نیل آرٹ سے دل کے غلاف تک - فرح رضوان

ایدھی سینٹر، خواتین میت کے غسل کے سامان کے ایک طرف نیل پالش ریموور رکھا ہوا تھا؛ نگاہ جم کر رہ گئی مگر وہ وقت وہاں موجود معاون خواتین کے انٹرویو لے کر معلومات اکٹھی کرنے کا نہیں تھا۔ البتہ اس سوال کا ایک پڑھی لکھی، اور دین و دنیا کی سمجھ رکھنے والی، اور غسل میت کی بھی تجربہ کار خاتون سےجواب پرزور نفی میں ملا کہ نہیں نہیں ریموور سے بھی نیل پالش نہیں اترتی، کیونکہ ڈیڈ باڈی انتہائی ٹھنڈی پڑ چکی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کی تصدیق ہونے اور غسل کے لیے آنے تک وہ مردہ خاتون کے جسم کا حصہ ہی بن جاتی ہے۔

اب یہ کسی مسلک کا تو فرق نہیں نا کہ وضو یا غسل کب کب فرض ہوجاتا ہے؟ کب کب ٹوٹ جاتا ہے؟ اسی طرح جب مسلمان مرتا ہے نا تو بلاشبہ نہا دھو کر فورا مر جائے مگر مرنے سے اس کا غسل ٹوٹ جاتا ہے، یہ بات طے شدہ ہے۔

اچھا! نماز میں ہم کہاں جاتے ہیں؟ رب کے پاس۔ طواف میں ہم کہاں جاتے ہیں؟ رب کےپاس۔ اور مر کر کہاں لوٹتے ہیں؟ رب کے پاس۔ تو طہارت کا درجہ اور انتظام کیا ہونا چاہیے؟

مؤمنات کا امتیاز تو الگ ہی ہوتا ہے۔ البتہ اکثر مسلمان خواتین، جس طرح غیر مسلموں کے دیگر فیشن سے متاثر ہو کر اور نتیجے سے بے فکر رہ کر، ان کے تہوار بھی، اطوار بھی اپنا لیا کرتی ہیں، اسی طرح نیل آرٹ بھی ان میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اور شدید دھوکے کی بات مسلم نیل پالش ہے جس کے بارے میں مشہور کر دیا گیا ہے کہ یہ واٹر پروف "نہیں" ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ آٹا لگا رہ جائے ناخنوں پر، تب بھی وضو نہیں ہوتا اور وضو کے بغیر نماز نہیں، جبکہ نماز جنت کی کنجی اور وضو نماز کی چابی ہے، پاسورڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لباس کی کہانی ؟ - فائزہ حقی

جس طرح گزشتہ تحریر میں بات ہوئی تھی نا کہ ہمارے رویے بھی ہر دم بڑھتے ناخنوں ہی کی طرح ہوتے ہیں، اور جیسے ناخن کاٹنا ضروری ہیں؛ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، کچھ عادات کی بھی ہم باربار کاٹ چھانٹ اور صفائی سے ٹرم کرکے اپنا کردار سنوار سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح مزید یہ کام کرنا ہے کہ نیل پالش، پینٹ، وارنش یا سوکھ کر چپک جانے والے آٹے جیسے طہارت پروف غلاف سے ہر صورت بچنا ہے، کیونکہ اس طرح پانی جلد کو نہیں لگے گا، اور ہم جانتے ہیں کہ وضو کے دوران کوئی حصہ خشک رہ جائے تو گویا وہ آگ میں ہے۔

بالکل اسی طرح سے دلوں پر بھی تو غلاف چڑھے ہوتے ہیں، کچھ نامناسب رویوں کے، تو ان دلوں میں اللہ کا پیغام پہنچ کر جذب ہو ہی نہیں پاتا، روح کا غسل تو ہو ہی نہیں پاتا، تو خواہ وہ کتنا ہی قرآن و حدیث یا فقہ پڑھیں، مگران کے عمل کا معاملہ یوں ہوتا ہے کہ سلامتی سمیٹ نہیں پاتے، خیر بانٹ نہیں پاتے … (الھم لا تجعلنا منھم )

[وہ کہتےہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہیں، (ایسا نہیں) بلکہ ان کے انکار کے باعث اللہ نے ان پر لعنت کر دی ہے، سو وہ بہت ہی کم ایمان رکھتے ہیں، (88)البقرہ] - ایک اور جگہ سورہ النساء میں ہے [اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ در حقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے اِن کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ (155) ]

جی ہاں! بات تو یہود کے کردار کی ہو رہی ہے مگرسمجھایا تو مسلمانوں کو ہی جارہا ہے نا کہ سب کچھ اچھے سے جان کر بھی ضروری نیکیوں سے انکار اور گناہوں پر اصرار کی عادت، فرسودہ رسوم اور غیر مذہبی روایات پر ثبات و دوام یا پھر ایک اور خطرناک بات کہ شعائر اللہ کا مذاق اڑانا، نبیوں کا یا غیبی علوم کا مذاق اڑانا یا ایسوں کی صحبت میں بیٹھنا۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کو چھان پھٹک لیجئیے- رمانہ عمر ریاض

کیوں اورکب بیٹھا جاتا ہے ان کی صحبت میں؟ یا تو "حقوق العباد" یا "گھر ہی گھر میں" یا "عورتوں ہی عورتوں میں" ناچ گانوں کی محفلوں میں دھڑلے سے، جانتے بوجھتے ستر، اور حیا کا انکار اوراسلامی حدود سے مذاق بیک وقت ہوتا ہے، یا پھر روٹین میں ملنے والوں کے کامن انٹریسٹ کی باتیں کرنے، وہ شوز، کامیڈی، یا فیملی ڈرامے جن میں کثرت سے مذاق جو کہ فحش بھی ہوتے ہیں، اور اللہ کےاحکام کا کھلا یا چھپا مذاق اڑایا جاتا ہے، کم از کم ایسے موقع پر فوری طور پر اس جگہ سے ہٹ جانے ہی میں عافیت ہے، کیونکہ قرآن میں وعید بہت سخت ہے۔ [کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں اُن کے پاس جاتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔ (139)
اللہ اِس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں، اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انھی کی طرح ہو، یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے۔ (140)النساء]

زندہ دلی کےنام پر دلوں میں موجود ایمان اس گھٹن زدہ ماحول میں مردہ ہو جاتا ہے۔ سوشل اینیمل زندہ رہتا ہے مسلمان مرجاتا ہے۔

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.