تقریر کے بعد! خورشید ندیم

عوامی ذوق کے بر خلاف کچھ کہنا آسان نہیں۔ یہ خود کو مصلوب ہونے کے لیے پیش کرنا ہے۔ اس کا مگر کیا کیا جائے کہ اخبارات میں خامہ فرسائی کرنے والوں میں، قسامِ ازل نے اِسے میرا مقسوم بنایا ہے۔ آئے دن خود کو گالم گلوچ کے لیے پیش کرنا مشکل کام ہے۔ میں نے اب اسے مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔
موسم آیا تو نخلِ دار پہ میر
سرِ منصور ہی کا بار آیا
مولانا وحیدالدین خان، اپنی کتاب 'تعبیر کی غلطی‘ لکھتے وقت جس کیفیت سے گزرے، کم و بیش ہر کالم لکھتے ہوئے میں اسی کیفیت سے گزرتا ہوں۔ 'تعبیر کی غلطی‘ کے پہلے صفحے پر لکھا ہے: ''اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر کتنی سخت ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد، میں کسی ایسی جگہ جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے، اور پھر اسی حال میں مر جاؤں‘‘۔

لکھنے والا اپنے فہم اور ضمیر کا پابند ہے۔ اگر وہ اس پابندی سے آزاد ہو جائے تو رائے باقی رہتی ہے نہ دیانتِ فکر۔ غلط صحیح کا فیصلہ پڑھنے والے اپنے فہم اور ضمیر کے مطابق کرتے ہیں۔ محرر کو اپنی اور اپنے خدا کی عدالت میں سرخرو ہونا چاہیے۔ عوامی عدالت کے فیصلے عوام جانیں اور ان کا پروردگار۔ اسی احساس کے ساتھ، میں نے عمران خان صاحب کی تقریر کو موضوع بنایا اور آج مزید لکھے کا ارادہ رکھتا ہوں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا استقبال کن الفاظ کے ساتھ ہو گا۔
خان صاحب کی تقریر اور اس پر ردِ عمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی اندازِ نظر (mindset) جس نہج پر استوار ہے، اس میں سرِ دست تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ ان کی فکری اور سیاسی قیادت نے سوچ کا جو رخ بیسویں صدی کے اوائل میں متعین کیا تھا، اہلِ اسلام آج بھی اسی رخ پر گامزن ہیں۔ سر سید احمد خان نے بہت کوشش کی کہ یہ رخ بدل جائے مگر ان کی زندگی میں ان کی قدر شناسی نہیں ہو سکی۔ مرنے کے بعد کسی حد تک 'حیثیت عرفی‘ کا ازالہ ہوا لیکن اس کے باوجود، مسلم سماج ان کی سوچ سے فی الجملہ کوئی فکری مناسبت پیدا نہیں کر سکا۔

مسلمان جب دنیاوی اقتدار سے محروم اور زوال کا شکار ہوئے تو ان میں کچھ ایسے مفکرین اور سیاسی راہنما پیدا ہوئے جنہوں نے یہ چاہا کہ مسلمان اس ذلت سے نکلیں اور ان کی عظمتِ رفتہ بحال ہو۔ ان کی تشخیص یہ تھی کہ اہلِ اسلام کی اس زبوں حالی کے اسباب خارج میں ہیں۔ یہ اغیار کی سازشیں تھیں جنہوں نے مسلمانوں کو اقتدار اور سطوت سے محروم کیا۔ اگر لارنس آف عریبیہ نہ ہوتا تو خلافتِ عثمانیہ زوال سے ہم کنار نہ ہوتی۔ یہ دراصل غیر مسلم طاقتوں کا کیا دھرا ہے کہ مسلمان محروم اور پسماندہ ہیں۔
اس کا حل یہ تلاش کیا گیا کہ مسلمان ان قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، جو ان کے خیال میں اس زوال کی ذمہ دار ہیں۔ جب کسی نے مسلم سماج کے علمی اور سائنسی انحطاط کی طرف توجہ دلائی تو اسے سیاسی قوت کے چھن جانے کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کا، ان کے نزدیک ایک ہی حل تھا کہ ایسی قوتوں کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا جائے۔ محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کو آئیڈلائز کیا گیا۔ نسیم حجازی کے ناولوں میں متشکل ہونے والا ہیرو وہی تھا جس کے خد و خال مسلمانوں کے فکری اور سیاسی راہنماؤں نے تراشے تھے۔

یہ تجزیہ جزوی طور پر درست تھا۔ زوال کے اصل اسباب خارج میں نہیں، داخل میں تھے۔ مسلمانوں کا سیاسی انحطاط داخلی کمزوریوں کا منطقی نتیجہ تھا۔ ان کا علمی اور سائنسی زوال اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ سیاسی اقتدار سے محروم تھے بلکہ سیاسی اقتدار سے محرومی، ان کے علمی زوال کا فطری نتیجہ تھی۔ جو قوم علم، دریافت اور جستجو کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہے، سیاسی اقتدار اس کے ہاتھ سے چھن جاتا ہے۔
مسلم مفکرین اس بات کو بھی سمجھ نہیں سکے کہ اس دور کا ہیرو شمشیر بدست گھڑ سوار نہیں ہو سکتا۔ اب انسانی طاقت کا مرکز اس کا جسم نہیں، اس کا دماغ ہے۔ طاقت کا مرکز بدلنے سے میدانِ جنگ بھی بدل گیا ہے۔ اس میدان میں ان ہتھیاروں کا استعمال کارآمد نہیں جو مثال کے طور میں صلاح الدین ایوبی کے دور میں مستعمل تھے۔ ہم ایوبی سے حوصلہ تو لے سکتے ہیں، اس کے ہتھیاروں سے لڑ نہیں سکتے۔
بیسیویں صدی میں مسلم ممالک کو جغرافیائی طور پر آزادی مل گئی لیکن ان کے دماغ اور دل آزاد نہیں ہو سکے۔ زندگی کے ہر میدان میں ان کا انحصار انہی قوتوں پر رہا جو نوآبادیاتی دور میں ان کی حاکم تھیں۔ یہ انحصار مادی بھی تھا اور ذہنی و علمی بھی۔ علم، دریافت اور جستجو کے ہمارے سوتے جیسے خشک ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج علوم سے لے کر ٹیکنالوجی تک، دریوزہ گری ہماری پہچان ہے۔

مسلمانوں کو ایسی علمی اور سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو انہیں تجزیے کی اس غلطی سے نکال سکے۔ جو انہیں بتائے کہ ہماری پستی اور زوال کے اسباب خارج میں نہیں، داخل میں ہیں۔ اگر ہم کشکول بدست آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑے ہوں اور ساتھ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کو للکاریں تو پھر دنیا ہماری بات نہیں سنے گی۔ اگر مقدمہ بھی درست نہ ہو تو جنگ ہنسائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
یہ اسلاموفوبیا ہو یا حجاب کا مسئلہ، مسلمان قیادت نے کبھی اس کا سنجیدہ تجزیہ نہیں کیا۔ چند سوال اس باب میں بہت اہم ہیں۔ جیسے
٭ اسلاموفوبیا 9/11 کے بعد ہی کیوں ایک وبائی مرض بنا؟
٭ مدتوں سے مسلمان عورتیں مغرب میں حجاب کرتی آئی ہیں۔ یہ مسئلہ اب کیوں پیدا ہوا؟
٭ اقلیتوں کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ کیا ہے؟ ہم مغربی ممالک میں اپنے لیے جو مذہبی آزادی چاہتے ہیں، کیا اپنے ہاں دوسروں کو دینے کے لیے تیار ہیں؟ ہم بڑے شوق سے بتاتے ہیں کہ دنیا میں لوگ تیزی کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں۔

کیا ہم اپنے ہاں بھی تبدیلیٔ مذہب کا حق دینے پر آمادہ ہیں؟
٭ کیا ریڈیکل اسلام ایک حقیقت نہیں؟
٭ اگر اسلام ایک ہی ہے تو وہ کون سا ہے؟ ریڈیکل اسلام کے نام پر جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، اگر اسلام نہیں تو اس سے اعلانِ برات کب کیا گیا؟
٭ مسلم معاشروں میں انسانی آزادی کی صورتِ حال کیسی ہے؟ جمہوری اقدار کی کتنی پاس داری کی جا رہی ہے؟ جس فاشزم کا الزام ہم دوسروں پر لگا رہے ہیں، داخلی سطح پر مسلم قیادت کا رویہ اس سے کیسے مختلف ہے؟
٭ مسلم دنیا کے تعلیمی اداروں کا ماحول تحقیق و جستجو کے لیے کتنا سازگار ہے؟
٭ مسلم قیادت نے کب ان امور پر مغرب سے سنجیدہ مکالمہ کیا؟
جب یہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو ہر بات کا الزام اپنوںکو دیتے ہیں۔ یہ معذرت خواہانہ رویہ ہے۔ ایسے معترضین کو میرا مشورہ ہے کہ وہ قرآن مجید کا اس پہلو سے مطالعہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کسی ناکامی پر مسلمانوں کو کیسے ان کی داخلی خرابیوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ اس کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہراتے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے زوال کا سبب ان کی اپنی خامیوں کو قرار دیا ہے، جو بنی اسماعیل سے پہلے امامت کے منصب پر فائز کیے گئے۔ قرآن مجید میں صرف احد ہی کے واقعات پر تبصرہ پڑھ لیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے منہجِ اصلاح کو سمجھا جا سکتا ہے۔
عمران خان کی تقریر کے بعد ایک بار پھر یہی فضا ہے۔ ان کی تنقید کا رخ خارج کی طرف تھا۔ سب کو یہی لگا کہ ان کے دل کی بات کہی گئی ہے۔ ان کے بد ترین ناقد بھی اش اش کر رہے ہیں۔ مسلم اندازِ نظر میں کسی تبدیلی کے آثار نہیں۔ میرے لیے یہی بات تشویش کا باعث ہے۔ اس کی تصدیق ایک بار اس ردِ عمل سے ہو جائے گی جو اس کالم پر ملے گا۔ یہ جانتے ہوئے اگر یہ کالم لکھا ہے تو اسے اپنا مقسوم سمجھ کر۔ ہر کسی کو اپنے حصے کا کام کر نا ہے۔ کسی نے گالی دینی ہے اور کسی نے گالی کھانی ہے!