بچے نالوں گٹروں میں ڈوب کر مر ریے ہیں ۔ جن کو مصباح کی حفاظت کرنی تھی ۔ بلکہ جن کی وجہ سے یہ پورا معاشرہ عذاب کا شکار ہے ۔ بلکہ یوں کہہ لیتا ہوں کہ جن سے ہر بچے ، بوڑھے ، نحیف کمزور اور بے بس کو خطرہ ہے ۔ ان کی کتنی زبردست حفاظت ہو رہی ہے ۔
قہقہہ بجا تھا ۔
یعنی ابھی پاگل نہیں ہوا !!
کچھ وقت باقی ہے ابھی !!
آنکھ میں منجمد ہیں منظر سب !
دِن بدلتے نہیں گزرتے ہیں...