اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

سکوت کا لمحہ آخر ٹوٹ ہی گیا اور بہارت سے ہی کشمیر کے حق میں کسی دینی جماعت کی جانب سے آواز سننے کو ملی۔ میں نے ہر ایک بہارتی دینی جماعت کو جب مودی کے آگے پسپا ہوتے دیکھا، حالات سے سمجھوتا کرتے دیکھا، اور کمزوری کا ثبوت فراہم کرتے دیکھا تو شدید مایوسی سی ہورہی تھی کہ ایمان اس قدر کمزور کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا اہل ایمان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو بہارت کے اس ظالمانہ اقدام پر آواز اٹھائے، اس اقدام کی مخالفت کرے۔

تب ہی جماعت اسلامی ہند کے امیر سعادت اللہ حسینی کی آواز کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اٹھتی ہے جس سے دل خوشی سے سرشار ہوتا ہے کہ چلو اہل ایمان میں سے کسی نے تو ظالم کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ دوسروں کی طرح مصلحت کا شکار نہیں ہوا، اس نے دوسروں کی طرح حالات سے سمجھوتا نہیں کیا۔
سعادت اللہ حسینی نے مودی حکومت کے مقبوضہ وادی کے حوالے سے تمام اقدامات کو خلاف آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہا۔ سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے وہاں پر جو ظلم و ستم کا بازار گرم کیا گیا ہے اس کے انتہائی برے اثرات سامنے آئیں گے۔ کشمیریوں سے کسی بھی قسم کی رائے کے بغیر یک طرفہ فیصلہ بہت گہرے اور تشویشناک اثرات مرتب کرے گا۔ گو کہ سعادت اللہ حسینی نے مودی کی موجودہ کشمیر پالیسی کو یکسر مسترد کردیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ بہارتی حکومت کو مستقبل کے حوالے سے بھی آگاہ کردیا۔ جب مقبوضہ کے مسلمان ہر جانب سے مایوسی میں گھر چکے تھے، کہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں نے بہارتی اقدام کی حمایت کردی اور مقبوضہ وادی کے مسلمانوں کو بہارتی مظالم کی بھینٹ چڑھنے دیا ۔ جس وجہ سے تمام مسلم امہ کے دل دکھے تھے، مگر اس ہی موقعہ پر جرات کا استعارہ بن کر اپنے بھائیوں کے حق میں آواز بلند کرکے اعلی مثال قائم کی جماعت اسلامی ہند نے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے جرأت سے کشمیر کا مقدمہ پیش کیا - میر افسرامان

دراصل یہ وقت تھا کشمیریوں کو دلاسے کی ضرورت تھی، وہ کہیں تھک کے چور نہ ہوجاتے ۔ وہ اکیلے لڑتے لڑتے نٖڈھال نہ ہوجاتے تب اس موقع پر کمال تدبر، اور کمال حکمت سے ان کے حق میں بہارت کے اندر سے ہی آواز بلند کرکے سعادت اللہ حسینی نے کشمیریوں کو تھپکی دی، انہیں دلاسہ دیا، ان کی ڈھارس بندھائی، ان کے زخموں پر مرہم رکھی تاکہ وہ اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھیں۔ اور انہیں اس بات کا پیغام دیا کہ کشمیریو نڈھال مت ہوجانا، جدوجہد آزادی جاری رکھنا، ہم تمہاری پشت پر کھڑے ہیں ۔ خود کو تنہا مت سمجھ لینا۔

موجودہ حالات میں جب مسلمانوں پر ارض ہند تنگ کردی گئی ہے، بہارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے بعد مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کسی میں اتنی جرات نہیں ہورہی چاہے وہ مسلمان ہے یا انسانی حقوق کی تنظیم کا نمائندہ کہ مودی کے اس فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائے۔ تب اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے امیر کا یہ انتہائی واضح اور دوٹوک موقف بلاشبہ ایک انتہائی دلیرانہ اور مومنانہ اقدام ہے۔ اس خدا کے بندے نے امام حسین(رض) کی تعلیمات کو اور اپنے قائد کی روش کو قائم رکھا کی کبھی بھی یزید وقت سے سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔

سعادت اللہ حسینی کا یہ موقف امت مسلمہ اور بہارت میں موجود 30 کروڑ مسلمانوں کا موقف ہی گردانا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ہی تمام امت کے دل کی آواز ہے اور اس آواز کی ترجمانی کا حق کوئی انتہائی دلیر شخص ہی ادا کرسکتا تھا جسے سعادت اللہ حسینی نے ادا کردیا۔ کیونکہ باقی تو کم و بیش تمام مسلمان دینی جماعتوں کے رہنما تو مودی کی حمایت میں بیان جاری کرچکے تھے۔

بے شک یہ ایک بڑا جہاد ہے ظالم اور جابر حکمران کے آگے حق بات کہنا، جسے جماعت اسلامی ہند نے ادا کیا۔ اب اللہ پاک ہند کے اور کشمیر کے مسلمانوں کیلئے آسانیاں پیدا کردیں اور ان کی حفاظت فرمائے۔(آمین)