ایک کشمیری والد کا سکول میں داخلہ کے منتظر ننھے بیٹے کے نام خط - ابو لقمان

میں ملت اسلامیہ کشمیر کی محصور سرزمین کا باشندہ ہوں۔ ہماری شناخت داؤ پر لگی ہوئی ہے، اس لیے میرا کوئی نام نہیں ہے۔ اور آپ مجھے کسی بھی نام سے پکار سکتے ہیں۔ میری ساری قوم ایک کرب سے گزر رہی ہے، اور بدقسمتی سے وہ ساری امت خوابیدہ ہے جس کے ساتھ ہمارا تعلق ہے، جس کے ساتھ ہماری نسبت ہے۔ میری قوم کی مائیں اور بیٹیاں دہائیاں دے رہی ہیں اور ان کی چیخ و پکار صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔ میری قوم کا ہر ایک فرد انفرادی کرب سے گزر رہا ہے، اور اجتماعی طور پر شدید اذیتوں سے گزرنا پچھلی پون صدی سے ہمارا مقدر قرار پایا ہے۔

میری یہ تحریر اگرچہ ایک ذاتی واردات ہے، لیکن اپنے اردگرد جس کشمیری پر بھی میری نظر پڑتی ہے، وہ ایسے ہی حالات سے نبرد آزما ہے۔ یہ جذبات جن کو میں نے الفاظ دینے کی کوشش کی ہے، دراصل ایک ایسی حقیقت ہے جس نے ہماری قوم کی زندگی کو اجیرن کر کے رکھ دیا ہے۔

اس سال فروری کے اخیر میں مجھے اپنے وطن سے دور ایک مسلمان ملک میں کچھ دنوں کے لیے ایک کانفرنس میں شامل ہونا تھا۔ پلوامہ حملے کے بعد ریاست کی صورتحال ابتر ہونی شروع ہوئی اور گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔گرفتاری سے بچنے کے لیے میرا چند روزہ سفر کئی مہینوں کے قیام پر منتج ہوا۔ دیار غیر میں مہاجرت کی زندگی، اور مشکلات کا سامنا تھا۔ اپنوں اور غیروں کے روّیوں سے بہت مایوس تھا۔ ابتدائی ایام میں بعض اوقات ایسے بھی آئے کہ دو دو دن تک کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ذہنی طور پر ایک مسلسل بےچینی کی حالت سے گزرنا پڑ رہا تھا، اور ایک عجیب سی حالت مجھ پر طاری تھی۔ اسی عرصے کے دوران میرے بڑے بیٹے کو اسکول میں داخلہ لینا تھا۔ مارچ کے مہینے میں جس دن میرے گھر والوں نے اس کو اسکول میں داخل کروایا، اس دن بھی میرا دل عجیب سی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ اس تحریر کا پہلا حصہ اسی دن میں نے لکھا۔ یہ تحریر میرے بیٹے کے نام ہے اور میری قوم کی نئی نسل کے نام ہے۔

اگست میں بھارت کی مرکزی سرکار نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ ہی ریاست کو ایک بدترین لاک ڈاؤن کے ذریعے محبوس کر دیا۔ اس لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بے شمار کشمیریوں کا اپنے پیاروں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا۔ ریاست کے اندر اور باہر رہنے والے لاکھوں لوگ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس زندگی کا ہر ہر لمحہ سزا کی مانند ہے۔ ہمارا ہرایک لمحہ اذیتوں سے بھرپور ہے۔ ہم ایک مسلسل اذیت کو جھیل رہے ہیں اور ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ درد و کرب کی علامت بن گیا ہے۔ ریاست کے اندر زندگی گزارنے والے اپنے پیاروں کی سلامتی کو لے کر کے ہر روز ہم ہزار ہزار بار موت جیسا کرب سہنے پر مجبور ہیں۔ اس تحریر کا دوسرا حصہ اسی درد و کرب کا عکاس ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اب کوئی بہتر فیصلہ کرے تاکہ اس درد و کرب کی زندگی سے ہمیں نجات حاصل ہو۔

(۱)
میرے پیارے بیٹے!
میری خواہش یہ تھی کہ آپ کے اسکول کا پہلا دن، میں سارے کاموں سے فارغ ہوکر آپ کے ساتھ گزاروں۔ میری یہ بھی خواہش تھی کہ آپ کی اُن ننھی سی خواہشات کو پورا کروں جو شرط تھیں کہ ’’اسکول جانے کی صورت میں یہ سب ملے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتارپوربارڈر،ہم اپنی روایتوں کے امین ہیں! محمدعنصرعثمانی

میں یہ سوچ کر (گھرسے) نکلا تھا کہ واپسی پر خود اپنے ہاتھوں کسی بہترین اسکول میں آپ کا اندراج کراؤں۔ لیکن انسان کتنا بےخبر ہوتا ہے، ہر آنے والے دن سے اور اس میں رونما ہونے والے واقعات سے۔

(میری) ان ساری خواہشات کا خون اُس دستِ جفاکیش کے ہاتھ ہے جس نے روحِ حریتِ وطن کو پامال کیا ہے۔ وہ سارے اسباق جو آپ کو پڑھنے ہیں، ان میں سے پہلا سبق یہی ہے کہ دست جفا کیش کی شکست ہمارے ہاتھوں مقدر ہے (ان شاء اللہ)۔

میں بہت دور ہوں اور نہ جانے کب ملاقات ہو، اور شاید کبھی ملاقات ہی نہ ہو، نہ جانے وہ سارے اسباق پڑھانے کا (مجھے) موقع ملے نہ ملے، میں بس ’فیضانِ نظر‘ کی امید میں ہوں کہ مکتب کی کرامت سے بڑا تو ’نظر کا فیض‘ ہی ہے۔ میں آپ اور آپ کی ہم عصر نسل کے حق میں دست بہ دعا ہوں کہ ظلمت کی اس تاریک شب میں مزید آپ کو زندگی نہ گزارنی پڑے۔

یاد رکھو!
ہم سب اپنی ملت کا سرمایہ ہیں، اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود، ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ بچے، والدین، خاندان، اہل و عیال، یہ سب جو فرقتیں برداشت کررہے ہیں، یہ حق کا آوازہ بلند کرنے کی پاداش میں ہے۔ یہ صبر ہمارا توشہ ہے۔ ہم ملت کا سرمایہ ہیں اور اس حال میں خرچ ہورہے ہیںکہ ہمارا یہ خرچ ہوجانا ہی ہماری آخرت میں نجات کا باعث ہوگا، یہی صبر ہماری آخرت کا توشہ ہے۔

یہ ساری مشکلات، تکلیف، بھوک، پیاس، تھکن، دوری، اسیری، یہ سب ہمارا رتبہ ہے، یہ سوا سوا سی مشکلیں، یہ ایک دن ہمارا انعام ہوگا، ہمارا سب سے بڑا انعام۔

یہ پہلا سبق ہے، (تمہاری نسل کااور تمہارا سبق)، زندگی کی درسگاہ کا پہلا دن اور پہلا سبق، یہ ازبر ہوتو ساری مشکلیں آسان ہیں، زندگی آسان ہے اور زندگی بعد موت بھی آسان ہے۔

بہت ساری محبتوں کے ساتھ،
تمہارے ننھے وجود کو اپنے ہاتھوں چھونے کی خواہش کے ساتھ،
تمہاری معصوم سے حرکتوں اور شرارتوں کو قریب سے دیکھنے کی کسک کے ساتھ،
تمہارے نام، اور تمہاری ساری نسل کے نام

(تمہارا ابو صاحب، کہ اسی نام سے تم مجھے پکارتے ہو)

(۲)
4 اگست 2019ء کی شام ریاست میں ابلاغ کے سارے ذرائع پر پابندی لگائی گئی۔ پچاس سے زیادہ دن گزرنے کے باوجود یہ پابندی قائم ہے۔ گویا سارا وطن محصور ہے اور برقی پیغامات سے جو رابطہ بحال تھا وہ بھی منقطع ہوگیا۔

میں اپنے گھر، خاندان، اور وطن سے بہت دور ہوں۔ میں اپنی خواہش سے نہیں، بلکہ زعفرانی استعمار کے ہاتھوں عائد ہونے والی پابندیوں کے نتیجے میں ’جبری ہجرت‘ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔

اپنے خاندان کے ساتھ میرا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ میں ہر صبح و شام اپنے والدین کی آواز سننے سے قاصر ہوں، میں اپنی ماں کی دعائیں سننے کے لئے ترس گیا ہوں جو وہ مجھے فون پر دیتی تھی۔ میں اپنی ماں کی شکل دیکھنے کو ترس گیا ہوں۔ سب سے زیادہ جو چیز مجھے ستا رہی ہے اور میری راتوں کی نیند اُڑا رہی ہے وہ میری ماں کے بھرائے ہوئے الفاظ ہیں، جو آخری مرتبہ اس نے مجھ سے کہے۔ میری آنکھوں میں اپنی ماں کی وہ صورت بار بار آجاتی ہے ، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس کا گلا رندھا ہوا تھا ، اور اس نے مجھ سے کہا،’’ مجھے تمہاری بہت یاد آتی ہے۔‘‘ میں نے تسلی کے دو بول بولے کہ میری فکر نا کریں ، میں یہاں خیریت سے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر : بھارت اب پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے- میر افسر امان

مجھے اپنے دونوں بچوں کی یاد ستاتی ہے۔ میرا ساڑھے چار سال کا بڑا بیٹا اور اڑھائی سال کا چھوٹا بیٹامجھ سے دور ہیں، بہت دور۔ میں ان کی ننھی شرارتوں، معصوم خواہشوں اور چھوٹے چھوٹے خوبصورت لفظوں اور جملوں کے لئے ترس گیا ہوں۔ میری آنکھیں ان کو دیکھنے کے لئے ترس گئی ہیں۔ان کو چھونے کی اور گود میں لے کر ان کو پیار کرنے کی میری خواہش ہر دن شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے۔ میرے صبر کا پیمانہ جیسے لبریز ہوچکا ہے۔میری شفقت مجھے ہر وقت بے چین کئے رہتی ہے۔

میرے دل پر اُس وقت ایک چرکہ سا لگا جب میں فون اور دوسرے ذرائع بند ہونے سے قبل ایک دن اپنی شریک حیات سے بات کررہا تھا تو اس نے کہا کہ چند روز قبل میں نے مغرب نماز ختم کی تو ہمارا بڑا بیٹا میرے پاس آیا اور شکایت بھرے لہجے میں مجھ سے کہنے لگا،’’امی، میں نے اللہ میاں سے کہا تھا کہ میرے ابو صاحب کو واپس بھیج دیں، پتا نہیں ابو صاحب کیوں نہیں آئے؟‘‘

دن اور رات میں کئی کئی بار میری آنکھوں کے کونے خود بخود بھیگ جاتے ہیں جب مجھے اپنے چھوٹے بیٹے کا توتلی زبان میں ایک مکمل جملہ یاد آجاتا ہے،’’ ابو آپ مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گئے؟‘‘

میرے پاس میری شریک حیات کے خاموش آنسوؤں کے جواب میں کوئی دلاسہ نہیں ہے، کوئی لفظ اور جملہ نہیں ہے، کوئی تسلی نہیں ہے۔ اور اب تو اس کے ساتھ رابطے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے۔

میری قوم کا المیہ کتنا بڑا ہے؟
نہ جانے کتنی مائیں رات کی تاریکی میں اپنی اُن اولادوں کو پکار رہی ہوں گی جو ہندوستان کی نامعلوم جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ نہ جانے کتنی مائیں اپنے بیٹوں کے نام دہائی دے کر اُن سے کہہ رہی ہونگی کہ ’مجھے تمہاری یاد آرہی ہے‘۔

نہ جانے کتنے معصوم بچے اپنے باپ کی صورت دیکھنے کو ترس گئے ہونگے اور کتنے باپ اپنے معصوموں کی آواز سننے کے لئے تڑپ رہے ہوں گے۔

نہ جانے کتنے رشتے دوریوں کے اس اتھاہ سمندر میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہونگے، کتنی روحیں تڑپ رہی ہونگی۔ کتنے آنسو خاموشیوں کے نذر ہو رہے ہونگے۔ کتنی شکایتیں لبوں پر آ آکر دم توڑ جاتی ہوں گی۔

یہ میری قوم کا المیہ ہے۔
یہ انسانیت کا المیہ ہے۔
یہ تاریخ کا جبر ہے، ایک ایسا جبر جس کے نیچے انسانیت سسک سسک کر مررہی ہے اور دم توڑ رہی ہے۔

میری قوم کا یہ المیہ ملت اسلامیہ کی خفتہ ضمیری پر ماتم کناں ہے۔ اس ملت کی قیادت پر تف ہے کہ جبر کو دیکھ کر بھی جس کے لب سلے ہوئے ہیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

ہمارا کیا ہے؟ ہم تو درد و کرب کی اس طویل رات میں اپنے غموں کا شمار کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن سرِ محشر تو ہم اِس قیادت کا گریبان پکڑ کر کھڑے ہوجائیں گے اور اپنی بے کسی اور بے بسی کی آہوں کے ایک ایک درد کا صلہ وصول کریں گے۔