خدا کا شکر ہے صاحب ، کوئی تقاضا نہیں - قدسیہ ملک

شیخ سعدی کی گلستان میں ایک روایت ہے کہ" میں نے کبھی زمانہ کے ناموافق حالات کی شکایت نہیں کی۔ نہ کبھی تکلیفوں پر اظہار ناگواری کیا جس حال میں رہا خوش رہا۔ اور خدا کا شکر ادا کرتا رہا کہ کہیں اس سے بھی زیادہ پریشانی میں نہ مبتلا ہو جاؤں۔ خدا نے جس حال میں رکھا اس پر صبر و شکر کیا۔ لیکن جس وقت میرے پاؤں ننگے تھے، جوتا بھی میسر نہ تھا میں بہت پریشان اور ننگے پاؤں دمشق کی جامع مسجد پہنچا۔

وہاں میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پیر ہی نہیں تھے۔ اس کو دیکھ کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اپنے ننگے پیروں پر صبر کیا!جس شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے اس کو بھنا ہوا مرغ بھی ساگ پات کے برابر معلوم ہوتا ہے اور جس شخص کو اچھا کھانا میسر نہیں ہے اس کے لیے اُبلا شلجم بھی بھنے ہوئے مرغ کے برابر ہے!" شیخ الحدیث و محقق قرآن مولانا عبدالعزیز سے کسی نے پوچھا "شکر گزاری کیا ہے؟"فرمایااللہ نے جو نعمتیں جس مصرف کے لئے دی ہیں ان کا اسی اسی طرح استعمال کرنا جیسا اسکے بنانے والے کی مشیت ہے"یعنی کہ ہر نعمت کو بالکل اللہ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق استعمال کرنا ہی اصل شکر گزاری ہے۔ اصطلاح میں شکر کی تعریف یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کو یاد کرنا اور ان کا دل ،زبان ،عمل سے اظہار کرنے کو شکر کہا گیا ہے ۔شکرگزاری اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شکر اور اہل شکر ہیں اور سب سے مبغوض کفر اور اہل کفر ہیں، قرآن میں انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں۔قرآں میں بھی بارہا شکر گزاری کی تعریف کی گئی ہے۔ ہم نے انسان کو راستہ دکھایا، اب چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا بنے، (الدہر/۳)
ایک جگہ فرمایاگیا (جو کوئی شکر ادا کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں بزرگ ہے (النحل/۴۰)

، ارشاد ربانی ہے اگرتم شکر گذار بنوگے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اوراگر کفرانِ نعمت کروگے تو میری سزا بہت سخت ہے۔(ابراہیم/۷)
قرآن کہتا ہے اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لئے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔(الزمر/۷)
قرآن میں متعدد مقامات پر شکر اور کفر کا موازنہ کیاگیا ہے۔شکر کرنے والوں کے لئے اللہ کی محبت بہت بڑھ جاتی ہے۔پہلی گزری ہوئی اقوام میں بھی شکرگزاری کے جذبے کو اللہ رب العزت نے اتنی محبت سے اپنی کتاب میں ذکر کیاہے ۔ایک جگہ فرمایا" حضرت نوح ایک شکرگذار بندے تھے، لہٰذا تم ان کی پیروی میں شکرگذار بنو(بنی اسرائیل/۳)"۔حضرت موسیٰؑ کو جب شرف کلامی بخشا تو ان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا"آپ شکرگذاروں میں سے ہوجائیے(الاعراف/۱۴۴)۔حضرت ابراہیم ؑ کا امتیازی وصف یہی بتایا کہ "وہ اللہ کی نعمتوں کے شکرگذار تھے،(النحل/۱۲۱)"۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے شکر گزاری اختیار کرنے کا حکم دیا،فرمایا"اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اس نے تمہیں کان دئیے، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دئیے، اس لئے کہ تم شکرگذار بنو(النحل/۷۸)"۔

احادیث میں بھی شکر گزاری کو اختیار کرنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے ۔ بندئہ موٴمن کا معاملہ بھی عجیب ہے ، اس کے ہر معاملہ اورہر حال میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے، اگراس کو خوشی اور راحت و آرام پہنچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے، اور یہ اس کے لئے خیر ہی خیر ہے، اوراگراُسے کوئی دکھ اور رنج پہنچتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے، اور یہ صبر بھی اُس کے لئے سراسر خیر اور موجبِ برکت ہوتا ہے۔(مسلم)۔ دو خصلتیں جس میں ہوتی ہیں اللہ اسے صابر شاکر لکھتا ہے، اور جس میں یہ دو خصلتیں نہیں ہوتی ہیں اللہ اسے صابر و شاکر نہیں لکھتا ہے، جو شخص اپنے دینی معاملات میں اپنے سے اعلیٰ (زیادہ دیندار) کو دیکھ کر اس کی اقتدا کرلے، اور دنیوی معاملات میں اپنے سے کمتر (غریب) کو دیکھ کر اپنے ساتھ اللہ کے امتیازی فضل کے معاملے پر اللہ کی حمد کرے تو اللہ اسے صابر و شاکر لکھتا ہے، اور جو اپنے دینی معاملات میں اپنے سے کمتر (کم دیندار) کو دیکھے، اور اپنے دنیوی معاملات میں اپنے سے برتر (زیادہ مالدار) کو دیکھے اور اپنی (کم مالداری والی) حالت پرافسوس کرے تو اللہ اسے صابر وشاکر نہیں لکھتا ہے۔یعنی دین کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے اوپر اپنے سے برتر لوگوں کو دیکھ کر ان سے نصیحت لینی چاہیئے اور دنیا کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنا چاہئے تاکہ دنیا کی رغبت دل میں کم سے کم جگہ پاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا گھر کوئی نہیں - منزہ ذوالفقار

حضرت عبداللہ بن مسعود کا فرمان ہے "ایمان کے دو حصے ہیں، ایک حصہ صبر ہے اور دوسرا حصہ شکر ہے" حضرت حسن بصری کا فرمان ہے "اللہ جب تک چاہتا ہے اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے، پھر جب نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا جاتا تو اللہ انہیں عذاب سے بدل دیتا ہے"۔ آج ہمارے معاشرے میں جس کو دیکھیں اپنی قسمت پر شاکی، اپنے نصیب سے ناخوش اپنی موجودہ زندگی سے بے زار نظر آتا ہے۔ جس کے باعث معاشرہ ایک عجیب طرح کی پریشانیوں اور مصائب میں گھراہواہے ۔ فوزیہ جوگن اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں"ایک حدیث کے بمطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے سب سے زیادہ عورتوں کو جہنم میں دیکھا کہ وہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں!
آج کل ہم انجانے میں اپنی خواہش و ہوس کے ہاتھوں ہر حاصل کی ناشکری کرتے ہیں ، اپنی بیوی یا شوہر کو دوسروں کی بیوی یا شوہر سے موازنہ کرنا تو اتنا نارمل ہو چکا ہے کہ اسے اب ایبنارملیٹی کوئی نہہیں سمجھتا، موازنہ کرنے والے کے ساتھ مسلہ ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں ہمارے ساتھ مسلہ ہے کہ ہم دوسرے جیسے نہیں ، یا فلاں شخص کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے ، یا فلاں شخص فلاں کی طرح کیوں نہیں ہے، ہر وہ شخص جو پرفیکشنزم کا حامل ہے اس کو اتنی ہی ذہنی اصلاح کی ضرورت ہے جتنی کے اسکو ، جو دوسرے کے معیار پر پورا اترنے کے لیئے اذیت میں ہے۔

محبت آپکو جیسا ہو ویسا تسلیم کرتی ہے، آپ اپنی شخصیت میں اللہ کے لیئے نکھار پیدا کریں اپنی زینت اپنے شوہر یا بیوی کے لیئے کریں مگر ایسا پر سکون ذہن تب ہی میسر آتا ہے جب نیت نفس نہیں نیت اللہ ہو، کوئی کسی ذہنی یا روحانی مسلے میں الجھا ہوا ہے اسکا فرق اس کے ذہنی سکون سے اندازہ لگا کر کیا جاتا ہے"۔ہم عورتیں ایک بہت بڑی ذمہ داری پر مامور ہیں۔خاندان کی ابیاری اور اسکی پرورش آسان نہیں۔اگر ایک خاتون ہاوس وائف ہے تو وہ سب سے اہم عہدے پر فائض ہے ۔ اس کو "ورکنگ ویمن "خواتین سے اپنے آپ کو کسی بھی طور پر پیچھے نہیں سمجھا چاہیئے۔کیونکہ یہ عورت تو24 گھنٹے کی نگران ہے ۔ اس کی نوکری سال کے 365 دن مہینے کے پورے 30/31 دن ، دن و رات کے پورے 24 گھنٹے کی نوکری ہے ۔ اسی لئے اس کا رتبہ بھی مردوں سے افضل ہے ۔مرد کو اسی لئے قوام بنایا گیا کہ نان نفقہ سے لیکر گھر کی ہر طرح کی معاشی ضروریات اس مرد کی ذمہ داری ہیں ۔ بدلے میں وہ عورت کی محبت اور اپنی اولاد کی بہترین پرورش و تربیت کاحقدار ہے ۔ جبکہ معاش کی ذمہ داری اللہ نے عورت پر نہیں ڈالی اسے بس شوہر کی شکر گزاری اور اطاعت کاحکم دیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کا مسئلہ، مرد و خواتین کیا کریں؟ محمد عامر خاکوانی

حدیث میں آتا ہے" عورت جب پنج وقتی نماز پڑھے، رمضان کے مہینے کے روزے رکھے ،اپنی عزت آبروکی حفاظت کرے اور شوہر کی فرمانبرداری کرے تو وہ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔''(بیہقی:کتاب النکاح،باب ما جاء فی عظم حق الزوج علی المرأۃ)
آج کی عورت کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ وہ اپنی عزت بھی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مانگتی ہے، محبت بھی اور اپنی حیثیت بھی، جب 'دوسرے' خدا بن جائیں یا بنا دیئے جائیں تو خواری تو نصیب کا حصہ ہے ناں۔۔! ابلیس تو اپنی ڈیوٹی پر مامور ہے اور نفس کی چالبازیوں سے جواز گھڑنے میں کیا دیر لگتی ہے بھلا! اور مرد یہ بھول گیا ہے کہ وہ قوام ہے نگہبان ہے اور یہ عطا اس پر امانت کے طور پر اسکے اختیار کی آزمائش ہے،،، مجازی خدا کا درجہ بھی بطور امانت ملا تھا اور وہ نادان اللہ کو فراموش کیئے حقیقتاۤ خدا بننے پر تلا ہوتا ہے، اور عورت یہ بھول گئی ہے کہ اطاعت میں اس کی کیا خیر ہے۔ دراصل ہم خود سے منافق ہیں جس دن ہم خود سے سچے ہو جائیں ناں اسی دن خود سے اور سب سے سارے جھگڑے ختم ہو جائیں۔اسی لئے آج کل کی عورت بیماریوں کا منبع بن گئی ہے۔جب آپ اپنی زندگی میں موجود چیزوں کے لیے شکر گزار بنتے ہیں تو آپ کے اندر سے غصہ اور چڑچڑاہٹ کا خاتمہ ہوتا ہے۔جب بھی آپ کے اندر منفی جذبات پیدا ہوں اپنے آپ کو دستیاب چیزوں پر نظر ڈالیں اور سوچیں دنیا کے کتنے ہی لوگ ان سے محروم ہیں۔

جذبہ شکر گزاری ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ایک تحقیق کے مطابق شکر گزار اور قسمت پر صبر کرنے والوں میں کم شکرگزار لوگوں کی نسبت بیماریاں کم ہوتی ہیں۔یعنی وہ کم بیمار پڑتے ہیں۔ شکر گزاری ایک ایسی عادت ہے جو انسانی اعصاب کو پر سکون کرتی ہے۔ شکر گزاری کی عادت جسمانی صحت میں بھی بہتری لاتی ہے۔ یہ ایک طرف تو دماغی طور پر انسان کو پرسکون کرتی ہے دوسری جانب ماہرین کی ایک تحقیق کےمطابق جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات ڈالتی ہے اور انسان کو مختلف اقسام کی تکالیف سے نجات دلاتی ہے۔یہ دل و دماغ کو مطمئن کر کے حسد اور جلن کے منفی خیالات سے چھٹکارہ دلاتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر آپ کے اندر شکر گزاری کی عادت ہے تو آپ بے شمار فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔ چیزوں کو مثبت انداز سے دیکھنا، ان کی قدر کرنا انسان میں شکر گزاری پیدا کرتا ہے۔ ان تمام نصیحتوں سے یہ بات بہت واضح ہوجاتی ہے کہ صبر و شکر دونوں ایمانی گاڑی کے دو پہیے ہیں، ان میں سے کسی ایک کے بغیر نہ ایمان معتبر ہوتا ہے اور نہ مکمل، ایمان کی تکمیل و ترقی کے لئے صبر و شکر دونوں سے یکساں طور پر آراستہ ہونابہت ضروری ہے۔

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.