اپنی اپنی قسمت - ابو شہیر

اپنی اپنی قسمت ہے۔ عزیزان من! آپ میرے اپنے ہیں۔ میرے عزیز ہیں۔ رشتہ دار ہیں۔ قرابت دار ہیں۔ دوست ہیں۔ کولیگ ہیں۔ مجھے آپ سے محبت ہے۔ انس ہے۔ لگاؤ ہے۔ مجھے اس بات کا دکھ ہے آپ اس وقت بھی عمران خان کی مخالفت میں مصروف ہیں۔ اب بھی ان ہی کی صفوں میں نظر آ رہے ہیں جنھیں نہ ملک کا احساس رہا نہ ملت کا۔ جن کی لوٹ مار سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آ گیا۔ جنہوں نے ہمیں دنیا میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا۔ جن کی وجہ سے ہر جگہ ہر فورم پر بے عزتی و بے توقیری ہی ملک و قوم کے حصے میں آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اپنی قسمت ہے۔ ن لیگ کا حشر سب کے سامنے ہے۔ پیپلز پارٹی کی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ الطاف پارٹی تو پارہ پارہ کرچی کرچی بھی ہو چکی۔ کس کس کو کتنی بار عہدہ اقتدار ملا؟ کس کس نے کہاں کہاں حسب توفیق بے وفائی کی؟ سب کا سب تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو چکا۔

لیکن عزیزان من!
آپ ابھی تک انھی وطن دشمنوں کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ کل جب ساری دنیا عمران خان کی تقریر پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہی تھی، آپ آئیں بائیں شائیں کر رہے تھے۔ کل جب پاکستان کا وزیر اعظم اقوام عالم کے سب سے بڑے فورم پر ملک و ملت کا مقدمہ لڑ رہا تھا، آپ کے دوست باہر کھڑے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور پاکستان کی شہہ رگ کاٹنے کی مذموم کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ مادر وطن کے خلاف سخن طرازی پر دشمن سے داد وصول کر رہے تھے۔ جون ایلیا نے کہا تھا


ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا

کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی اپنی قسمت ہے۔ کوئی داڑھی منڈا دین کا علم بلند کر رہا، عالم کفر کو اسلام کی پہچان کرا رہا۔ اور کوئی جبہ قبہ دستار اور سنت نبوی ﷺ چہرے پہ سجا کر بھی محروم ہی رہا۔ اپنی اپنی قسمت ہے۔ جسے نشئی کہا جاتا رہا، کل وہ خود ایک نشہ بن گیا۔ پورے عالم اسلام کے لیے ایک نشہ! اسے کبھی زانی خان کہا گیا، کبھی یہودی ایجنٹ۔ کبھی اس پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے الزامات لگے تو کبھی کشمیر کا سودا کرنے کے۔ کبھی اس کے سابقہ یہودی سسرال کے حوالے سے اس کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا گیا تو کبھی اس کا تعلق قادیانیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کل کی تقریر کے بعد منظر ہی تبدیل ہو گیا۔ کل اس نے اس خوبصورتی اور جذبہ سے اقوام عالم کے سامنے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا مقدمہ پیش کیا کہ پروین شاکر کا شعر یاد آگیا:


کیا گواہی آئی ہے صاحب! اپنی اپنی قسمت ہے۔

اقبال کا ایک ضرب المثل شعر ہے


کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی اپنی قسمت ہے۔ کل جس وقت وہ عالمی عدالت میں ناموس رسالت ﷺ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے محمد عربی ﷺ سے اپنی وفا کا اظہار کر رہا تھا تو چشم عالم نے دیکھا کہ لوح و قلم اس کے حوالے ہو چکے تھے۔ مہاتیر محمد اور طیب اردگان عالمی لیڈر مانے جاتے ہیں۔ کل ایک تقریر نے اسے تیسری دنیا کے ایک چھوٹے سے ملک کے وزیراعظم سے اٹھا کر عالمی رہنماؤں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ تقریر ایسی تھی کہ اردگان نے عمران خان کا ماتھا چوما۔ اس ایک تقریر سے اس کا قد ایسا بلند ہوا کہ دستار والوں نے منہ اٹھا کر دیکھا تو دستار سر سے پیچھے گر پڑی۔ ہذیانی کیفیت میں اب وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ اپنے عریاں بدن پر پڑے باقی ماندہ چیتھڑے نوچنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ جون ایلیا پھر یاد آ گیا۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی اپنی قسمت ہے۔ آج بڑے بڑے علماء اس کے حق میں رطب اللسان ہیں۔ مولانا طارق جمیل تو پہلے ہی ساتھ تھے جس پر ان بے چارے کو بھی مطعون کیا گیا۔ اسلام امت مسلمہ اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ناموس کے اس مقدمے کی شاندار پیروی کے بعد مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان ایسی قد آور مذہبی شخصیات نے اس کی مدح سرائی میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ مولانا طارق مسعود ان لوگوں کو جو کہہ رہے ہیں کہ فقط تقریر سے کیا ہوتا ہے، جواب دے رہے ہیں کہ حضرت جعفر طیار ؓ نے بھی نجاشی کے دربار میں تقریر ہی کی تھی جس نے اس کا دل نرم کر دیا۔ اور بھی کئی علماء کی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن کے نام معلوم نہیں۔ اب جو مذہبی حلیہ والے اس سب کے بعد بھی تنقید کر رہے ہیں وہ کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالے کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت چاند پر تھوک رہے ہیں جو ان ہی کے منہ پر لوٹ رہا ہے۔ اپنی اپنی قسمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر! اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟ علی حسنین نقوی

اپنی اپنی قسمت ہے۔ الیکشن کے وقت ہر پاکستانی شہری کے سامنے دو راستے تھے۔ دو آپشنز تھے۔ ایک یہ کہ ان ہی فرسودہ روایتی آؤٹ ڈیٹڈ سیاست دانوں کو دوبارہ منتخب کر لیا جائے جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ کچھ نیا آزمانے کا رسک لیا جائے۔ سب نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا۔ آج ایک نیا ہی نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی اپنی قسمت ہے۔ کل اوریا مقبول جان صاحب عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اک ملال کے ساتھ بولے: "ہم ساری زندگی ناموس رسالت ﷺ پر لکھتے بولتے رہے۔۔۔ اور ایک مغرب زدہ کھلاڑی ۔۔۔ بازی لے گیا۔"

سن کر بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔ ساتھ ہی ایک اطمینان کہ یا اللہ! میں نے بھی ووٹ دیا تھا عمران خان کو۔۔۔ اپنی اپنی قسمت ہے۔ فللہ الحمد۔۔۔ فللہ الحمد۔۔۔ فللہ الحمد۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عزیزان من!
آپ میرے اپنے ہیں۔ میرے عزیز ہیں۔ رشتہ دار ہیں۔ قرابت دار ہیں۔ دوست ہیں۔ کولیگ ہیں۔ مجھے آپ سے محبت ہے۔ انس ہے۔ لگاؤ ہے۔ دیگر باتوں کو ایک طرف رکھ دیجیے۔ آج فقط اس تقریر پر تو اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیے۔ اس کا ساتھ دیجیے۔ اس کے حق میں کلمہ خیر بلند کیجیے۔ کم سے کم اس کی اس تقریر میں خامیاں تو نہ تلاش کیجیے۔ کبوتر بن کے دو بوند پانی نہ ٹپکا سکیں تو گرگٹ کی طرح اس کے خلاف بھڑکی آگ کو پھونک مار کر بڑھاوا دینے کی کوشش تو نہ کیجیے۔ یہ وقت آنکھیں بند کرنے کا نہیں کھولنے کا ہے۔

دیکھیے!
تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے۔ اس وقت وہ محمد عربی ﷺ کے کیمپ میں ہے۔ ہمارا کام تھا آگاہ کرنا۔ آگے اپنی اپنی قسمت ہے۔