ٹیکس دیجیے لیکن ٹھہریے، پہلے رشوت دیجیے - آصف محمود

کیا آپ کو معلوم ہے اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر میں کیا ہو رہا ہے؟

گاڑی بیچنے والے بھی پروفیسر ڈاکٹرتھے، سابق نیوکلیئر سائنسدان اور گاڑی خریدنے والے بھی پروفیسر۔ میں نے دونوں سے عرض کی کہ کسی ایجنٹ کو پیسے دیتے ہیں، وہ ٹوکن بھی جمع کرا دے گا اور گاڑی بھی آپ کے نام ٹرانسفر ہو جائے گی۔ دونوں نے کہا نہیں، عمران خان اتنی محنت کر رہا ہے تو ہمیں بھی رشوت نہیں دینی چاہیے، اور ذمہ دار شہری کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور دفتر جا کر سارا کام کروانا چاہیے۔

لیجیے صاحب میں بھی خاموشی سے ان کے ساتھ ہو لیا۔

دفتر میں داخل ہوئے تو چار سو طویل قطاریں، شدید گرمی، سائے کا کوئی انتظام نہ پنکھے کا کوئی معقول انتظام۔ پانی تھا مگر گرم۔ یہ ٹیکس چور نہیں تھے بلکہ یہ وہ لوگ ذلیل ہو رہے تھے جو ٹیکس دینے آئے تھے۔

اب دونوں کے چکر شروع ہو گئے، ایک کمرے ، وہاں سے دوسرے کمرے، وہاں سے تیسرے کمرے، وہاں سے چوتھے کمرے، چوتھے سے پھر پہلے کمرے، پہلے سے پھر چوتھے کمرے۔ نصف گھنٹے کی اس مشق میں کام وہیں کا وہیں تھا۔

ایک کمرہ تھا جہاں بائیو میٹرک ہوتی تھی۔ ایک بزرگ تشریف فرما تھے، موبائل سے کھیل رہے تھے۔ کہا بائیو میٹرک کرانی ہے۔ فرمانے لگے یہاں سے نہیں ہوتی۔ باہر سے ہوتی ہے کروا کے لائیے۔ جب وہ سفید ریش پر ہاتھ پھیر کر یہ فرما رہے تھے تو مشین ان کے سامنے رکھی تھی۔

پھر ایک اور کمرے میں پہنچے۔ طویل انتظار کے بعد ایک فارم تھما دیا گیا۔ فارم فل کر کے ایک اور کمرے میں پہنچے تو معلوم ہوا ایک فارم اور بھی تھا۔ پہیہ پھر سے ایجاد کیا گیا۔ پھر وہاں پہنچے تو سوال ہوا ٹرانسفر فارم تو لگایا ہی نہیں وہ لگوا کر لائیے۔ پروفیسرصاحب نے کہا آپ پہلے بتا دیتے۔ کوئی جواب نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے - غریدہ فاروقی

پروفیسر صاحب فرمانے لگے اب بائیو میٹرک بھی تو باہر سے کروانی ہے تو کل آ جاتے ہیں۔ وہاں سے نکلے تو پروفیسر صاحب موبائل پر اسلام آباد کیپیٹل ایڈمنسٹریشن کا پیج کھول کر بیٹھ گئے۔ چیف کمشنر صاحب کے پیج پر شکایات کا پورٹل تھا۔ وہان انہوں نے شکایت بھیجی اسی وقت آتو ریپلائی آ گیا وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کیجیے۔ پروفیسر صاحب کہنے لگے اگر شکایت وہاں کرنی ہے تو یہاں یہ آپشن دیا ہی کیوں تھا۔ میں نے کہا سر مجھے کیا معلوم۔

شکایت کے لیے ایک واٹس ایپ نمبر بھی درج تھا۔ انہوں نے نے کہا یہاں میسج کرتے ہیں۔ معلوم ہوا وہ نمبر واٹس ایپ پر رجسٹر ہی نہیں تھا۔ شکایت کے لیے ایک فون نمبر بھی تھا بہت کالز کیں مگر کسی نے نہیں اٹھائی۔

میں نے سر اب مجھے اجازت دیں میں آپ کو یہ کام کروا دوں۔ انہوں نے اجازت دے دی۔

میں نے ایک صاحب کو فون کیا۔ انہوں نے کہا ادھر ہی رکیے میں آ رہا ہوں۔ بائیو میٹرک بھی اسی بزرگ سے ہو گئی۔ فارم بھی سارے ایک کمرے سے مل گئے۔ لائن میں بھی نہیں رکنا پڑا۔ اور کام بھی ہو گیا ۔

نتیجہ: صرف ٹیکس دینے آئیں گے تو ذلیل ہوں گے۔ ٹیکس دینے جائیں تو تگڑی سی سفارش آپ کے ساتھ ہو ورنہ پھر یا تو ذلیل ہوں یا ایجنٹ کے ذریعے بابو لوگ کو رشوت دے کر کام کروائیں۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والوں کا انتظام تو واضح ہے۔ سو اے عزیز ہم وطنو! اسلام آباد میں ٹیکس ضرور دیجیے مگر پہلے رشوت دیجیے۔ چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے فیس بک اور ٹویٹر پر دیے گئے بھاشنوں سے زیادہ متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.