مصر سے مکہ اور کشمیر تک - محمد رضی الاسلام ندوی

'جیل' کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی جگہ کا تصوّر آجاتا ہے جس میں آزادیاں مسلوب ہوتی ہیں، اختیارات پر پابندی ہوتی ہے، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ہوتی ہیں، نہ بھی ہوں تب بھی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔ انسان مجبورِ محض اور لاچاری و بے بسی کی مجسّم تصویر ہوتا ہے۔

عموماً جیل کے ساتھ سزا کا تصّور وابستہ ہے۔ کسی جرم کے ارتکاب کے بعد اس کی سزا کے طور پر انسان کو داخلِ زنداں کیا جاتا ہے۔ یہ سزا پانے والے کبھی واقعی مجرم ہوتے ہیں، جیسے چور اُچکّے، زانی و بدکار ، لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کرنے والے، کبھی کم زور اور بے قصور افراد ہوتے ہیں، جو جرمِ بے گناہی میں جیل کی کال کوٹھریوں میں بند کیے جاتے ہیں، کبھی حق کی آواز بلند کرنے والے اور عدل و انصاف کا مطالبہ کرنے والے ہوتے ہیں، جنھیں پابجولاں کیا جاتا ہے اور ان کی آزادی پر پہرے بٹھائے جاتے ہیں۔ جیلوں کی چہاردیواری کے اندر سب طرح کے افراد پائے گئے ہیں۔

ایک جیل کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے۔ یہ جیل سرزمینِ مصر میں پائی جاتی تھی۔ یہ آج سے چار ہزار برس پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک نوجوان کو اس جیل میں ڈال دیا گیا۔ اصلاً اس کا کوئی قصور نہ تھا۔ وہ تو بہت صالح، ہوشیار، محنتی اور اپنے مالک کا منظورِ نظر تھا۔ ہوا یہ کہ مالک کی بیوی نے اس پر بُری نظر ڈالی اور اس کو ورغلانا چاہا، لیکن اس نے صاف منع کر دیا۔ بس اس جرمِ پارسائی کی سزا کے طور پر اسے جیل میں ڈالنے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ طاقت اور اقتدار کے مالک اس سے جو گناہ کروانا چاہتے تھے، اس کے مقابلے میں جیل کی تنگ و تاریک کوٹھری کی سزا اسے ہلکی محسوس ہوئی۔ اس نے گناہ سے اپنا دامن بچالیا اور کئی برس جیل میں کاٹ دیے۔ بعد میں حالات نے پلٹا کھایا اور جیل سے اس کے باہر آنے کے اسباب پیدا ہوگئے، لیکن اس نے جیل بھیجنے والوں سے اس کے بے قصور ہونے کا اعتراف کروائے بغیر وہاں سے نکلنا گوارا نہ کیا۔ پھر بعد میں تو قدرتِ الٰہی سے وہ مصر کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   گودار کے ماہی گیروں کا مستقبل کیا ہے - ایاز رانا

دوسری جیل کا تذکرہ سیرتِ نبوی میں ملتا ہے۔ یہ سرزمینِ عرب میں مکہ کی جیل تھی۔ اس کا زمانہ آج سے چودہ سو برس پہلے کا ہے۔ اس کا نام 'شعب ابی طالب' تھا۔کہنے کو تو اس کی چہار دیواری نہ تھی، لوہے کا بڑا اور مضبوط گیٹ نہ تھا، جس پر تالے لٹک رہے ہوں، لیکن آبادی سے ہٹی ہوئی یہ گھاٹی جیل ہی کا کام دے رہی تھی۔ جن لوگوں کو اس میں محبوس کر دیا گیا تھا وہ دانے دانے کو محتاج ہوگئے تھے۔ انھوں نے انتہائی کَس مَپُرسی کے عالم میں دو چار دن یا دو چار ماہ نہیں، بلکہ تقریباً تین برس کا طویل عرصہ کاٹا تھا۔ ان پر ایسے دن بھی گزرے کہ زندہ رہنے کے لیے انھیں درختوں کی چھال اور پتّے تک کھانے پڑے۔ لیکن انھوں نے اپنے دین اور عقیدے کا سودا نہیں کیا، بلکہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بالآخر آزمائش اور اذیّت کے بادل چَھٹے، انھیں کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا اور وہ اقتدار کے مالک بنے۔
تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں واقعات میں جن لوگوں نے طاقت اور اقتدار کے نشے میں چور ہوکر کم زوروں کو ستایا تھا، ان کی آزادی چھینی تھی اور ان پر جبر کیا تھا وہ ناکام و نامراد ہوئے اور جن لوگوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا وہ مسندِ اقتدار تک پہنچے اور اپنی مرضی کے مالک بنے۔

آج ہم اپنی آنکھوں سے ایک تیسری جیل دیکھ رہے ہیں۔ یہ کشمیر کی جنّت نظیر وادی ہے، جسے جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ جیل سابقہ دونوں جیلوں سے زیادہ کشادہ اور زیادہ بھیانک ہے۔ مصر کی جیل میں واقعی مجرموں کے ساتھ ایک بے قصور کو رکھا گیا تھا۔ مکہ کی جیل میں ایک خاندان کو محبوس کردیا گیا تھا۔ جبکہ کشمیر کی جیل میں پوری ایک قوم کو بَندی بنا کر رکھا گیا ہے۔ جیل میں آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی ہوتی ہے۔ کشمیر میں بھی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ جیل میں قیدیوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کی اجازت نہیں ہوتی۔ کشمیر میں بھی ذرائع مواصلات کاٹ دیے گئے ہیں۔ جیل میں پولیس کا پہرہ رہتا ہے۔ کشمیر میں بھی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ بڑی تعداد میں فوج لگا دی گئی ہے۔ جیل میں قیدی حکومتی کارندوں کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ وہ جن بنیادی سہولیات سے چاہیں محروم کردیں اور جن انسانی حقوق کو چاہیں چھین لیں۔ کشمیری بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ان کے انسانی حقوق دھڑلے سے پامال کیے جا رہے ہیں۔ ساٹھ روز ہونے کو ہیں، کشمیر کی جنّت نما سرزمین جہنم زار بنی ہوئی ہے۔ بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ منقطع ہے اور کچھ خبر نہیں کہ ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے اور ظلم و جبر کی یہ رات ابھی اور کتنی دراز ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

بہرحال تاریخ کا یہ فیصلہ ہے کہ انسانوں کی آزادیوں پر قدغن لگانے والے کبھی کام یاب نہیں ہوئے ہیں۔ دیر سویر ان کے جبر کی بساط لپیٹ دی گئی ہے۔ قید و بند کی مشقت جھیلنے والے طاقت و قوت کے مالک بنے ہیں اور مسندِ اقتدار تک پہنچے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر جمے رہیں اور ظالموں سے کسی مصالحت پر آمادہ نہ ہوں۔ طاقت و قوت ، عزت و سربلندی اور اقتدار کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، اس سے محروم کردیتا ہے۔ ظالموں کو یہ نوشتۂ تاریخ پڑھ لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ اس کا وقت نکل جائے اور وہ ہاتھ ملنے کے علاوہ اور کچھ نہ کرسکیں۔

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.