ہندومت کی وسعت قلبی کے پروپیگنڈے کی حقیقت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہندو مت کے متعلق عام طور پر مشہور کیا گیا ہے کہ اس کی کوئی متعین تعریف نہیں ہے، بس جو خود کو ہندو کہے وہ ہندو ہے، اس کے کوئی متعین صحیفے نہیں، جو مرضی صحیفے مانو یا نہ مانو، اس کے کوئی متعین عقائد نہیں، چاہو تو ایک خدا مانو، یا تینتیس کروڑ مانو یا سرے سے نہ مانو، وغیرہ وغیرہ۔

نامور کانگرسی سیاست دان ششی تھرورنے، جس کی انگریزوں کے استحصالی دور کے متعلق کتابیں کافی مشہور ہیں، کچھ عرصہ قبل کتاب لکھی: Why I am A Hindu۔ اس میں بھی اس نے اس قسم کے دعوے کیے اور اسی کو اپنے ہندو ہونے کا بنیادی سبب گردانا کہ یہ "لبرل" ہے، کسی پر عقیدہ مسلط نہیں کرتا، اور ہر کسی کو اپنا اپنا عقیدہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے اور بنیادی جوہری اختلاف کے باوجود ان سب کو ہندو مانتا ہے جو خود کو ہندو کہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ اسی وجہ سے ہندومت نے ہندوستان میں تمام مذاہب کو، سواے دو مذاہب کے، خود میں سمو لیا۔ یہ دو مذاہب جن کو ہندومت سمو نہیں سکا وہ اسلام اور مسیحیت ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر اسلام اور مسیحیت کو ہندو مت کیوں ہڑپ نہیں کرسکا؟ نیز اگر کسی بھی قسم کا عقیدہ رکھنے والا ہندو کہلا سکتا ہے تو پھر مسلمان یا مسیحی کو ہندو کیوں نہیں کہا جاسکتا؟ اگر حق کی تلاش کے سبھی راستے یکساں طور پر درست/غلط/لغو ہیں تو پھر یہی کچھ اسلام اور مسیحیت کے متعلق کیوں نہیں مانا جاسکتا؟

ششی تھرور اس طرح کے سوالات سے کنی کترا کر نکل جاتا ہے کیونکہ ان پر بحث سے یہ بات کھل کر سامنے آسکتی تھی کہ "جو خود کو ہندو کہے وہ ہندو ہے" پورا سچ نہیں ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ "خود کو ہندو کہلوانے کےلیے کچھ کم از کم عقیدہ اور تصور ہے جسے مانے بغیر کوئی شخص ہندو نہیں ہوسکتا اور اسی طرح ہندو ہونے کےلیے کچھ عقیدوں اور تصورات کا رد لازمی ہے کیونکہ ان کے رد کے بغیر کوئی شخص ہندو نہیں ہوسکتا!" تاہم یہ پورا سچ بیان کیا جائے تو ہندو مت کا "لبرل" بت پاش پاش ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے ایسا کیوں کیا؟ عمر ڈابا

یہاں یہودیت کا بھی ذکر کیا جاسکتا تھا لیکن چونکہ یہودیت میں بنی اسرائیل سے باہر کسی کو یہودی بنانے کی روایت موجود نہیں ہے، اس لیے اس کا عدم ذکر قابلِ فہم ہے اور یہیں سے اسلام اور مسیحیت کی دور اور مشترک خصوصیات بھی سامنے آجاتی ہے، جن کا ذکر ششی تھرور نے کیا بھی ہے۔ وہ یہ کہ یہ دونوں مذاہب اس کے دعویدار ہیں کہ حق ہمارے پاس ہی ہے (ان الدین عند اللہ الاسلام۔۔۔ و من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔۔۔ و آمنوا بما نزل علی محمد ھو الحق من ربھم) اور یہ کہ ہم یہ حق دوسروں تک پہنچائیں گے تاکہ وہ بھی یہ حق قبول کرلیں (قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا)۔
ان دو خصوصیات پر غور کریں تو اوپر مذکورہ سوالات کے جواب کا راستہ کھل سکتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.