پردہ - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

سوال: کہاجاتا ہے کہ قرآن میں پردے کے تناظر میں برقعہ پہننے کا صریح حکم موجود نہیں ہے۔ اس لیے صرف اوڑھنی سے سر اور چہرے کا پردہ کرنا اور ساتھ ہی جہاں تک ہوسکے جسم کا ڈھکنا کافی ہے۔

اسی طرح یہ بھی کہا جاتاہے کہ چوں کہ ہمارے یہاں کے مخصوص حالات کی وجہ سے تلاشی کے دوران برقعہ والی خواتین کا برقعہ ہٹا کر تلاشی لی جاتی ہے اس لیے بھی برقعہ نہ پہننا بہتر ہے۔ جہاں تک میرا علم ہے، برقعہ اوڑھنا اسلامی شعار ہے اور برقعہ یا حجاب کا صریح حکم قرآن میں ڈھونڈنا ناروا ہے۔ جب کہ سنت سے حجاب کی اہمیت اور فرضیت واضح ہے۔ دو پٹے، اوڑھنی یا چادر سے سر، چہرے اور جسم کو ڈھانکنا میرے خیال میں ناکافی ہی نہیں، بلکہ دعوت ِ نظارہ کے مترادف ہے۔ چوں کہ عموماً ہم لوگ باہر نکلتے وقت اہتمام سے نئے، خوش رنگ اور نظر کو بھلے لگنے والے کپڑے زیب تن کرتے ہیں ، ساتھ ہی عورتیں عام استعمال کے کپڑے بھی فیشن کو ملحوظ رکھ کر خریدتی ہیں۔ اس لیے اس طرح کے کپڑوں کو پردہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے؟ جہاں تک تلاشی کے دوران تنگ کیے جانے کا سوال ہے تو میرے خیال میں اس وجہ سے حجاب ترک کرنا بھی گناہ ہے۔ اسے ہم اضطراری حالت تو نہیں کہہ سکتے۔ بھلے ہی انسان دل کو مطمئن کرنے کے لیے کتنے بھی بہانے بنالے، ویسے بھی پردہ دار خواتین کے ساتھ بلاوجہ زیادتی کوئی بھی غیرمسلم، چاہے وہ پولیس والا ہو یا فوجی، نہیں کرتا۔ الا احیاناً۔ یونیورسٹی، آفسوں اور خصوصاً ہسپتالوں میں لڑکے اور لڑکیاں سارا سارا دن گفتگو اور ہنسنے مسکرانے میں گزار دیتے ہیں۔

سمجھانے یا منع کرنے پر کہا جاتا ہے کہ ہم تو اسلام کے بارے میں Discussکرتے ہیں۔ یہ کون سا اسلام ہے، جس پر اجنبی اور غیرمحرم مرد و زن بے پردگی اور عریانیت کے ساتھ مل کر Discussکرسکتے ہیں۔ ایک توحرام کام اور پھر اس پر ’’اسلام پر "Discuss کرکے ثواب بھی کمایا جارہاہے۔ یہ حالات سخت ذہنی کوفت کاسبب ہیں، لیکن ہماری بات اس لیے اثر نہیں کرتی کہ ہم دینی تعلیم تو برائے نام بھی کسی مدرسے سے حاصل نہیں کرپائے، صرف مروجہ تعلیم کے ساتھ گھر پر والدین کی توجہ سے تھوڑا سا دین کا علم ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ مذکورہ بالا امور پر خصوصی توجہ سے ہماری رہ نمائی فرمایئے۔ شاید کہ کسی پر اثر ہو۔ جواب: قرآن کریم میں مومن مردوں اور عورتوں کی معاشرت کے بارے میں واضح احکام دیے گئے ہیں۔ خاص طور سے عورتوں کے بارے میں اس میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ ان کا رہن سہن گھروں میں کس طرح ہو اور وہ باہر نکلیں تو کس طرح نکلیں ؟ اس سلسلے میں ہمیں سورۂ نور اور سورۂ احزاب کی آیات کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ سورۂ نور میں پہلے اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں

: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَo وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ (النور:۳۰-۳۱) ’’(اے نبیؐ) مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ اور (اے نبیؐ) مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ ‘‘ پھر اہل ایمان عورتوں کو مزید حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زینت کا کھلے عام اظہار نہ کریں۔ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیں اور اپنے قریبی رشتے داروں اور متعلقین، (شوہر، باپ، خسر، بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے، میل جول کی عورتیں ، زیردست مرد، بچے) کے علاوہ کسی کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں : وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلّاَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلَیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّص وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلّاَ لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآئِھِنَّ اَوْ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِص وَلاَ یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ (النور:۳۱)

’’اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے، جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر ، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں ، اپنے لونڈی غلام، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ، اور وہ بچے، جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔‘‘ سورۂ احزاب میں اہل ایمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ (الاحزاب:۵۹) ’’اے نبیؐ، اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلّو لٹکا لیا کریں۔ ‘‘ اس آیت میں جلابیب (واحد جلباب) کا لفظ آیا ہے۔ یہ خمر (واحد خمار) یعنی اوڑھنی سے الگ چیز ہے۔ جلباب اوڑھنی سے بڑے کپڑے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ اور ابن مسعودؓ نے اس سے مراد چادر لی ہے۔ علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں : صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد وہ کپڑا ہے، جس سے پورا بدن ڈھک جائے۔ (تفسیر قرطبی، ۱۴/۲۴۳)

معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں عورتوں کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کے آداب بیان کیے گئے ہیں کہ جب وہ کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلیں تو اپنے جسم کو کسی بڑے کپڑے مثلاً چادر وغیرہ سے اچھی طرح ڈھانپ کر نکلیں اور پوری احتیاط کریں کہ ان کی زینت کا اظہار نہ ہو۔ برصغیر میں عام طور پر جس برقعہ کا چلن ہے وہ اس ضرورت کی بہ خوبی کفایت کرتا ہے۔ لیکن اسے ’اسلامی شعار ‘ قرار دے کر لازم کرنا اور اس کا التزام نہ کرنے والی خواتین کو اسلامی شعار سے بے پروا قرار دینا میری نظر میں غلو ہے۔ اسلام نے خواتین کو کسی مخصوص لباس کا پابند نہیں کیا ہے، بلکہ اس کی کچھ شرائط بیان کردی ہیں۔ جس لباس میں بھی وہ شرائط پوری ہوں اسے پہنا جاسکتا ہے۔ مروج برقعہ کے علاوہ بھی مسلمان خاتون کسی غیر جاذب نظر چادر وغیرہ سے اپنے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ سکتی ہے۔ دوسری طرف آج کل ایسے ایسے فیشن ایبل برقعے مارکیٹ میں آنے لگے ہیں کہ ان کو پہننا دعوت ِ نظارہ دینے کے مترادف ہے اور ان سے حجاب کی ضرورت کسی طرح پوری نہیں ہوتی۔ آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ تلاشی کے دوران تنگ کیے جانے کے اندیشے سے حجاب ترک کرنا مناسب نہیں ہے۔ حجاب اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

اس لیے مسلمان خاتون کو ہرحال میں اس کا التزام کرنا چاہیے۔ اسلام غیرمحرم مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور ان کا گھل مل کر رہنا گوارا نہیں کرتا۔ وہ نامحرم کے ساتھ تنہائی میں رہنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ آج کل اگر تعلیم گاہوں ، شفا خانوں ، دفتروں اور دیگر اداروں میں اختلاط سے بچنا ممکن نہیں رہ گیا ہے تو اس معاملے میں حتی الامکان احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے اور اللہ کے رسول ﷺ کا یہ ارشاد ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے: اَلاَ لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِاِمْرَأَۃٍ اِلاَّ کَانَ ثَالِثَھُمَا الشَّیْطَانُ۔ (جامع ترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ، حدیث: ۲۱۶۵) ’’خبردار، کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے، ورنہ ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوگا۔‘‘ آپ کے احساسات قابل مبارک باد ہیں۔ تعلیم و تبلیغ کے لیے کسی دینی مدرسہ کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں۔ کسی شخص کو دین کی، جن باتوں کا علم ہو ا نہیں دوسروں تک پہنچانا ہر مومن مرد اور عورت کی ذمے داری ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَ لَوْ آیَۃ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، حدیث: ۳۴۶۱) ’’میری طرف سے دوسروں تک پہنچاؤ خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘