بچوں کی دینی و اخلا قی تربیت کی فکر کیجیے - محمد رضی الاسلام ندوی

نئی نسل جس تیزی سے دین سے دور ہو رہی ہے اور اس میں اخلاقی گراوٹ اور بے راہ روی پیدا ہو رہی ہے، اس پر اگر جلد قابو پانے کی کوشش نہیں کی گئی تو مسلم امت اس سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ وہ صرف نام کے مسلمان ہوں گے اور اسلام سے ان کا بس واجبی سا تعلق ہوگا۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ کچھ عرصے سے تعلیم کا فروغ ہوا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس جانب متوجہ ہیں۔ بڑے پیمانے پر تعلیمی ادارے قائم ہو رہے ہیں۔ ابتدائی تعلیم کو مفت بنایا جا رہا ہے۔ پرائیویٹ طور پر بھی تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے کے جی کلاس سے تعلیم کا آغاز ہوتا تھا۔ اب اس سے پہلے نرسری، پری نرسری بلکہ پِلے اسکول قائم کر دیے گئے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تعلیم سراسر سیکولر ہے۔ اس میں دینی و اخلاقی تعلیم کا کہیں گزر نہیں ہے اور اگر ہے تو بس برائے نام۔ بچہ جوں جوں تعلیم کے مدارج طے کرتا ہے، اس کے بستے کا بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے اوقات مصروف سے مصروف تر ہوتے جاتے ہیں۔ وہ پڑھائی میں تیز رہے، اس لیے والدین ٹیوشن لگانا ضروری سمجھتے ہیں۔ آگے چل کر اسکول کی تعلیم کے علاوہ کوچنگ کرنی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال میں دین کی بنیادی تعلیم کے لیے کچھ وقت فارغ کرنے کی کوشش کی جائے تو کیسے؟

پہلے بچوں کی بنیادی دینی تعلیم کا نظم گھر پر ہوجاتا تھا۔ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہوتا تھا۔ وہ جوں ہی بولنا سیکھتا تھا، اسے اللہ، رسول، کلمہ، قرآن مجید کی چھوٹی سورتیں یاد کرائی جاتی تھیں۔ گھر کے بڑے بوڑھے اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔لیکن رہن سہن اور طرز معاشرت میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلی نے یہ بساط تقریباً لپیٹ دی ہے۔ مشترکہ خاندان کا تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے۔ معاشی جدو جہد میں شوہر کا ساتھ دینا بیوی کی مجبوری بن رہی ہے۔ خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ اس بنا پر والدین اپنے بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک جملہ - جانیتا جاوید

اس صورتِ حال میں اگر مساجد کا نظام بہتر بنایا جائے تو کسی حد تک تلافی ہو سکتی ہے۔ مسجدوں کا استعمال عموماً صرف پنج وقتہ اور جمعہ کی نمازوں کے لیے ہوتا ہے، حالاں کہ انھیں پورے مسلم سماج کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کا مرکز ہونا چاہیے۔ اہل محلہ کو کوشش کرنی چاہیے کہ لازماً ہر مسجد میں صباحی(صبح کے) اور مسائی (شام کے) مکاتب قائم کریں اور ان سے محلے کے ہر بچے کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ مکاتب کا نظام چلانے کے لیے معمولی فیس رکھیں، لیکن اس کی وصولی کے لیے سختی نہ برتیں، چنانچہ جن بچوں کے گارجین فیس نہ ادا کر سکیں انھیں آنے سے نہ روکیں۔ ان مکاتب میں محلوں کے اطراف میں جھگّیوں، جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کو لانے کی کوشش کریں۔ تدریس کی خدمت مسجد کے امام اور موذن کے سپرد کی جا سکتی ہے اور اگر بچوں کی تعداد زیادہ ہو تو اضافی مدرسین بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ ان مکاتب کا ہلکا پھلکا نصاب بھی تیار کیا جائے، جن میں حروف شناسی، قاعدہ تجوید، کلمے، گنتیاں، اردو خواندگی اور چھوٹی سورتوں کے حفظ کو شامل کیا جائے۔ استنجا کرنے، وضو کرنے اور نماز پڑھنے کا طریقہ بتایا جائے۔ اچھے اخلاق کو اپنانے کی ترغیب دی جائے اور برے اخلاق کی شناعت بیان کی جائے۔ اگر ہر محلے کی مسجد میں مکتب کا نظام مستحکم ہوجائے اور بچوں کو اس سے جوڑ دیا جائے تو ان کی دینی و اخلاقی تربیت کی ضرورت اچھی طرح پوری ہو سکتی ہے۔

دوسرا کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ ہر بستی، قصبہ اور شہر کے ہر محلے میں چھوٹے بچوں کے کلب قائم کیے جائیں۔ یہ کلب صرف کھیل کود کے نہ ہوں، بلکہ ان کے تحت دینی پروگرام بھی کیے جائیں۔ ہر ہفتے کے لیے ایک دو گھنٹے کے لیے بچے جمع ہوں۔ نصف وقت پروگرام میں صرف کیا جائے، جس میں بچے قراء ت، حمد، نعت، لطیفے، چٹکلے سنائیں، تقریر کی مشق کریں، ڈرائنگ بنائیں۔ ان کے سامنے سائنسی معلومات پیش کی جائیں۔ انبیاء، صحابہ، عظیم شخصیات، مسلم سائنس دانوں کے واقعات سنائے جائیں۔ وضو اور نماز کا طریقہ سکھایا جائے اور اس کی عملی مشق کروائی جائے۔ ان کی چھوٹی سی لائبریری ہو، جس میں ان کی دل چسپی کی، قصے کہانی کی کتابیں ہوں۔ وہ کتابیں لے جائیں اور انھیں اگلے ہفتے واپس کریں۔ نصف وقت ان کے کھیل کود کے لیے خاص ہو۔ کچھ کچھ وقفہ کے بعد ان کے درمیان انعامی مقابلے کرائے جائیں۔ یہ مقابلے کھیل کود کے بھی ہوں اور دینی اور کلچرل پروگراموں کے بھی۔ اس طرح بچوں کی دل چسپی برقرار رہے گی اور وہ پورے شوق سے ان پروگراموں میں شرکت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹک ٹاک اور ہماری نوجوان نسل - سطوت اویس

موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت بچوں کے معیار، ذوق، دل چسپی اور نفسیات کے مطابق دینی لٹریچر تیار کرنا ہے۔ گزشتہ زمانوں میں ادبِ اطفال پر خاصا کام ہوا ہے، لیکن آج کل اس نے اپنی معنویت کھو دی ہے۔ اس لیے کہ اس کا اندازِ پیش کش روایتی اور فرسودہ ہے۔ آج کل کے بچے رنگین اور باتصویر کتابیں پسند کرتے ہیں۔ وہ کامکس بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ادبِ اطفال کے قدیم لٹریچر کو نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے اور نئی کتابیں بھی تیار کی جائیں۔

ملک کے مروجہ تعلیمی نظام میں مسلم بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا معقول نظم نہیں ہے۔ اس کے لیے ملت کے باشعور اور سنجیدہ سر بر آوردہ طبقہ کو فکر کرنی ہوگی اور اس کا کوئی نظام قائم کرنا ہوگا۔ ضرورت ہے کہ اس معاملے میں دینی تنظیمیں اور جماعتیں آگے آئیں، وہ بچوں کے حلقے قائم کریں اور ان سے آبادی کے مسلم بچوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں کوتاہی بڑا دینی خسارہ ہوگا، جس کی تلافی کسی بھی صورت سے ممکن نہ ہوگی۔

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.