ریاست مدینہ، ہم اور کافر ملک - محمود فیاض

سیرت النبیﷺ میں ایک واقعہ ہے جو میں اکثر لکھتا ہوں۔ کہ ایک گنہگار حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔ اس سے کوئی گناہ ہو گیا ہے۔ اس کو سزا ہونا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اس گناہ کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ گنہگار نے کہا کہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا، پھر حکم ہوا کہ دو ماہ کے روزے رکھو، اس پر بھی اس نے معذوری ظاہر کی تو کہا کہ چلو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، اس پر اس نے عرض کی کہ میں اس کی ہمت بھی نہیں رکھتا۔ کچھ دیر بعد وہاں کھجوروں کا تھیلا آیا تو حضورﷺ نے اس کو بلایا اور کہا کہ جاؤ اس کو غریبوں میں بانٹ دو۔ اس نے کہا کہ "آپ کو نبوت عطا کرنے والے رب کی قسم، ان دو سیاہ پتھروں والی وادیوں میں (اس پورے علاقے میں) ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے"۔ آپ ہنسنے لگے، اتنا ہنسے کہ آپ کے نوکیلے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ نے فرمایا: پھر تم ہی لے لو۔

یہ واقعہ سنا کر میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ایک گنہگار پر دین اسلام اور رب کائنات کی رحمت بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھتی ہے کہ بجائے سزا کے اس کو کھجوروں کا تحفہ مل جاتا ہے، کیونکہ گناہ کا پہلا کفارہ یا تدارک اس پر پچھتاوا ہی ہے۔ اپنی غلطی کا احساس، توبہ اور اپنے رب کی بندگی میں حاضر ہو جانا۔ جب دین فطرت کا وہ تقاضا پورا ہو جاتا ہے تو رب رحمت اپنے بندوں سے ربوبیت والا معاملہ ہی کرتا ہے۔

برسوں گذر گئے یہ واقعہ سناتے، اور برسوں گذر گئے ریاست مدینہ کا خواب دیکھتے کہ کبھی ہم مسلمانوں کے حالات ایسے بھی ہوں گے کہ ریاست مدینہ کا عکس چھپن عرب ممالک، یا دیگر اسلامی ملکوں میں کہیں تو جھلکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   رحمۃ للعالمین کانفرنس میں شرکت - محمد ریاض علیمی

کفار کے ملک اگرچہ مدینہ کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ مگر حدیثوں اور سیرت النبی ﷺ کی جھلک جب وہاں پاتا ہوں تو سوچتا ہوں، کیا کلمہ پڑھنا مسلمانی ہے؟

ایک امریکی جج کا پروگرام Caught in Providence ٹی وی پر آتا ہے۔ اس کی ایک قسط میں یہ حال تھا۔
ایک بوڑھا شخص آتا ہے۔ اس پر غلط جگہ پارکنگ کرنے کا الزام ہے۔ اس کو تیس ڈالر جرمانہ ہوا تھا، جس میں سے وہ دس ڈالر دے چکا ہے۔ باقی کی رقم اس کے پاس نہیں ہے۔ وہ جج کو بتاتا ہے کہ وہ بے گھر ہے اور آج کل اپنی گاڑی ہی میں سوتا ہے۔ اس پر جج نہ صرف اس کا بقایا جرمانہ معاف کر دیتا ہے، بلکہ اپنے پاس آئے ہوئے خیرات کے لفافوں میں سے ایک لفافے سے پچاس ڈالر نکال کر اس کو دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان پیسوں سے اپنے لیے کھانا خرید لینا۔ یعنی ایک جرم کی سزا کے بدلے پچاس ڈالر کی امداد، کیونکہ اس نے اپنا فرض ادا کیا اور چونکہ وہ ایک غریب اور بے آسرا شخص تھا۔

ہم کلمہ گو ملک ہیں۔ کلمے کے نام پر اس ملک کو حاصل کیا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ کا نعرہ آج بھی گونج جاتا ہے۔ ہم نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی کہنا شروع کر دیا۔ ہمارا آئین بھی اسلام کی سچائی اور رب تعالیٰ کی حاکمیت کے بیان سے شروع ہوتا ہے۔

مگر ہمارا نظام انصاف؟ ہماری عدالتیں؟ ہماری پولیس؟ ہماری جیلیں؟ آٹھ سال کے مجرم بچوں سے لے کر اسی سالہ مظلوم بوڑھے ان جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ چند سو کے جرمانے ادا نہ کرنے پر لوگ برسوں سے جیلوں میں پڑے ہیں۔ مرنے کے دو سال بعد ہمارا جج بتاتا ہے کہ قیدی بیگناہ تھا۔ حوالات میں مقدمہ لگنے کی آس میں برسوں گذر جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہاں میں جذباتی ہوں - نیلم اسلم

کیا میری زندگی میں وہ دن آئے گا کہ میں ریاست مدینہ کی کوئی ایک نشانی ہمارے ملک میں دیکھ سکوں؟ کیا ضروری ہے کہ اس کے لیے مجھے کافروں کے ملک میں جا کر رہنا پڑے، یا نیٹ پر میں ان کے ملک کی کہانیاں دیکھتا رہوں ؟

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.