خصوصیاتِ نبی الرحمۃ ﷺ - مفتی محمد مبشر بدر

انسانیت جب بھٹک کر غلط راہ چل پڑی تو انہیں صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ و السلام بھیجے گئے۔ جنہوں نے انہیں سنبھالا اورانسانیت کی ڈوبتی ناؤ کو ہدایت کے کنارے تک لگایا۔ ہر نبی کو کچھ معجزات اور خصوصیات عطا کی گئیں، لیکن نبیء آخر الزمان حضرت محمد ﷺ میں اتنے کمالات و خصائص جمع کردیے گئے جو ان سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا ہوئے۔ جب کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی خصوصیات بھی آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام میں جمع کردی گئیں۔ چنانچہ شاعر نے کیا خوب کہا:
حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، ید بیضا داری - آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

یعنی یوسف علیہ السلام کو حسن عطا کیا گیا، عیسیٰ علیہ السلام کی پھونک میں اللہ نے وہ تاثیر رکھی کہ مٹی کا پرندہ حیات پا کر اڑنے لگتا، اور موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں روشنی و تابانی رکھ دی گئی جب وہ آستین سے ہاتھ باہر نکالتے تو نور کی کرنیں ارد گرد کے ماحول کو روشن کردیتیں۔ یہ تمام خوبیاں جو ان پیغمبروں کو عطا کی گئیں قدرت نے سب آپ میں سمو دی ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی خصوصیات بارے فرمایا: أعطيت خمساً لم يُعطهن أحد قبلي، نُصرت بالرعب مسيرة شهر، وجُعلت لي الأرض مسجداً وطهوراً، فأيما رجل أدركته الصلاة فليصل، وأُحلت ليَ الغنائم، ولم تحل لأحد قبلي، وأعطيت الشفاعة، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة) رواه البخاري و مسلم )
" مجھے پانچ خصوصیات سے نوازا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ میرا رعب ایک مہینے کی مسافت تک ڈال کر میری مدد کی گئی، زمین کو میرے لیے جائے نماز اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا، پس جس آدمی کو جہاں نماز کا وقت ملے پڑھ لے۔ اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا، جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی اور یہ کہ باقی انبیاء مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیے جاتے تھے اور مجھے تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔"

ایک دوسری حدیث جس کو امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بیان کیا جس میں دو خصوصیتوں کا اضافہ ہے۔ (أعطيت جوامع الكلم، وختم بي النبوة) یعنی مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے اور مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔ نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ خصوصیت جوامع الکلم ہے۔ آپ مختصر الفاظ میں وسیع مفہوم کو سما دیتے تھے جسے دریا کو کوزے میں بند کرنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ کو آخری نبی اور آپ کی امت کو آخری امت کا شرف دیا گیا۔ پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کا حکم آپ کی خصوصیت ہے۔مسند بزاز میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں مزیدخصوصیات کا ذکر ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: فضلت على الأنبياء بست: غفر لي ما تقدم من ذنبي وما تأخر، وجعلت أمتي خير الأمم، وأعطيت الكوثر، وإن صاحبكم لصاحب لواء الحمد يوم القيامة تحته آدم فمن دونه۔ "مجھے دیگر انبیاء علیہم السلام پر چھے خصوصیات کی بنا پر فضیلت عطا کی گئی: میری اگلی پچھلی ممکنہ خطائیں معاف کردی گئیں، میرے امت کو تمام امتوں میں بہترین بنایا گیا، مجھے حوض کوثر عطا کیا گیا، اورتمہارے نبی کو قیامت کے دن لواء الحمد نامی ایک جھنڈا عطا کیا جائے گا سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی تمام اولاد اس کے نیچے ہوں گے۔"

ایک دوسری حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أنا سيد ولد آدم يوم القيامة، وأول من ينشق عنه القبر، وأول شافع وأول مشفع ) رواه مسلم )
" میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی اور میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی۔"
آپ ایک عالمی نبی بنا کر بھیجے گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وما أرسلناك إلا كافة للناس (سـبأ:28) یعنی ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کو ہر سیاہ و سفید کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ جن و انس اور ملائک کے نبی ہیں۔ آپ کو قرآن جیسی کتاب عطا ہوئی جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔آپ کو سب سے بڑی امت عطا کی گئی قیامت کے دن آپ اپنی امت کی کثرت پر فخر فرمائیں گے۔آپ کو معراج کرائی گئی جس میں آپ کو ایسے عجائبات دکھائے گئے اور عالم ملکوت کی سیر کرائی گئی جو آپ سے قبل کسی نبی کو نہیں کرائی گئی۔ آپ قیامت کے دن تمام انسانیت کی شفاعت کرائیں گے جسے شفاعت عامہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب لوگوں کا حساب شروع نہیں ہورہا ہوگا اور محشر کی ہولناکی سے کلیجے منہ کو آئے ہوں گے۔

تمام انسانیت انبیاء کے پاس جاکر حساب شروع کرنے کی سفارش کی درخواست کرے گی تمام انبیاء انکار کردیں گے اور نبیء مکرم ﷺ درخواست قبول فرمائیں گے اور سفارش کریں گے۔
اللہ نے آپ کی مدد کے لیے بدر کے میدان میں آسمان سے فرشتے اتارے جنہوں نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا۔ آپ کی امت کو لیلۃ القدر جیسی عظیم الشان رات عطا کی گئی جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔ اللہ نے آپ کی زندگی کی قسم کھائی ہ، چنانچہ فرمایا: "لعمرك إنهم لفي سكرتهم يعمهون " (الحجر :72 ) یعنی " تیری عمر کی قسم وہ تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے۔" تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ نے ان کا نام لے کر خطاب فرمایا کسی کو یاآدم کہا تو کسی کو یا نوح، کسی کو یا ا براھیم کہا تو کسی کو یا موسیٰ، کسی کو یا لوط کہا تو کسی کو یا داؤد لیکن جب حضرت محمد ﷺ کی باری آئی تو یاایہا النبی، یا ایہا الرسول کہا، نام لے کر خطاب نہیں فرمایا، بلکہ ان کا نام لے کر پکارنے سے بھی منع فرما دیا:
"ولا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا " (النور:63 ) یعنی "(اے لوگو!) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا (معمولی) نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو۔"
اللہ نے آپ کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑا، آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا، آپ کی اتباع کے ساتھ اپنی محبت مشروط فرمادی۔

آپ کے لیے زمین لپیٹ دی گئی آپ نے مشارق و مغارب دیکھے۔ آپ کو ظاہراً " اُمی" بنا کر مبعوث کیا گیا لیکن سب خلقت سے زیادہ آپ کے قلب اطہر پر علوم کا فیضان جاری کیا گیا۔نہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور نہ ہی آپ کو شاعری آتی تھی۔ آپ کو سورہ بقرہ کی آخری آیات عطا کی گئیں جن کے بارے آقا علیہ السلام نے فرمایا: "و أوتيت هؤلاء الآيات من بين كنز تحت العرش ، من آخر سورة البقرة ، لم يعط أحد منه كان قبلي ، و لم يعط أحد منه كان بعدي " ( مسند ابن ابی شیبۃ) یعنی " مجھے سورہ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے کے خزانے کے درمیان سے عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو دی گئیں اور نہ ہی میرے بعد کسی کو عطا کی جائیں گی۔" آپ کو سب سے پہلے جنت میں داخل کیا جائے گا اور آپ کی امت سب امتوں سے پہلے جنت میں جائے گی۔ آپ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ غرض آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ آپ وہ ہستی ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی آپ پر درود بھیجتے ہیں۔ آپ کے اتنے زیادہ خصائص اور خصائل ہیں، جن کا احاطہ دشوار ہے۔ ان میں سے چند آپ کے سامنے پیش کیے ورنہ اس پر مستقل کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے ہمیں آپ ﷺ کی مبارک امت میں پیدا کیا اور ہمیں آپ کی طرف منسوب کیا۔ یہ عظیم اور بہت بڑی نعمت ہے، جس کاجتنا شکر کریں کم ہے۔