مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

مولانا فضل الرحمن اس بار ایک عجیب مشکل سے دوچار ہیں۔ وہ اپنی سیاسی زندگی کی سب سے مشکل جنگ کے چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ ایسی لڑائی جس میں جیت شکست کے مترادف ہے اور شکست تو خیر تباہ کن ہوگی ہی۔ ستم ظریفی یہ کہ ان کے لیے اب اسی جگہ پر رکے رہنا بھی مشکل ہے۔ انہوں نے ایسی لہر پیدا کی ہے جو بتدریج آگے کی طرف ہی بڑھے گی، اسے جامد کر دینا آسان نہیں رہا۔

مولانا فضل الرحمن کے بارے میں جس کسی سے بات کی جائے، ان کی سمجھداری، دانشمندی اور ذہانت کی تعریف کرتا ہے۔ میڈیا میں ان کے کئی ایسے مداحین موجود ہیں جو انھیں زیرک اور غیر معمولی ذہین سیاستدان قرار دیتے ہیں۔ مولانا کے مخالفین کی بھی کمی نہیں، وہ ان کے حوالے سے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر تند و تیز تبصرہ کر ڈالتے ہیں، ایسے گستاخوں میں تحریک انصاف والے سرفہرست ہیں۔ ہمارے ایک صحافی دوست بھی مولانا کے حوالے سے کچھ زیادہ حسن ظن نہیں رکھتے۔ انھیں یہ اعتراض ہے کہ لوگ موقع پرستی، ہوشیاری اور چالاکی کوذہانت اور دانشمندی کیوں قرار دیتے ہیں؟ مولانا کی صلاحیتوں کے موصوف قائل ہیں، مگر وہ اسے موقع پرستی، حب جاہ اور کہہ مکرنی کا کمال تصورکرتے ہیں، یعنی ایسا سیاستدان جو ہر حال میں اپنا مفاد اور فائدہ دیکھے، موقع کی مناسبت سے اپنا بیان تبدیل کر لے اور جس سیاسی کیمپ میں سہولت دیکھے، وہاں ڈیرے ڈال دے۔ خیر یہ تو ایک ناقدانہ رائے ہے، ایسے ناہنجار، تلخ ناقد ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جلی کٹی سنانے سے باز نہیں آتے۔

مولانا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ راستے بند نہیں کرتے، کوئی نہ کوئی دروازہ کھلا رکھتے ہیں۔ پاکستان میں پاور پالیٹیکس کرنا آسان نہیں، کئی بار تنے رسے پر چل کر دوسری طرف جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں وہی کامیاب ہوپاتے ہیں جو ہر ایک سے بنا کر رکھیں، کسی کے ساتھ تعلق نہ توڑیں اور جوڑتوڑ کی سیاست میں اپنے لیے راستہ نکال لیں۔ مولانا طویل عرصے سے اہم سیاسی پلیئر رہے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی نوے کی عشرے میں ہونے والی لڑائیوں میں بھی وہ اہم کھلاڑی رہے۔ پرویز مشرف آئے، نائن الیون کے بعد مذہبی قوتوں پر انھوں نے کریک ڈاؤن کیا تو معاملات خاصے کشیدہ ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن نے جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر ایم ایم اے بنائی اور 2002ء کے انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کی۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں مذہبی جماعتوں کے لوگ اسمبلیوں میں پہنچے۔ پیپلزپارٹی چاہتی تھی کہ جنرل مشرف پر دباؤ ڈال کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی واپسی کی راہ ہموار کی جائے۔ وہ ٹف بارگین کرنا چاہ رہے تھے، مگر انھیں ایم ایم اے نے سرپرائز دیا اور مشرف حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کر کے انھیں سیف ایگزٹ دے دیا۔ اگلے پانچ سال بڑی کامیابی کے ساتھ ڈکٹیٹر کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ رکھی۔ ان کے نقاد ایم ایم اے کو ”ملا ملٹری الائنس“ کہتے رہے، مگر مولانا فضل الرحمن کی پیشانی پر کوئی شکن نہ پڑی۔ جنرل مشرف کے صدارتی الیکشن میں ایک تکنیکی رکاوٹ یہ ڈالی جا سکتی تھی کہ سرحد اسمبلی توڑ دی جاتی تاکہ الیکٹوریل کالج ادھورا رہ جائے۔ قاضی حسین احمد ایسا چاہتے تھے، مولانا فضل الرحمن نے مختلف حربوں سے ایسا نہ ہونے دیا۔ بعد میں ایم ایم اے ٹوٹ گئی، اس کی کئی وجوہات تھیں، ایک فیکٹر یہ بھی تھا۔ سید منور حسن اسی لیے ایم ایم اے کی بحالی کی مخالفت کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ طے ہو کہ اتحاد ٹوٹا کیوں تھا؟ پھر جس کی غلطی ہو، وہ اسے قبول کر کے معذرت کرے، اس کے بعد آگے کا سوچا جائے۔ سید صاحب نے اپنے دورامارت میں ایسا نہ ہونے دیا۔ پچھلے سال الیکشن کے موقعہ پر جماعت اسلامی کے اندر ایک طاقتور لابی کے دباؤ پر ایم ایم اے بن گئی اور پھر الیکشن میں جماعت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد عجلت میں اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   فارن فنڈنگ کیس کی ریس - محمد طیب زاہر

مولانا فضل الرحمن کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے آصف زرداری اور میاں نواز شریف دونوں کے ساتھ کمال ہوشیاری کے ساتھ تعلق برقرار رکھا۔ پہلے پانچ سال پیپلزپارٹی مرکزی حکومت میں اور ن لیگ اپوزیشن میں جبکہ اس کے بعد پانچ سال ن لیگ مرکز میں حکمران جبکہ پیپلزپارٹی اپوزیشن میں تھی۔ دونوں ادوار میں مولانا مرکزی حکومتوں کے ساتھ رہے اور اپوزیشن کے ساتھ بھی ان کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ انگریزی کا محاورہ Run with the hare and hunt with the hounds کو مولانا سے زیادہ کم ہی کسی نے سمجھا ہوگا۔ وہ مظلوم خرگوشوں کے ساتھی بھی رہے اورظالم شکاریوں کے ساتھ مل کر ہنستے مسکراتے شکار بھی خوب کھیلا۔ میڈیا کے ساتھ ان کے تعلقات خوشگوار رہے۔ کئی ممتاز کالم نگاروں، اینکر حضرات کے ساتھ ذاتی تعلق ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ زیادہ بگاڑ بھی پیدا نہیں کیا اور دوسری طرف نوازشریف صاحب کی قیادت میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ اتحاد کا بھی اہم حصہ رہے۔ افغان طالبان کے حامی رہے اور دوسری طرف مغربی سفارت کاروں کے ساتھ بھی رابطے ختم نہیں کیے۔ وکی لیکس کے طفیل مولانا کی امریکی سفیر سے ملاقات اور حسن طلب کے قصے شائع ہوچکے ہیں۔ مولانا ٹی ٹی پی کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ سے بھی بچے اور اپنے لوگوں، خاص کر نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف جانے سے بھی روکا۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا کی سیاست ہی نے دینی مدارس کے ایک بڑے حلقے کو مین سٹریم کے ساتھ جوڑے رکھا۔ شاید یہی نکتہ ان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے اشتراک کار کا بھی ہے۔ مولانا کو یہ کریڈٹ تو بہرحال جاتا ہے کہ قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک دوسرے کی جانوں کے دشمن مذہبی نوجوانوں کو ملی یکجہتی کونسل میں اکٹھا بٹھا دیا۔ شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث علما کو ایک ساتھ بٹھانا کسی کرشمے سے کم نہیں تھا۔ یہ کرشمہ ہم سب نے دیکھا اور اس سے فرقہ ورانہ جنگ میں بہت کمی آئی۔ یہ بھی حیران کن بات ہے کہ مولانا دینی مدارس کے تحفظ کے لیے ہمیشہ مضبوطی سے کھڑے ہوتے ہیں، وہ سیکولروں کو للکارتے اور لعن طن کرتے رہتے ہیں، مگر اس کے باوجود مدارس مخالف، دین بیزار سیکولر، لبرل، الٹر ا سیکولر حلقے ان کے مخالف نہیں۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر مولانا کو سیکولر حلقے کبھی ہدف نہیں بناتے۔ یعنی بیک وقت انھوں نے اسلامسٹوں، رائٹسٹوں اور سیکولروں کے ساتھ معاملات چلائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ سب ہماری سیاست کا حصہ ہے - قادر خان یوسف زئی

سیاست میں مولانا کو سب سے زیادہ نقصان عمران خان اور تحریک انصاف نے پہنچایا۔ مولانا کی سیاست کا ”واٹر لو“ یہی بنا۔ یاد رہے کہ” واٹر لو“کے میدان میں لیجنڈری فرانسیسی جرنیل نیپولین کو انگریزوں سے شکست ہوئی تھی۔ مولانا ہر ایک کے ساتھ سلیقے کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتے ہیں۔ عمران خان کے معاملے میں ایسا نہ کر پائے۔ اس کی وجہ شاید عمران خان کی سیمابی طبیعت اور شعلے برساتی زبان ہے۔ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے مولانا کو سب سے زیادہ سخت اور شدید زبانی حملوں کا نشانہ بنایا۔ مولانا نے بھی ترنت انہیں یہودی ایجنٹ کا خطاب دے ڈالا اور ابھی تک اس پر قائم ہیں۔ جولائی 2018ء کے الیکشن میں مولانا فضل الرحمن اپنی دونوں آبائی نشستوں سے الیکشن ہار گئے۔ ڈیرہ شہر سے انھیں علی امین گنڈاپور نے پچیس تیس ہزار ووٹوں سے ہرایا جبکہ ساتھ والی سیٹ سے تحریک انصاف کے یعقوب شیخ نے اس سے بھی زیادہ مارجن سے ہرایا۔ طویل عرصے بعد مولانا اسمبلیوں سے باہر ہوئے، وجہ تحریک انصاف ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کا غیظ و غضب دیدنی ہے۔ الیکشن کے اگلے ہی روز انہوں نے اپنے معمول سے ہٹ کر نہایت جذباتی انداز میں اسمبلیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ ہم یہ حکومت نہیں بننے دیں گے۔ یہ اور بات کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ مولانا کا موڈ مگر تب ہی سے خراب ہے۔ ایسا پہلی بار دیکھا گیا۔ مولانا ہمیشہ اپنی سیاست میں راستے کھلے رکھتے ہیں، کبھی پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں جاتے۔ اکیلے ہی میدان میں گھس کر خود کش حملہ کرنا تو ان کی سرشت ہی میں نہیں۔ حیرت اس پر ہے کہ اس بار وہ ایسے جارحانہ، غصیلے موڈ میں کیوں ہیں؟ زمینی حقائق اور معروضی حالات دیکھ کر بھی اپنے تجزیے پر وہ نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں۔ انہیں اندازہ ہوچکا ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ ان کے ساتھ چلنے اور لاک ڈاؤن جیسا جوا کھیلنے کو تیار نہیں۔ یہ دونوں جماعتیں حکومت کو ٹف ٹائم تو دینا چاہتی ہیں۔ سیاسی دباؤ بڑھانا ان کی مجبوری ہے کہ دونوں کی صف اول کی قیادت جیلوں میں جا چکی ہے اور مزید گرفتاریوں کا اندیشہ ہے۔ ان کی خواہش یہی ہے کہ ایسا پریشر ڈالا جائے کہ حکومت مزید رہنما گرفتار نہ کر ے اور جو اسیر ہیں، ان کی رہائی کاامکان بھی پیدا ہو۔ اس مقصد کے لیے مگر ن لیگ اور پیپلزپارٹی آل آؤٹ وار کے لیے ابھی تیار نہیں۔ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوںکو اچھی طرح معلوم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کے بغیر ایسی کوئی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ وہ نہیں چاہتے کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کو مزید طاقتور بنا دیا جائے اور ناکامی کی صورت میں حکومت زیادہ مضبوط اور بے خطر ہو کر سامنے آئے۔

مولانا اپنے تمام تر تجربے اور سیاسی دانش کے باوجود ایسا رسک لینے پر تیار ہیں۔ وہ یہ ہاری ہوئی جنگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ اس پر گفتگو جاری رہے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.