مسلمانوں کی موجودہ صورتحال اور اسکا علاج - عطاء الرحمن بلھروی

دور جدید میں مسلمانوں کے حالات نہایت سنگین ہیں چہار جانب خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ہمارے اس ملک ہندوستان میں اسپین کی تاریخ میں جو کچھ ہوا اسکو دہرانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر مسلمانوں کو ابھی تک حالات کی سنگینی کا شعور نہی ہے اور وہ بے حسی اور بے شعوری کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں .

واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو مختلف عنوانات اور مختلف بہانوں سے مصائب میں مبتلا کیا جا رہا ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے پیچیدہ بنایا جارہا ہے وہ جہاں اکثریت میں ہیں وہاں کی حکومتوں کو ان کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے ۔ کبھی دہشت گرد ۔ کبھی انتہاء پسند کبھی شدت پسند ثابت کیا جارہا ہے اور کبھی انسانی آبادی کے لیے ایک شدید خطرہ بتایا جارہا ہے تاکہ وہ اصلاحی اور تربیتی کوششوں کو طاقت کا استعمال کرکے روکیں۔ جس کی وجہ سے نہ کوئی مدرسہ محفوظ ہے نہ مسجد ۔ نہ کارخانہ۔ نہ تجارت ۔ ہر جگہ اسلام کی بیخ کنی کی تدبیریں کی جارہی ہیں ارباب سیاست اور اہل قلم جو جو اپنے آپ کو انسانیت کا علمبردار قرار دیتے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کرنے میں مصروف ہیں اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں اور عوام و خواص کو اسلامی ذہن سے خوفزدہ کرتے ہیں ہیں جسکی وجہ سےحالات خطرناک ہورہے ہیں . ان حالات میں گھبرانے اور مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ مایوس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تبارک و تعالی کہ ذات کامل کے یقین سے محروم ہیں کیونکہ اللہ کے لئے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے ۔ حالات کو موافق بنانے اور فضا کو ہموار کرنے میں اسے تو بس ایک حرف کن کی ضرورت ہے۔

وہ تو بے نیاز بادشاہ ہے۔اسکی ملکیت اور خدائی میں کوئی شریک نہیں وہ خودمختار و قادر مطلق ہے . اسلئے ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرنا چاہیے کہ آج ہماری یہ حالت کیوں ہوگئی ہے کہ ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہییں ایسے نازک صورتحال میں ہمیں گھبرانے اور مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں بلکہ ان اسباب کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جسکی وجہ سے آج ہم ذلت و رسوائی کا شکار ہیں اور اپنا احتساب کریں اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس کو بروقت درست کرنے کی کوشش کریں اور یہ یقین کریں اسلام اور مسلمان ہی غالب ہو کر رہیں گے . مغرب نے اسلام کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اسلام کا سدا بہار درخت آج بھی وہی برگ و بار لانے کی صلاحیت رکھتا ہے ہزار اسکو قیود کے شکنجوں میں جکڑا جائے لیکن اس کی جو ابھرنے کی فطرت ہے اس کا ظہور ہو کر رہے گا۔ اور ظاہر ہیکہ ظلم کی ناؤ سدا نہی چلتی اور نہ اسکا درخت پنپتا ہے بلکہ ظلم کا انجام برابر اسکا منھ کالا ہونا ہے . *تاریخ شاہد ہیکہ اسلام نہایت ہی ناسازگار اور ہمت شکن حالات میں پھلا پھولا اور عنقریب حق کی آواز دنیا کے ہر کونے میں بلند ہو کر رہے گی مدت خواہ کتنی ہی دراز ہو لیکن پوری دنیا میں حق بلند ہو کر رہےگا اور طاقت بن کر ابھرے گا اس لیے کہ مظلوم ہمیشہ مظلوم نہیں رہتا*

یہ بھی پڑھیں:   سوئے رہنا، کچھ نہ کہنا - سارہ رحیم

آج کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنا رشتہ قرآن و سنت سے مضبوط کریں ہم مومن بن جائیں اور استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہیں۔ باطل سے نہ تو مرعوب ہوں اور نہ خائف. دین اسلام کی عملی تصویر پیش کریں۔ اپنے معاملات اور اخلاق درست کرنے کے ساتھ اسلام کی زندگی کا عملی نمونہ بن کر اسلام کے متعلق پہلی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں۔ جھگڑے اور فساد سے اجتناب کرتے ہوئے اخوت و محبت اور بھائی چارگی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور انسانیت و محبت کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں۔ باہمی اختلافات اور مسلکی جھگڑوں کو ترک کرکے آپسی اتحاد و اتفاق اور اسلامی اخوت کا مظاہرہ کریں ذاتی مفاد کو ملت کے مفاد پر ترجیح نہ دیں اپنے مزاج کو بغض و حسد اور کینہ سے پاک کریں اور توحید خالص کے ساتھ زندگی بسر کریں .
ملک کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرشدالامت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر و ناظم ندوۃ العلماء لکھنو حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رقمطراز ہیں ہمیں اس ملک میں اس راہ کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے متعلق جو غلط فہمی ہے وہ دور ہو۔ اور اسلام کو امن و سلامتی کا دین سمجھا جائے۔ اور ایسا انسانی معاشرہ بنایا جائے جس میں سب کو امن وچین حاصل ہو اور مسلمان انسانیت نواز اور امن و سلامتی کا رہبر سمجھے جائیں۔ اس کیلئے اصلا تین محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک تو یہ کہ مسلمان اپنےحالات و سیرت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی طرف توجہ دیں۔دوسرے یہ کہ ان کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں۔ان کو دور کرنے کے متعلق تدابیر اختیار کریں۔اور تیسرے میڈیا کے ذریعہ جس کو دنیا انسانیت کی تخریب کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ہم اسکو انسانیت اور انسان کے اخلاق سیرت کی بلندی تک لے جانے کے لیے استعمال کریں یہ تینوں ذرائع اگر ہم استعمال میں لائیں گے تو اس سے ہمارے متعلق دوسروں کی بد گمانی خوش گمانی سے بدل جائے گی اور ہم امن و سلامتی اور سربلندی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے . آج اولین ضرورت ہے مسلمان ان خصائص سے آراستہ ہوں اور دین اسلام کی مکمل تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ کی نصرت اسی صورت میں ساتھ ہوگی جب اللہ کی نصرت کی جائے گی یہی مفہوم ہے اس آیت کا۔ ان تنصر الله ينصر كم ويثبت أقدامكم . اور دوسری جگہ کا ارشاد ہیکہ وہ لوگ جنہوں نے ہمارے راستےمیں کوششیں کیں ہم ان کو ضرور ہدایت دیں گے اور بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے . آج کھویا ہوا مقام دوبارہ مل سکتا ہے بشرطیکہ ہم اپنے اعمال درست کرلیں! دین و شریعت کا پابند بننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔